شہباز گل پر تشدد: سچ سامنے آنا چاہئے

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے اس  دعویٰ  کے  بعد ملک بھر میں تشویش اور سنسنی خیزی پائی جاتی ہے کہ  ان کے زیر حراست چیف آف اسٹاف شہباز گل پر  دوران قید تشدد  ہؤا ہے اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔  ہر  ذی شعور کسی بھی قیدی   پر تشدد کی مذمت کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ ایسے گھناؤنے فعل  کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کا سخت احتساب ہونا چاہئے۔

تاہم اس کے ساتھ ہی یہ جاننا بھی اہم ہے کہ سیاسی تقسیم کی بنیاد پر پیدا ہونے والی گروہ بندی میں سچ سب سے پہلے نشانے پر ہوتا ہے۔ تحریک انصاف پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں حقیقت حال بیان کرنے اور سیاسی مؤقف اور واقعاتی حقائق  کو گڈ مڈ کرکے اپنی مرضی  کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ خاص طور سے تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ کی بنیاد پر معلومات عام کرنے اور سیاسی مخالفین اور موجودہ صورت حال میں  وفاقی حکومت  اور فوج کو بدنام کرنے کے لئے کسی بھی حد تک  جانے کے لئے تیار  رہتی ہے۔ اس لئے شہباز گل پر  جنسی تشدد  کے بارے میں   عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر لیڈروں کے  بیانات کو ماننے سے پہلے حقائق سامنے  آنا بہت ضروری ہے۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے شہباز گل پر تشدد کی تردید کی ہے۔ ایسی ہی تردید اسلام آباد پولیس کی طرف سے بھی سامنے آئی ہے  جس کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پولیس کو جھوٹے بیانات کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسا جھوٹ پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی  کی جاسکتی ہے‘۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے  اپنی پریس کانفرنس میں شہباز گل پر تشدد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان پر  ’اداروں میں بغاوت کی کوشش ‘کرنے کا مقدمہ ہے۔ اب اس سنگین معاملہ  سے توجہ ہٹانے کے لئے شہباز گل پر تشدد کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے شہباز گل  کو صحت مند  ثابت کرنے کے لئے ایک ویڈیو بھی میڈیا کے سامنے چلائی جس میں شہباز گل پمز ہسپتال میں پولیس افسران سے بات چیت کررہے ہیں۔ یہ دوستانہ ماحول میں  بنائی گئی ویڈیو ہے جو جمعہ کے روز ان عدالتی مناظر سے بہت مختلف ہے جس میں  سانس کی تکلیف میں مبتلا شہباز گل ویل چئیر پر عدالت آئے تھے۔ اور ان کے وکلا نے  عدالت سے  ان کا جسمانی ریمانڈ منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی تھی جو منظور نہیں ہوئی۔ اس کی بجائے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے شہباز گل کو بدستور پمز ہسپتال میں رکھنے اور  ان کا نیا طبی معائینہ کروانے کا حکم دیا۔ مجسٹریٹ نے  فوری طور سے شہباز گل کو پولیس کے حوالے کرنے سے گریز کیا تاکہ ان کی جسمانی و ذہنی حالت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکیں۔  اب سوموار کو یہ فیصلہ ہوگا کہ  سیشن کورٹ کے حکم کے مطابق انہیں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا جاتا ہے یا عدالت  شہباز گل پر پولیس تشدد یا ان کی  ناسازی طبع  کی بنیاد پر  بدستور  ہسپتال میں رکھنے  کی ہدایت کرتی ہے۔

