حب الوطنی کا پچھتر سالہ تقاضا؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 17 / اگست / 2022
ان دنوں ہم اس مملکت خدا داد پاکستان میں اپنی آزادی کا پچھتر سالہ جشن منا رہے ہیں۔ یہ گاتے ہوئے کہ اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان، ہندو اور برٹش سے تو نے ہمیں اس طرح آزادی لے کر دی کہ دنیا ہوئی حیران۔
سچ تو یہ ہے کہ دنیا آج بھی حیران و پریشان ہے کہ پون صدی گزرنے کے باوجود آج کا ہمارا جناح ثانی’’غلامی نہیں آزادی ‘‘ کا نعرہ لے کر اٹھا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ پورے پچھتر برس گزارنے کے باوجود ہمیں حقیقی آزادی آج تک نصیب نہیں ہو سکی ہے۔ بیرونی طور پر ہم امریکا کے غلام ہیں تو اندرونی طور پر نیوٹرلز کے۔ وہ بڑے بڑے عوامی جلسوں میں یہ نعرے لگواتا پایا جاتا ہے کہ اے میرے پاکستانیو! اب غلامی کی زنجیریں توڑ دو، میں دوبارہ آ گیا ہوں تمہاری قیادت کرنے ۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارے سابق کرکٹر کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے۔ وہ اگرچہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کیلئے اس نوع کی نعرے بازی کر رہا ہے لیکن سوچنے کیلئے یہ پوائنٹ اچھا ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد قوم ہیں ؟ کیا ہمارے عوام آزاد ہیں ؟ کیا یہاں آج بھی جس کے ہاتھ میں لٹھ ہے بھینس اسی کی نہیں ہے ؟
وہ خود یہ کہہ رہا ہے کہ یہاں طاقتوروں کی مرضی کے بغیر کوئی سیاسی پتہ نہیں ہلتا ہے جب تک وہ حکومت میں رہا انہی بیساکھیوں کے سہارے چلتا رہا۔ جب ان کو ناراض کر بیٹھا انہوں نے پلک جھپکتے ہی میری حکومت کا دھڑن تختہ کر ڈالا ۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی ۔ اگر آپ اتنے ہی سچے ہیں تو آپ کسی کی کٹھ پتلی بنے ہی کیوں تھے ؟ جب اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا تھا تب بابا فرید ؒ سرکار کے دربار کی طرح ان کا درباری بن کر ان کی چوکٹھ پر سجدہ ریزی جائز تھی اور اب جب انہوں نے نگاہیں پھیری ہیں تو یہ سب عبادات آپ کی نظروں میں شرک قرار پائی ہیں ؟ آپ طاقتوروں پر تنقید ضرور کریں مگر شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور ، ہر چیز کی کچھ حدود وقیود ہوتی ہیں آپ کے ایما و بیانیے پر آپ کا ایک ملازم آپ کی خوشنودی کیلئے ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے اتنی دور تو نہ نکل جائے جو طاقتور ادارے میں ماتحتوں کو اپنے افسران بالا کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے زمرے میں پہنچ جائے ۔
ہمارے محبان اکثر اس نوع کی تکرار کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہمیں کچرے یا روڑی کے ڈھیر پر بھی کچھ ہری ٹہنیاں لگا کر پھول اور پودے دکھانے چاہئیں۔ حب الوطنی کا یہی تقاضا ہے کہ اپنے ملک کی گندگی کو بھی خوشنما بنا کر پیش کیا جائے اس کے منفی پہلوؤں کو بھی مثبت لبادوں میں لپیٹ دیا جائے، پوچھا جائے کہ اس کا فائدہ کیا ہو گا؟ تو جواب ملتا ہے کہ دنیا ہمارے ملک کو اچھا سمجھے گی ہماری عزت کرے گی پنجابی محاورہ ہے: ’’مرے بابے کے منہ پر مکھن لگانا‘‘ تاکہ دیکھنے والے شریک یہ سمجھیں کہ بابا جی نظرانداز ہوئے ہیں نہ بھوک کے ہاتھوں رل کر مرے ہیں بلکہ مکھن کھاتے کھاتے ملک عدم سدھارے ہیں ۔ اسی مبارک سوچ کے زیر اثر درویش آج یہ تحریر کرنے پر مجبور ہے کہ اس عظیم مملکت پاکستان کا پچھتر سالوں پر محیط سفر ہمالہ کے برابر بلندیوں تک پہنچا ہوا ہے۔ ہمارا یہ سفر جب شروع ہوا تو ہمارے پاس کاغذوں کو باندھنے کیلئے سوئی تک نہ تھی ہم نے کانٹوں سے یہ کام لیا اور آج الحمدللہ ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہیں۔ ہمارے شامی صاحب فرماتے ہیں کہ شروع میں ہم مرچوں کے ساتھ خشک روٹی کھاتے تھے، اب ہم گائے اور بکرے کا گوشت بھون کر پراٹھوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ ترقی تو ہم نے بہت کی ہے کرکٹ کا ورلڈ کپ ہم نے جیتا اور جس ٹیم کے ذریعے جیتا اس کے کپتان کو ہم نے ملک کا وزیر اعظم بنا دی۔ا کتنے فراخدل لوگ ہیں ہم، جو ہمارے ملک میں آکر ہمارے بچوں کو مار جاتے ہیں ہم ان دشمنوں کے بچوں کو پڑھانے کے ترانے گاتے ہیں ۔
ہمارے موجودہ وزیر اعظم فرما رہے ہیں کہ ہم بہت محنتی لوگ ہیں۔ میں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترک دوستوں سے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اے میرے بھائیو! ہم بھکاری نہیں ہیں ہم آپ کے پاس بھیک مانگنے نہیں آتے ہیں، براہ کرم ہمیں اس نظر سے مت دیکھا کریں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہمارے حالات ذرا خراب ہیں ہماری معیشت اتنی اچھی نہیں رہی ہے۔ اس لئے ہم آپ کا صرف تعاون چاہتے ہیں تھوڑا قرضہ دے دیں ہم محنت مزدوری کرکے وہ آپ کو لوٹا دیں گے۔ بسوں میں مانگنے والے بھی بالعموم اسی طرح کی زبان استعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔ ہم نے آزادی کے پچھتر سالوں کی تکمیل پر پچھتر روپے کا ایک نوٹ چھاپا ہے جس پر ہم نے آزادی اور دو قومی نظریہ کیلئے جدوجہد کرنے والے اپنے مشاہیر کی تصاویر لگوائی ہیں۔ جن منفی ذہنیت والوں کو ہر چیز میں برائی دکھتی ہے، وہ اس پر طرح طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہیں اس سے احتراز کرنا چاہئے یہ لوگ کھاتے پاکستان کا ہیں اور گن ہندوستان کےگاتے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ہر وقت پاکستان کی برائیاں تلاش کرنے یا بیان کرنے کی بجائے اس کی خوبیاں بیان کیا کریں ۔ حضور یہ ملک ہے تو آپ ہیں وگرنہ اگر یہ ٹھکانہ آپ کو نہ ملتا تو آپ کا نام ونشاں مٹ جاتا جس طرح ان دنوں چوبیس کروڑ انڈین مسلمانوں کا مٹ چکا ہے۔ یہ ساری ترقی یہ رونقیں آپ کو اپنے اس پیارے علیحدہ و آزاد ملک کی بدولت میسر ہیں اور اس اہم موقع پر اپنے ان طاقتوروں کی قدر افزائی کرنا بھی نہ بھولیں جن کی ہمت و طاقت سے آپ کو آزادی کی یہ نعمت حاصل ہے۔ وہ جاگتے ہیں تو آپ سوتے ہیں اگر یہ طاقتور محافظین آپ کو میسر نہ ہوں تو آپ کا حشر افغانستان، عراق ، لیبیا اور مصر و شام جیسا ہو جائے۔ لہٰذا اپنا اور اپنی قوم کا پیٹ کاٹ کر ان طاقتوروں کی خدمت کریں اس سلسلے میں جو لوگ منفی باتیں پھیلاتے ہیں ان کے منہ بند کریں ۔
دو قومی نظریے کا یہی مطلب ہے کہ دو پاکستان نہیں ایک پاکستان ۔ قائد کے اس فرمان کو پھیلایا جائے کہ یہاں مسلم و غیر مسلم، امیرو غریب یا طاقتور و کمزور میں کوئی فرق نہیں یہی حب الوطنی کا پچھتر سالہ تقاضا ہے۔ آج امید ہے یہ کالم نہیں کٹے گا۔