حکومت مزید مشکل فیصلے کرے گی: وزیر خزانہ

  • منگل 16 / اگست / 2022

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی بلکہ یہ کہا تھا کہ مزید ٹیکس اور لیوی عائد نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے ریونیو اور فنانس ڈویژن کی ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور اس کی اسٹیٹ بینک سے بھی ایک ملاقات ہو چکی ہے جس کے بعد قرض دہندہ ادارے کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور امید ہے کہ اگست میں ہی بورڈ اجلاس ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جو ڈالر 17 جولائی سے ہمارے کنٹرول سے نکل گیا تھا اور انٹربینک میں 239 روپے تک پہنچ گیا تھا اب اس پر ہم نے قابو پالیا ہے اور یکم اگست سے 15 اگست تک دنیا کی بہترین کرنسی پاکستانی روپیہ تھا اور دنیا کی تیز چلنے والی اسٹاک مارکیٹ بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج تھی۔

جولائی میں جب کرنسی گر رہی تھی میں اس وقت بھی گزارش کرتا تھا کہ درآمداد روکنے دیں اور اگر میں درآمدات کو برآمدات اور ترسیلات کے برابر لے آؤں گا تو خود ہی روپیہ مضبوط ہونا شروع ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر آپ 80 ارب ڈالر کی درآمدات اور 31 اعشاریہ 7 ارب ڈالر کی برآمدات کرتے ہیں جس کے تحت آپ 48 اعشاریہ 3 ارب ڈالر کا خسارہ کرتے ہیں یعنی دنیا کی چیزیں 80 ارب ڈالر کی خریدنی ہیں لیکن آپ کے پاس دنیا کو بیچنے کے لیے 31 اعشاریہ 7 ارب ڈالر کی چیزیں ہیں تو 48 ارب ڈالرز کہیں سے بھی چاہئیں۔ بیرون ممالک میں کام کرنے والے ہماری پاکستانی 30 ارب ڈالرز اپنے اہل خانہ کو بھیجتے ہیں جس کے بدلے میں ہم انہیں مقامی کرنسی دیتے ہیں۔

پھر بھی 20 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے تو ساڑھے 17 ارب ڈالرز کا گزشتہ سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا اور تحریک انصاف جب حکومت میں تھی تو وہ لوگ صرف ایک ہی بات کرتے تھے کہ معیشت کی گردش صرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے جبکہ وہ ترقی کو نہیں دیکھتے تھے، ہم نے جو انفرااسٹرکچر میں بہتری لائی، 12 ہزار میگاواٹ بجلی لگائی، 17 سو کلومیٹر موٹروے بنائے ان میں سے کچھ بھی ان کو نظر نہیں آتا تھا اور صرف کہتے تھے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیادہ ہے اس لیے معیشت کی رفتار ٹھیک نہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان بات کرتا ہے حقیقی آزادی کی تو جب آپ کے پاس 48 ارب ڈالرز نہیں ہوں گے اور وہ قرض دیگر ممالک سے مانگنے ہوں گے تو یہ کونسی حقیقی آزادی ہوئی۔ جب تم 17 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کرو گے اور دنیا میں کوئی بھی آپ کو پیسے دینے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ کونسی حقیقی آزادی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ قرض پر قرض لینا صرف تحریک انصاف کا کام نہیں بلکہ پچھلی حکومتوں نے بھی ایسا کیا ہے کیونکہ پرویز مشرف 2007 میں سب سے زیادہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑ کر گئے تھے مگر جب شہباز شریف آئے تو ہم نے کہا کہ ہم روپے کو مضبوط کریں گے مگر سب سے پہلے ہمیں درآمدات کو کم کرنا ہے۔ اسی طرح ہم نے پہلے چھوٹی اور غیر ضروری اشیا پر پابندی عائد کی جن میں اسمگلنگ بھی ہوتی ہے جن پر چیخیں بھی اٹھیں کہ ہمارے چاکلیٹ اور جوتے روک دیے، مگر پھر بھی ہم نے پابندی عائد کی اس کے بعد ہم نے گاڑیوں، ایئرکنڈیشنز اور فرجز پر بھی پابندی لگائی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ اچھے لوگ ہیں جو ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر ان کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ مگر جب کوئی فیکٹری درآمدات کرتی ہے تو ہم اس سے پورا ٹیکس لیتے ہیں جس کی وجہ سے معیشت میں کچھ نقصان ہوا کیونکہ وہ لوگ پھر اپنی اشیا و خام مال مقامی سطح پر فروخت کرتے ہیں، کوئی بھی برآمدات نہیں کرتا

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم ایسا بھی ٹیکس لائیں گے کہ جس میں آپ 10 فیصد بھی برآمدات نہیں کریں گے تو ہم اس میں سے تھوڑا زیادہ ٹیکس لیں گے، ہم نے جو کرنا تھا ہم نے کر لیا اور کل تک ملک میں بینکنگ سسٹم سے 3 اعشاریہ 4 ارب ڈالرز گئے تھے اور 4.1 ارب ڈالر آئے تھے۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ میں پاکستانی عوام کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ اوگرا ہر پندرہ دن بعد ایک قیمت کا تعین کرتی ہے اور یہ سسٹم چلتا آرہا ہے۔ جب سے ہم آئے ہیں ہم نے ملک کے تمام پرانے مسائل بھی حل کیے ہیں اور درآمدات پر قابو پایا ہے جس سے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مزید مشکل فیصلے کرے گی اور میں حکومت کے تمام مشکل فیصلوں کے پیچھے کھڑا ہوں۔ ڈالر نیچے آرہا ہے اور اب پاکستان میں بہتری آرہی ہے جبکہ ہمارا اگلا ہدف مہنگائی پر کنٹرول کرنا ہے جس میں پیٹرول اور ڈیزل کا بڑا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دوست پوچھتے ہیں کہ جب ڈالر نیچے جارہا ہے تو پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے، مگر میں کہتا ہوں کہ جب دو ہفتے قبل ڈالر 236 پر پہنچ گیا تھا تو ہم نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے کمی کی تھی جس پر ہم سے کسی نے نہیں پوچھا، جبکہ ہم پیٹرول کو زیادہ سے زیادہ 248 روپے فی لیٹر تک لے گئے جس کے بعد قیمت میں کمی کرتے گئے۔