خاتون مجسٹریٹ، آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد کے خلاف کیس کریں گے: عمران خان

  • اتوار 21 / اگست / 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد، خاتون مجسٹریٹ اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ جو ظلم کرتا ہے وہ کہتا ہے ہمیں پیچھے سے حکم آیا۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں لوگوں کے اوپر دہشت پھیلائی جارہی ہے غلام بنانے کے لیے۔ شہباز گل سے جو ہوا ہے، وہ اس لیے نہیں ہوا کہ اس نے کچھ کہا بلکہ اس سے بہت زیادہ نواز شریف، آصف زرداری، مریم، خواجہ آصف، فضل الرحمٰن نے ایسی باتیں کیں کہ واقعی فوج کے ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

شہباز گل کو اس لیے نہیں پکڑا کہ اس نے کہا کیا تھا بلکہ اس پر تشدد اس لیے کیا کہ کوئی بھی پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق نہ چلے۔ انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم پاکستان کے قانون سے اوپر ہیں اور ہم جو چاہے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ سب یہ دیکھ کر ڈریں اگر شہباز گل کو اس طرح تشدد کرکے ذہنی طور پر توڑ سکتے ہیں تو وہ کسی سے بھی یہ کرسکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ عوام کی آزاد آوازوں کو بند کرنے کے لیے اے آروائی بند کیا، اس لیے بند نہیں کیا کہ کوئی غلطی کی تھی بلکہ اس لیے بند کیا کہ وہ میرا مؤقف لے کر آرہا تھا اور باقی چینلز میں خوف پھیلایا کہ اگر تم لائن میں نہ آگئے تو اسی طرح تمہیں بھی بند کریں گے اور نقصان پہنچائیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ جو مرضی کرلیں، خوف پھیلانے کی کوشش کریں، میڈیا کو ڈرائیں، سوشل میڈیا کارکنوں کو اٹھائیں، دھمکیاں دیں لیکن چیلنج کرتا ہوں کہ جو مرضی کرلیں آپ عوام کے اس سمندر کو نہیں روک سکتے جو آزادی چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو۔ آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ہم نے آپ کے اوپر کیس کرنا ہے۔ مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے۔ آپ سب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک آدمی کو تشدد کیا، کمزور آدمی ملا اسی کو آپ نے یہ کرنا تھا۔ فضل الرحمٰن سے جان جاتی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ میں جارہے ہیں۔ بڑے ادب سے سپریم کورٹ سے کہتا ہوں کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ قانون کی بالادستی برقرار رکھنا آپ کا کام ہے۔ آئین اور قانون کی حکمرانی پر عمل درآمد کروانا آپ کا کام ہے، یہ جو ہوا ہے سارا صرف اور صرف طاقت ور نے دکھایا کہ وہ قانون سے اوپر ہے۔

جب اسلام آباد پولیس سے پوچھا کہ بتاؤ یہ تم نے کیا کیا تو آگے سے جواب دیتا ہے ہم نے کچھ نہیں کیا ہمیں پیچھے سے بوٹ لگا تھا۔ عمران خان نے اس کے علاوہ 25 مئی کو جو ظلم ہوا تھا اس پر ہم نے سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی پنجاب کے اوپر ایکشن کرنے گئے تو ہمارے لوگ ڈر گئے اور کہتے ہیں ادھر سے ٹیلی فون آگیا ان کو ہاتھ نہ لگاؤ۔

میں نیوٹرلز سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی آپ نیوٹرل ہیں۔ ہمیں تو کہا گیا تھا ہم تو نیوٹرل ہیں، باہر سے سازش ہوئی تھی تو ہم پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ہماری ایجنسیاں دنیا کی طاقت ور ایجنسیاں ہیں تو سازش کا پتہ چل گیا ہوگا لیکن آپ پیچھے ہٹ گئے لیکن اب کیا ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب جو ظلم کرتا ہے، پنجاب میں پوچھا تو کہتے ہیں ہمیں پیچھے سے حکم آیا تھا۔ ادھر اسلام آباد پولیس کہتی ہے ہم نے کیا کچھ نہیں تو اپنے نیوٹرلز کو کہنا چاہتا ہوں یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔ آپ کے لیے بڑا ضروری عوام، انصاف اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ان چوروں کے ساتھ کھڑے نہ ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ ہاکی اسٹیڈیم میں جلسہ تھا حالانکہ ہم نے جلسہ اسلام آباد میں کرنا تھا لیکن انہوں نے یہاں کسی کو بھجوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سب کو سنارہا ہوں جو سننا چاہتے ہیں۔ جدھر پاکستان جا رہا ہے، کوئی روک نہیں سکتا۔ پاکستان حقیقی آزادی کی طرف جارہا ہے، جو راستے میں آئے گا وہ بہہ جائے گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ کل سے مسلسل پاکستان کی سڑکوں پر ہوں گا، اپنے عوام کو اپنے ساتھ ملاؤں گا اور قوم کو سمجھاؤں گا اور سب کو تیار کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ کل لیاقت باغ میں اپنا سارا روڈ میپ دوں گا کہ یہاں کا ہلاکو خان شہباز گل کو مثال بنا کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کو قرآن کی آیت کا مطلب سمجھاؤں گا کہ جو لوگ ایمان لے آئے اللہ ان کا خوف توڑتا ہے اور قوم حقیقی آزادی لے کر رہے گی۔