وفاقی وزرا کے بیانات اور پیش کئے جانے والے شواہد کو اگر سو فیصد جھوٹ اور جعل سازی بھی مان لیا جائے تو بھی اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے کہ شہباز گل کی حالت واقعی ہی اتنی نازک ہے جس کا تاثر پرجوش میڈیا مہم کے ذریعے دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ  انہیں ذہنی، نفسیاتی اور جنسی لحاظ سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔  قانونی لحاظ سے شہباز گل اس وقت عدالتی حکم کے تحت پمز ہسپتال میں ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میں ہیں۔ انہیں پولیس کی دسترس میں نہیں دیا گیا البتہ اسلام آباد پولیس ان کی حفاظت کی ذمہ دار ضرور ہے۔  ان حالات میں پولیس پر تشدد اور جنسی حملے کرنے کا الزام کسی ٹھوس ثبوت اور واضح شہادتوں کے بغیر ماننا ممکن نہیں ہے۔  اگر اس قسم کا تشدد وقوع پذیر ہؤا ہے تو اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت ہونی چاہئے اور ملکی عدالتی نظام کو ایک اہم قومی پارٹی کے اہم لیڈر کے ساتھ نازیبا اور تکلیف دہ سلوک روا رکھنے پر  ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دینا چاہئے۔

تاہم اس کے ساتھ ہی  اس معاملہ کا یہ پہلو بھی اہم ہے کہ اگر عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر لیڈر اپنی سیاسی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک زیر حراست ملزم  پر تشدد اور جنسی زیادتی کی من گھڑت کہانیاں سنا رہے ہیں تو انہیں کیسے اس غلط بیانی سے باز رکھا جاسکتا ہے اور ملکی قانون کیوں کر ان کی گرفت کرتا ہے۔  یہ ایک افسوسناک پہلو ہے کہ ملک کے سیاسی لیڈر  اپنی حیثیت اور عوامی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں  اور  خود کو ہمہ قسم اخلاقی  ذمہ داری سے مبرا سمجھتے ہیں۔ عمران خان خاص طور سے  قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ شریف برادران اور زرداری فیملی کے خلاف ان کا بنیادی مقدمہ ہی یہ رہا ہے کہ یہ لوگ اپنی سیاسی حیثیت کی وجہ سے قانون کی گرفت میں نہیں آتے ، اس لئے ملک میں ایسا نظام ہونا چاہئے کہ قانون سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ عمران خان کی اس بات سے اصولی طور سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ  پوری قوت سے اس کی حمایت کرنی چاہئے۔ تاہم جب وہی لیڈر جو دوسروں کو قانون کے سامنے سرنگوں کرنا چاہتا ہے، خود قانون پر عمل کرنے سے انکار کررہا ہو تو اس کی صداقت اور قانون کی عملداری کے بارے میں دعوؤں کے بارے میں شبہات پیدا  ہونا فطری امر ہے۔

عمران خان نے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد کسی بھی قانونی تقاضے کو پورا کرنا ضروری نہیں سمجھا۔  بلکہ ان کے ساتھی  عمران  خان کی گرفتاری کی صورت میں زمین آسمان ایک کرنے اور طوفان برپا کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔  تحریک انصاف کے چئیرمین نے توشہ خانہ کیس میں اپنی پوزیشن واضح  نہیں کی  ۔ اسی کے نتیجہ میں ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس زیر سماعت ہے اور الیکشن کمیشن نے ان سے اس معاملہ پر وضاحت اور تفصیلات طلب کی ہیں۔  الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ دے چکا ہے اور اب ایف آئی اے اس معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ یہ ایجنسی وفاقی ادارہ ہے اور دو مرتبہ عمران خان کو پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا جاچکا ہے لیکن عمران خان نے اس نوٹس کا جواب تک دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ گویا وہ خود کو قانون سے بالا تصور کرتے ہیں۔ اسی لئے اب یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ اگر تیسرے نوٹس پر بھی عمران خان حاضر نہ ہوئے تو ایف آئی اے انہیں گرفتار کرنے کا اقدام کرسکتی ہے۔ 

