ناروے میں 600 کلو وزنی فریا کو ہلاک کرنے کی کہانی
- تحریر بی بی سی اردو
- ہفتہ 20 / اگست / 2022
جولائی کے وسط میں جب ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے ساحل پر 600 کلو وزنی والرس سیل نمودار ہوئی تو پیار سے اس کا نام فریا رکھ دیا گیا جو مقامی دیومالائی کہانیوں میں محبت اور حسن کی دیوی کا نام تھا۔
فریا جلد ہی سیلیبرٹی بن گئی جس کی دھوپ سینکنے کے لیے کشتیوں پر سوار ہونے اور عجیب سی چال کی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہو گئیں۔ لیکن ایک ماہ بعد ہی سرکاری حکام نے فریا کو عوام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا جس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور یہ غصہ ناروے تک محدود نہیں رہا۔
چند لوگوں نے تو ناروے پر ’قتل‘ کا الزام بھی لگایا ہے جبکہ فریا کی یاد میں ایک کانسی کا مجسمہ بنانے کے لیے پیسے اکھٹے کرنے کی مہم دنوں میں 24 ہزار امریکی ڈالر اکھٹے کر چکی ہے۔
ناروے کے وزیر اعظم نے حال ہی میں فریا کو ہلاک کرنے کے قدم کو ’درست‘ قرار دیا ہے۔ لیکن لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا فریا کو بچایا جا سکتا تھا؟
فریا کا ناروے تک پہنچنے کا سفر تو شاید قطب شمالی سے شروع ہوا لیکن گزشتہ سال کے دوران اسے برطانیہ، سویڈن سمیت کئی یورپی ممالک کے پانیوں میں دیکھا گیا تھا۔ یہ جہاں بھی گئی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی لیکن ناروے میں حکام کو ایک پریشانی لاحق ہو گئی۔ ایسی تصاویر منظر عام پر آئیں جن میں سیاحوں کے ہجوم پانی کے کنارے فریا کے اتنے قریب موجود تھے کہ اسے چھو سکتے تھے۔
مقامی میڈیا میں ایسی خبریں بھی سامنے آئیں جن کے مطابق فریا نے ایک خاتون کا پیچھا کیا جن کو پانی میں چھلانگ لگانا پڑی جبکہ ایک اور شخص نے بتایا کہ یہ جانور ایک بار کیسے اس کے نہایت قریب آ گیا تھا۔
گرین لینڈ انسٹیٹیوٹ آف نیچرل ریسورسز کے سینئر سائنسدان ایرک بورن کہتے ہیں کہ والرس جانور کے رویے غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ ان میں اتنی صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ کسی سیل کو پکڑ کر ہلاک کر دیں۔
جیسے جیسے فریا اور لوگوں کے درمیان فاصلہ کم ہوتا گیا، کسی ایسے ہی حادثے کا ممکنہ خطرہ بھی بڑھتا گیا۔ ڈاکٹر بورن کہتے ہیں کہ ایک تیز دانتوں والا 600 کلو وزنی جانور اگر لوگوں کے بیچ تیر رہا ہے تو یہ کافی خطرناک ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں والرس نے سکوبا ڈائیورز اور چھوٹی کشتیوں پر حملہ کیا اگرچہ ایسے واقعات بہت کم ہیں۔
کوپن ہیگن چڑیا گھڑ کے زولوجیکل ڈائریکٹر ماڈس فروسٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ حیران کن نہیں۔ والرس دور دراز علاقوں کا جانور ہے جس کا انسانوں سے واسطہ نہیں پڑتا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اسی لیے ایسے واقعات کی تعداد کم ہے ورنہ ’وہ شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ تو کیا پروفیسر فروسٹ بھی وہی کرتے جو ناورے کی فشریز کی وزارت نے کیا؟ یعنی فریا کو موت کے گھاٹ اتار دیتے؟ وہ اس سوال کا جواب ہاں میں دیتے ہیں۔
لیکن کینیڈا کے بائیولوجسٹ ڈاکٹر جیف ہجگن کہتے ہیں کہ فریا کی تو کوئی غلطی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انسانی رویے نے ہی اس کیس میں خطرے کو جنم دیا۔‘ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر سیاحوں نے اپنا دماغ کیوں نہیں استعمال کیا۔ اس ہجوم میں شامل ہر فرد نے خود کو اور اپنے بچوں کو خطرے میں ڈالا اور بدقسمتی سے فریا کو مارنے کے فیصلے میں حصہ ڈالا۔
سب لوگ اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے کہ اس خطرے کے پیش نظر فریا کو ہلاک کرنا ہی ضروری تھا۔
