کابل مسجد میں دھماکے سے21 افراد جاں بحق
افغان دارالحکومت کابل میں نمازیوں سے بھری مسجد میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ دھماکا مسجد کے اندر رکھے گئے دھماکا خیز مواد سے ہوا جس کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے۔
خیال رہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پورے افغانستان میں بم دھماکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں کئی حملو میں اقلیتی فرقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔
ابھی تک کسی عسکری گروپ نے بدھ کی شام ہونے والے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ کابل میں ایک ہسپتال چلانے والی اطالوی غیر سرکاری تنظیم نے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے پاس دھماکے سے متاثرہ 27 افراد لائے گئے جن میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ دھماکا طالبان کے سرکردہ رہنما رحیم اللہ حقانی پر حملے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ہوا، جو کابل میں اپنے مدرسے میں اپنے بھائی کے ساتھ مارے گئے تھے۔ رحیم اللہ حقانی داعش کے خلاف سخت تقاریر کے لیے معروف تھے، جس نے بعد میں ان پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے داعش کو شکست دے دی ہے۔ تاہم ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ سخت گیر گروپ طالبان کے لیے اب بھی ایک اہم سیکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے. حالانکہ داعش، طالبان کی طرح ہی ایک سنی گروپ ہے لیکن دونوں سخت حریف ہیں اور نظریاتی بنیادوں پر بہت مختلف ہیں۔
کابل میں دھماکا ایسے وقت ہوا جب جمعرات کو طالبان کے سینئر رہنما جنوبی شہر قندھار میں 2 ہزار سے زائد مذہبی علما اور عمائدین کے ایک بڑے اجتماع کی قیادت کر نے والے ہیں، جو تحریک کی اصل طاقت کا گڑھ ہے۔
میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس کانفرنس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