ممنوعہ فنڈنگ کیس:ایف آئی اے کا تحقیقات بیرون ملک بڑھانے کا فیصلہ

  • بدھ 17 / اگست / 2022

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کا دائرہ کار بیرون ممالک تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف آئی اے نے امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک  سے پی ٹی آئی کو ہونے والی فنڈنگ کے بارے میں  متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے بھی وہاں کی کمپنیز و شخصیات کے  بارے میں  معلومات جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینئر آفیسر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ امریکی ایف بی آئی سمیت برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور دیگر ممالک کے ایسے اداروں سے مدد کے لیے رجوع کیا  جارہا ہے۔ تحقیقات ابھی ریکارڈ اور اکاؤنٹس اکھٹے کرکے معلومات کو یکجا کرنے کے مرحلے میں ہیں جنہیں یکسو کرکے آگئے بڑھایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 12 اگست کو ایف آئی اے اسلام آباد زون کی انکوائری ٹیم کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل اسد عمر کو  خط ارسال کیا گیا تھا جس میں عمران خان سے 1996 سے لے کر ابتک تمام ملکی وغیرملکی ریکارڈ طلب کیاگیا ہے۔ خط میں کہاگیا ہے کہ 1996 سے پی ٹی آئی کی نیشنل اورانٹرنیشنل کمپنیوں ، تنظیموں ،  رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ ٹرسٹ کے حوالے معلومات فراہم کی جائیں۔

اب تک کی سالانہ مالیاتی اکاؤنٹس کی سٹیمنس، پی ٹی آئی کے فارن کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات، پی ٹی آئی کی پارٹی ممبرشپ فیس کے حوالے اکٹھی کی گئی رقم کی بھی تفصیل مانگی گئی ہے۔ خط میں پارٹی کے نیشنل اورانٹرنیشنل ڈونرز کی فہرست ، پی ٹی آئی اوراس سے متعلقہ کمپنیز کی 1996 سے لے کر 2022 تک کے اثاثوں کی سالانہ سٹیٹمنٹس، پارٹی کو فنڈنگ کرنے والی انٹرنیشنل کمپنیز اورکاروبار جنہوں نے پارٹی کے لئے فنڈنگ کی، کا ملکوں کی سطح پر ڈیٹا بھی طلب کیاگیاہے۔

اس دوران تحریک انصاف کے خلا ف فارن فنڈنگ کا معاملہ سامنے لانے والے پی ٹی آئی کے بانی اکبر ایس بابر نے  اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی اپیل میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکبر ایس بابر نے اپیل میں فریق بننے کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جوکہ کل پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کرے گا۔

ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے لیکن اس میں فریق نہیں بنایا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں جہاں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے اس میں ہم فریق بنیں، بارہا کوشش کی گئی کہ ہمیں نکالا جائے۔