ہماری بلی اور ہمیں سے میاؤں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 19 / اگست / 2022
ہمارے اردو لٹریچر میں بلی کے حوالے سے بہت سی کہاوتیں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بلی وہ تھی جس نےجنگل کے بادشاہ کو سارے گُر سکھلائے تھے مگر سیلف ڈیفنس کی خاطر اسے درخت پر چڑھنا نہیں سکھلایا تھا۔
ایک بلی وہ ہوتی تھی جو سوچوہے کھا کر ننگے پاؤں حج کرنے چلی جاتی تھی۔ ایک بلی وہ ہوتی ہے جسے ہمہ وقت چھچھڑوں یا دوسرے لفظوں میں توشہ خانوں کے خواب آتے ہیں۔ ایک کھسیانی بلی ہوتی ہے جو اپنے تئیں ہر چیز کا نالج رکھتی ہے یہ کہ اس سے بڑھ کر بحر و بر یا ارض و سما کو کوئی نہیں جانتا، اسے معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور یا بزدل چوہے کب بلوں میں ہوتے ہیں اور کب باہر نکل کر اس کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا سوچتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کب شیر کی خالہ بننا ہے اور کب اسے دھوکا دینا ہے۔ لیکن سیانے کوے کی طرح یہ کھسیانی بلی کھمبا نوچتے ہوئے بالعموم دھوکا کھا کر خود ماری جاتی ہے۔ یوں جب وہ بھاگتی ہے تو لوگ کہتےہیں کہ یہ سیانی یا کھسیانی نہیں، بھیگی بلی ہے۔
ایک چالاک، مکار یا ہوشیار اور خطروں کی کھلاڑی بلی بھی ہوتی ہے جو بالعموم تھیلے میں چھپے رہنے کی اداکاری کرتی ہے اور موقع بے موقع اس سے جھانک بھی لیتی ہے لیکن کئی مواقع پر جذبات سے مغلوب ہو کر تھیلے سے باہر نکل آتی ہے، ہمیں زیادہ دلچسپی اسی ننگی ہو کرتھیلے یا لبادے سے باہر نکلنے والی بلی سے ہے کیونکہ اس وقت یہ کسی بناوٹ، منافقت یا اپنی روایتی ملمع کاری سے کام نہیں لیتی ہے۔ کبھی موقع ملا تو اس کی تمام تر کہانی خصائل و رذائل کے ساتھ نذر قارئین کی جائے گی۔ فی الحال درویش ان جانوروں یا نیوٹرلز کی بجائے انسان نما سایوں پر بات کرنا چاہتا ہے۔ لیکن چونکہ کالم میں گنجائش کم ہوتی ہے اس لئے براہ راست اپنی موجودہ سیاسی صورتحال کو زیر بحث لاتے ہیں۔
ہماری سیاسی صورتحال یہ ہے کہ اس میں اندھیر سویر سے زیادہ دھندلکا براجمان رہتا ہے۔ اگرچہ ساون بھادوں کی رخصتی کے ساتھ بے یقینی کے سیاہ بادل چھٹ رہے ہیں اور سرنگ کے پار روشنی کی کچھ کرنیں دکھائی دینے لگی ہیں لیکن اس سے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں چھایا سیاسی عدم استحکام اختتام پذیر ہو جائے گا اور نتیجتاً ہم ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہو جائیں گے تو آپ بھولے بادشاہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ لوگ مانگے تانگے یا ادھار کے پیسوں سے کتنے روز موج مستی کی مے سے لطف اندوز ہولیں گے یا اس جوش قدح سے اپنے طاقتور حسین محبوب کی کتنے دن مہمانداری کرلیں گے؟ بائیس کروڑ عوام کا پیٹ پالنا تو دور کی بات ہے۔ خوش آئند خبر ہے کہ ستر سالہ طالع آزمائی کے بعد ہمارے طاقتور نیوٹرل ہوگئے ہیں گو ’خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا‘، پھر بھی آپ کی آواز مکے اور مدینے۔ دعا ہے کہ قدرت آپ کو اس پُرعزم فیصلے پر استقامت نصیب فرمائے۔
یہ امر بھی قابل ستائش ہے کہ اب کے تبدیلی کمان میں کوئی مدو جزر نہیں آئے گا، عسکری صفوں سے کوئی طالع آزما نہیں اٹھے گا۔ یقیناً منجھے ہوئے تجربہ کار حاجی صاحب ہی رہیں گے یا انہی کا تربیت یافتہ نیوٹرل اپروچ کا حامل، جو اس عظیم فیصلے کا پاسدار و تسلسل ہو۔ ہماری سیاست میں جس طرح فاختائیں اور ہاکس ہیں یا بلیاں اور شیر ہیں، اسی طرح کچھ کھسیانے کھلاڑی بھی ہیں جن کا ملجیٰ و ماویٰ محض حصول اقتدار ہے۔ وہ چاہے لڑمر کر ملے یا سجدہ ریزی سے یا تیسری بھی اگر کوئی صورت ہو اس کے لئے بھی انہیں کوئی عار نہیں ہے۔ آئین، پارلیمان یا جمہوریت کس بلا کا نام ہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ طاقتور لوگو! آج تمہیں 2022-23میں آئینی حدود کے اندر رہنا یا نیوٹرل بننا یاد آگیا ہے ۔ مت بھولو نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے جبکہ یہ حق و باطل یا ایمانداری و کرپشن کی جنگ ہے۔
