پی ٹی آئی کی ابلاغی حکمت عملی اور شہباز گل کیس
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 20 / اگست / 2022
اڈولف ہٹلر تاریخ اقوام عالم کا ایک بڑا لیکن بہت زیادہ پسندیدہ نام نہیں ہے۔اڈولف ہٹلر کی مہم جوئی اور جنگ بازی نے پوری دنیا کو ایک مہیب مشکل میں ڈالادوسری جنگ عظیم (1939-45) کے دوران کروڑوں انسان ہلاک، مجروح ہوئے۔
اربوں کھربوں ڈالر کی نجی و سرکاری املاک فنا کی گھاٹ اتر گئیں، بستیاں، شہر، ملک صفحہ ہستی سے مٹ گئے عالمی منظر نامہ تبدیل ہو گیا برطانیہ عظمیٰ عالمی سیاست کے منظر نامے سے گم ہو گئی اور اس کی جگہ امریکہ نے لے لی۔ہٹلر ایک کرشماتی شخصیت تھی، نظریاتی شخصیت تھی، تنظیمی شخصیت تھی اس نے یورپ کی بہترین قوم کو تیسری عظیم جرمن ایمپائر کے اجراء و قیام کا خواب دکھایااس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے جرمن ورکر پارٹی کو اس دور کے جدید تقاضوں کے مطابق استوار کیا اور پھر پوری قوم کو اپنے پیچھے لگایا،خواب کی تعبیر کے لیے جرمن قوم نے اڈولف ہٹلر کو اپنا مسیحا تسلیم کیااڈولف ہٹلر نے الیکشن لڑا،اپنے خیالات اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے اس دور کی عظیم الشان انتخابی مہم چلائی،تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی نے انتخابی مہم میں ہوائی جہاز کا استعمال کیااڈولف ہٹلر اکثریت حاصل نہیں کر سکا لیکن تھوڑے ہی عرصے میں اس نے سیاسی حالات کو کچھ اس طرح ٹوسٹ کیا کہ وہ ایوانِ اقتدا ر میں داخل ہو گیا اور پھر اس نے اپنے آپ کو مطلق العنان حکمران بنا ڈالا۔
ابلاغ عام یا ماس کمیونی کیشن کے لئے اڈولف ہٹلر کے مشیر اور بعد میں وزیر گوئیبلز نے ایسی منصوبہ سازی کی، اس طرح مہم چلائی کہ ہٹلر کے نظریات جرمن قوم تک پُرکشش انداز میں پہنچے، ہٹلر کی شخصیت کے گرد عظمت و برتری کا ایک ایسا ہالا قائم کیا گیا کہ یورپ کی سب سے عقل مند اور اعلیٰ جرمن قوم نے اسے مسیحا تسلیم کر لیا اور اس کی قومی تعمیر و ترقی کی باتیں تسلیم کر لیں۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں شکست کے بعد ہٹلر کے افکار و نظریات، اس کی نازی پارٹی اور اس سے متعلق تمام باتوں پر حکماً اور قانوناً پابندی عائد کر دی گئی ہٹلر کو تاریخ کا ایک ناپسندیدہ کردار قرار دے دیا گیاہٹلر نے نہ صرف اپنی قوم کو بلکہ پوری دنیا کو جہنم میں دھکیلا اور وہ خود بھی خود کشی کے ذریعے منظر عام سے غائب ہو گیا۔ آج ہٹلر کے افکار و نظریات پر پابندی ہے لیکن گوئیبلز کے ابلاغ عام کے لیے اختیار کردہ ہتھکنڈوں کو ابلاغ عام کی تھیوریوں کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اسے پروپیگنڈہ کہا جاتا ہے۔70/80 سال گزرنے کے باوجود گوئیبلز کے افکار و نظریات آج بھی ترو تازہ نظر آتے ہیں۔
پی ٹی آئی ہمارے ملک کی ترو تازہ اور جوان پارٹی ہے افکار و نظریات کے اعتبار سے جواں ہمت اور موثر بھی ہے، پی ٹی آئی نے کمیونی کیشن، سیاسی ابلاغ عام کی روایات کو انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنار کر دیا ہے،سیاسی جلسوں کو عوامی رنگ دینا،پاپولر عوامی فنکاروں کے ذریعے ہجوم کو بہلانا، موسیقی کا استعمال، جدید ابلاغی (سمعی و بصری) ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے جلسوں اور جلوسوں کو گرمانے کی حکمت عملی اختیار کر کے پی ٹی آئی نے فی الحقیقت قومی سیاسی میدان میں اپنا سکہ جما لیا ہے۔سوشل میڈیا کے موثر استعمال میں بھی پی ٹی آئی فی الوقت بے مثال ہے، نوجوان خواتین و حضرات کی فوج ظفر موج سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی پارٹی کی ابلاغی حکمت عملی کو لے کر چلتی ہے اور ایسے چلتی ہے کہ مخالفین دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال شہباز گل کا کیس ہے اسے بغاوت کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا ہے ،ایک انتہائی سنجیدہ الزام کے تحت ان پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔تحقیقات کے نتیجے میں دیگر افراد کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں لیکن پی ٹی آئی نے اپنی ابلاغی حکمت عملی کے تحت اس کیس کا رخ سردست شہباز گل پر ہونے والے مبینہ تشدد کی طرف موڑ دیا ہے ۔حیران کن بات یہ ہے کہ عمران خان سمیت پارٹی عہدیدار شہباز گل پر شدید تشدد کی باتیں دہرا رہے ہیں جبکہ ان کا اپنا وزیر داخلہ اس بات کی تردید کر رہا ہے۔ابھی تک کسی میڈیکل چیک اَپ رپورٹ میں تشدد کی بات سامنے نہیں آئی ہے، ہاں ان کی موروثی بیماری کے عود کر آنے کی بات سامنے آئی ہے جس کا تشدد سے کوئی تعق نہیں ہے۔شہباز گل اپنی پارٹی پالیسی کے عین مطابق ’انکار‘ اور ’جھوٹ‘ بولنے اور بولتے ہی چلے جانے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آ رہے ہیں۔