آرکٹک یونیورسٹی ناروے کے پروفیسر فرن وکسن کہتی ہیں کہ ’یہ ایک ممکنہ خطرہ تھا۔ فریا سے لوگوں کو اتنا ہی خطرہ تھا جتنا ہم اپنے معاشرے اور روز مرہ کی زندگی میں عام طور پر برداشت کرتے ہیں۔‘ یہ نہایت حیران کن اور مایوس کن تھا کہ حکومت نے لوگوں کے رویے کو درست کرنے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے کی بجائے فریا کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔
ناروے کی فشریز وزارت کے مطابق اس مسئلے کا متبادل حل نکالنے پر غور کیا گیا اور انسٹیٹیوٹ آف میرین ریسرچ سے مشاورت بھی کی گئی لیکن مثبت نتیجہ نہیں نکل پایا۔ آئی ایم آر کا کہنا ہے کہ ان کے ماہرین نے فریا کو بے ہوش کرنے کی مخالفت کی تھی کیوں کہ ایسا کرنے سے وہ پانی میں ڈوب کر مر جاتی۔ بائیولوجسٹ ڈاکٹر ہجسن کے مطابق اس جانور کی حرکت کو دوائی کے ذریعے روکنے کے بھی خطرات ہو سکتے تھے۔ ’کسی جنگلی جانور کو پکڑ لینا، اسے حرکت نہ کرنے دینا۔۔۔ اس سے نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے اور چند کیسز میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔‘
فشریز ڈائریکٹریٹ کا بھی یہی خیال تھا لیکن ان کے چند اور خدشات بھی تھے۔ ان کے مطابق فریا کے حجم کی وجہ سے اسے بے ہوش کرنے سے سانس لینے اور خون کی گردش کے مسائل ہو سکتے تھے۔ آئی ایم آر نے ایک اور حل بھی تجویز کیا تھا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فریا کو ایک نیٹ کے ذریعے پکڑ لیا جائے۔ ایک بیان میں ادارے نے بتایا کہ اس میں بھی خطرات تھے کہ فریا جال میں پھنس کر گھبرا کر ڈوب سکتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے نرم دل فیصلہ یہ ہوتا کہ ایک ایسی چیز بنائی جاتی جس کے اوپر ایک کھلا پنجرہ ہوتا اور پھر فریا کو اس کے اندر ڈال کر کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیا جاتا۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ہو جاتا تو اس جانور کے پانی میں پھنس جانے کے امکانات کم ہو جاتے۔
آئی ایم آر کے مطابق انہوں نے کوئی حتمی حل تجویز نہیں کیا تھا اور فریا کی قسمت کا حتمی فیصلہ فشریز ڈائریکٹریٹ نے ہی لیا۔ فشریز ڈائریکٹریٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فریا کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے لیے خطیر وسائل اور رقم درکار ہوتے اور اس دوران اس کو نقصان پہنچنے یا غلطی سے ہلاک کر دینے کا خطرہ بھی موجود ہوتا۔ ان کے مطابق بڑھتے ہوئے ہجوم، جس نے ہر قسم کی تنبیہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ خطرہ بڑھ رہا تھا کہ فریا یا پھر کسی انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فشریز ڈائریکٹریٹ نے کہا کہ ’فریا اور لوگوں کا رویہ حالیہ دنوں میں بدل چکا تھا۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے یوتھِینائز کرنا ہی درست قدم ہے۔‘ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے چیف ایڈوائزر برائے پولر ریجن روڈ ڈاونی نے کہا کہ: ’فریا سے لوگوں کو خطرہ تھا اور لوگ فریا کے لیے خطرہ تھے۔‘
لیکن فریا کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آئی ایم آر نے اعلان کیا ہے کہ وہ فریا کا پوسٹ مارٹم کریں گے جس سے اس جانور کے بارے میں اہم معلومات مل سکیں گی۔
لیکن فریا کی موت سے والرس کی مجموعی تعداد پر اثر نہیں پڑے گا۔ ڈاکٹر ہجسن کا کہنا ہے کہ اس وقت والرس کی آبادی مجموعی طور پر خطرے کا شکار نہیں ہے۔ دوسری جانب پروفیسر فروسٹ کے مطابق سمندری آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی وہ خطرات ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(رپورٹ: ندیم شاد)