سیاسی لحاظ سے  یہ کوئی خوش آئیند صورت حال نہیں ہے  کہ ایک قومی سیاسی لیڈر مقبولیت کے گھمنڈ میں قانونی کارروائی کو خاطر میں لانے پر تیار نہیں۔  اس  رویہ سے عمران خان کے دعوؤں اور عملی کردار کا تضاد بھی تلاش کرنا مشکل نہیں ۔ لیکن  پاکستان میں  کسی لیڈر کو اوتار کی صورت پیش کرکے اس کے ماننے والوں کو یوں سحر زدہ کردیا جاتا ہے کہ  ان کے قول و فعل پر سوال اٹھانے والے کو بھی متعصب اور  بے ایمان قرار دینا  عام بات ہے۔ خاص طور سے عمران خان اور تحریک انصاف اس وقت ایسی ہی حکمت عملی پر عمل کررہے ہیں۔  لیکن ا س طریقہ سے عوام کو  تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے لیکن قانونی یا عدالتی نظام کو فریب دینا ممکن نہیں  ہوتا۔  یہی صورت حال شہباز گل کے معاملہ میں بھی مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔

شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے 9  اگست کو قابل اعتراض گفتگو کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے 10 اگست کو ان کا دو روزہ جسمانی  ریمانڈ دیا اور جمعہ 12 اگست کو  جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے انکار کردیا گیا اور شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلہ کے  خلاف پولیس کی اپیل پر اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج زیبا چوہدری نے 17  اگست   کو   شہباز گل کو مزید دو روز کے لئے پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔  پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل میں شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کی ٹیم کے حوالے کرنے کی بجائے انہیں پمز ہسپتال بھجوا دیا جس کے بعد سے ان کی بیماری کا  شدید  ہنگامہ سننے میں آیا۔ اس سے پہلے شہباز گل کی کسی قسم کی تکلیف یا ان پر کسی تشدد  کی کوئی اطلاع موجود نہیں تھی۔  جمعہ 19 اگست کو عمران خان پمز ہسپتال  میں شہباز گل سے ملنے پہنچے  ۔ پولیس نے کسی قانونی اڑچن کے عذر پر  انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے شہباز گل کے ساتھ تشدد اور جنسی زیادتی کا  بیان دیا۔

اس حوالے سے یہ  جائزہ لینا اہم ہے کہ  شہباز گل درحقیقت 9اگست  سے 12 اگست تک پولیس حراست میں تھے اس کے بعد انہیں عدالت کے حکم پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔  انہیں اب تک واپس اسلام آباد پولیس کے سپرد نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ  ان کے ساتھ ہونے والا مبینہ تشدد اور جنسی زیادتی اسی مدت میں ہوئی ہوگی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف اس زیادتی پر پورا ہفتہ خاموش رہے بلکہ لاہور میں 13 اگست کی ریلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ اور عمران خان خود بھی شہباز کے بیان کو غلط قرار دیتے رہے لیکن پولیس کی مبینہ زیادتی کا کوئی ذکر  نہیں کیا گیا۔ البتہ جب  خوف پیدا ہؤا کہ انہیں دوبارہ پولیس کسٹڈی میں دیا جاسکتا ہے تو تشدد ہی نہیں بلکہ جنسی زیادتی جیسا گھناؤنا الزام عائد کیا جارہا ہے۔

پولیس حراست میں کسی بھی شہری کے ساتھ ناروا سلوک کو قبول نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی بھی  لیڈر کو سیاسی ضرورتوں کے  تحت پولیس کو بدنام کرنے اور ملکی قانون کا مذاق اڑانے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے شہباز گل کے معاملہ میں حقائق سامنے آنے چاہئیں۔ یہ ذمہ داری جتنی وفاقی حکومت اور اس کے زیر انتظام اداروں پر عائد ہوتی ہے،اسی قدر عمران خان اور  تحریک انصاف پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ورنہ بے بنیاد دعوؤں پر سیاسی پروپیگنڈا کرنے سے لوگوں کو کچھ عرصہ کے لئے ضرور گمراہ کیا جاسکتا ہے لیکن سچائی ہمیشہ چھپی نہیں رہے گی۔