تم لوگوں نے کرکٹ کے کھلاڑی کویہ کہہ کر سیاست کی گراؤنڈ میں اتارا تھا کہ اس فیلڈ میں سب کرپٹ ہیں تم نے ان سب کو ننگا کرنا ہے، اب جب میں نے یہ فریضہ سرانجام دینا شروع کیا تو تم نے انہی لوگوں پر اپنا دست شفقت رکھنا کیوں شروع کردیا؟ جتنا مرضی خود کو نیوٹرل کرلو تاریخ میں آپ لوگ قصور وار قرار پائیں گے۔ جس طرح زخمی بلی غراتے ہوئے منہ کو آتی ہے اسی غصے کے ساتھ آج بند کمروں کی باتیں سرعام میڈیا کے سامنے بتائی و سنائی جا رہی ہیں مجھے تو اندر خانے یہ سب کچھ بتایا گیا تھا، دس سالہ سبز باغ دکھایا گیا تھا۔ اب آپ لوگ کیا کر رہے ہیں ملک کو کدھر لے جا رہے ہیں، بند کمروں کے فیصلے اچھے نہیں ہوتے۔ سارا اقتدار اختیار تو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں رکھا اور مجھے محض کٹھ پتلی کی طرح استعمال کیا۔ اور پھینک دیا۔ شاید میرے حریف ٹھیک ہی کہتے تھے۔ میرے ہاتھوں میں نیب ہوتی تو کم از کم پندرہ بیس لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیتا۔ اگر مجھے کوئی کہے کہ ان چوروں کے نیچے زندگی گزارنی ہے تو میرے لئے اس سے موت بہتر ہے، جس طرح میں یہ کہتا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خود کشی کرلوں گا جو کہ میرے جیسے عیش و عشرت میں پلے آدمی کے لئے یقیناً مشکل کام ہیں۔ آج میرے کارندے گلِ سے یہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کھلاڑی کھاتا کیا ہے؟ انہیں جب معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص کھاتا کیا ہے تو پھر یہ اسے کھانے میں ایسی ڈوز ملا کر کھلاتے ہیں جس سے اس بندے کو ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔ یہ پہلے بھی کئی بندوں کو ٹھکانےلگا چکے ہیں، مجھے یہ بات اس لئے معلوم ہے کہ میں ہی تو تب ان کا ہم نوالہ و ہم پیالہ تھا۔
ویسے انہیں چاہیے کہ میرے متعلق کھانے کا پوچھنے کی بجائے پینے کا پوچھیں جو میری طاقت کا اصل راز ہے۔ یہ کینسر کا علاج ڈسپرین سے کرتے ہیں ذرا سےفقرے پر یہ بیچارے گل کو لہولہان کر رہے ہیں۔ میں آزادی پسند ہوں مجھے آزاد میڈیا سے کوئی خوف نہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ میڈیا کی آزادی کے سیمینار میں یہ باتیں اس شخص کو ہر گز نہیں جچتی تھیں جس نے اپنے ساڑھے تین سالہ اقتدار میں آزادیٔ اظہار پر وہ وہ قدغنیں لگائیں جن کا یارا مشرف جیسا فوجی ڈکٹیٹر بھی نہ کرسکا۔ اپنے ایک ملازم کے پکڑے جانے کی اتنی تکلیف اس وقت کیوں محسوس نہ ہوئی جب اپنےسیاسی حریفوں کو جیلوں میں ڈالتے ہوئے کسی ثبوت، کسی دلیل کو خاطر میں نہ لاتا تھا؟ محترمہ مریم نواز اور فریال تالپور جیسی معزز خواتین کا بھی لحاظ ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا۔ رانا ثنا اللہ پر پندرہ کلو ہیروئن ڈالتے ہوئے خدا کو جان دینے والے آپ کے ملازم نے یہ تک نہ سوچا کہ اس جعلی مقدمے کی سزا موت بنتی ہے۔
دوسروں کو چور ڈاکو کہنے سے پہلے اپنی توشہ خانے، فارن فنڈنگ یا پیرنی و گوگی وغیرہ کی چوریاں کیوں یاد نہیں رہتی ہیں؟ آزادی غلامی کے نعرے لگانے والے کو اپنی امریکی لابنگ کمپنی اور کے پی میں حاصل کردہ امریکی مراعات کا تذکرہ بھی اسی انصاف کے ساتھ کرنا چاہیے۔ جو ہمہ وقت کہتا تھا کہ اپنے سیاسی مخالفین میں سے کسی کو چھوڑوں گا نہیں، آج کس منہ سے سب کچھ طاقتوروں پر ڈال کر یہ کہہ رہا ہےکہ میرے ہاتھ میں تو کچھ تھا ہی نہیں اس پر اگر ایسٹیبلشمنٹ والے یہ کہیں کہ ہماری بلی اور ہمیں سے میائوں میائوں تو آپ کو اور آپ کے ہم نواؤں کو اس کا برا نہیں مناناچاہیے۔