عمران خان پر کرپشن، فراڈ،جھوٹ اور دھوکہ دہی کے الزامات، تحریری طور پر سامنے آ چکے ہیں لیکن وہ مسلسل مخالفین پر وہی الزامات دہراتے چلے جا رہے ہیں ۔ ’جھوٹ کو اس انداز میں بولو کہ وہ سچ لگے‘ اور ’جھوٹ اتنی بار بولو کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں‘ یہ گوئیبلز کے اقوال زریں ہیں جو اس نے پروپیگنڈہ کے حوالے سے نہ صرف بیان کیے بلکہ ان پر عمل کر کے نازی پارٹی کو جرمن قوم میں مقبول بنایا اور اڈولف ہٹلر کو نجات دھندہ کے طور پر پیش کیا۔
پی ٹی آئی بھی کچھ اسی قسم کی ابلاغی حکمت عملی پر چلتی نظر آ رہی ہے شہباز گل نے جو کچھ کہا وہ آئینی طور پر بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ عمران خان بھی کہہ چکے کہ انہیں وہ فقرہ نہیں کہنا چاہیے تھا۔ پہلے پوری پارٹی کسی جرم کے ارتکاب کو مانتی ہی نہیں تھی۔ انہوں نے گل کی گرفتاری کو عمران خان کے خلاف سازش قرار دینا شروع کر دیا تھا پھر جب عمران خان نے ایک فقرے کے بارے میں کہا کہ انہیں نہیں کہنا چاہیے تھا تو پارٹی نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ اب تشدد کی باتیں کہی جا رہی ہیں انہیں اُلٹا لٹکا کر ننگا کر کے تشدد کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن تمام میڈیکل رپورٹ نے ایسے کسی بھی تشدد کی نفی کر دی ہے۔گل صاحب کا ایک بار پھر میڈیکل ہونے جا رہا ہے تاکہ ان کی شکایات اور واویلے کا حتمی فیصلہ ہو سکے، پی ٹی آئی شہباز گل کی گرفتاری کے اصل سبب، یعنی بغاوت کے مقدمے سے توجہ ہٹانے میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب نظر آ رہی ہے۔
ماضی قریب میں پی ٹی آئی اسی حکمت عملی کے تحت عمران خان کے فارن فنڈنگ کیس اور توشہ خانہ کیس سے بھی توجہ ہٹانے میں کامیاب رہی ہے،انہوں نے ’امپورٹڈ حکومت‘ کے بیانیے کے ذریعے اپنے اوپر اوپن اینڈ شٹ کیسز سے توجہ ہٹائی، جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے،ابلاغی حکمت عملی کے ذریعے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی کرپشن میں لتھڑی شخصیات کو عوام کے سامنے اس انداز میں بے نقاب ہونے سے بچائے رکھا۔کہا جاتا ہے کہ ان کیسز میں عمران خان بچ نہیں پائیں گے،ان کی پارٹی پر پابندی بھی عائد ہو سکتی ہے کیونکہ حالات و حقائق اتنے واضح ہیں کہ عمران خان کا بچنا ممکن نہیں ہو گا۔ لیکن پی ٹی آئی ایسے کیسز کو سیاسی رنگ دینے کی کاوش کر رہی ہے کبھی اسے مائنس ون فارمولا کہا جاتا ہے کبھی اسے اور نام دے کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔کرپشن، جھوٹ اور دھوکہ دہی کے کیسز کو سیاسی انتقام ثابت کرنے کی کاوشیں،عمران خان پارٹی کی ایسی حکمت عملی ہے جو کسی نہ کسی حد تک کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔
عمران خان اور ان کی جماعت ’انکار‘ اور ’جھوٹ‘ کی سیاست کے ساتھ ساتھ دھونس دھاندلی کا بھی بڑا سائنٹیفک طریقہ استعمال کرنا چاہتی ہے،۔سچی اور واضح بات کو پروپیگنڈہ کے ذریعے مشکوک بنا ڈالنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور و ہ یہ کھیل ایک عرصے سے کھیل رہے ہیں۔سردست حقیقت دھندلا رہی ہے،عدالتیں بھی ایک ’باغی‘ کے حقوق کی باتیں کر رہی ہیں۔ حالانکہ زور اس کی بغاوت پر ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو رہا یہ پی ٹی آئی کی حکمت عملی کی کامیابی ہے جس کے لیے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ باقی ر ہا مقدمہ تو اس کا فیصلہ شاید بہت اہم نہیں ہو گا،لگ تو ایسے ہی رہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)