شہباز گل پر دوران تحویل کوئی تشدد نہیں ہوا: رانا ثنا اللہ
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ میں پوری ذمہ داری سے اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کی تحویل کے دوران کوئی تشدد ہوا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شہباز گل نے عمران خان کی ہدایت پر متنازع بیان دیا جس میں شہدا کے تقدس کو پامال کیاگیا، ان کےاہل خانہ کے جذبات کو مجروح کیا گیا۔ اس بیان میں ریاست پاکستان پر ایسے الزامات بھی لگا دیے گئے جو کبھی دشمن ملک افغانستان نے بھی نہیں لگائے۔
وزیر داخلہ نے کہ شہباز گل نے 8 اگست کو طے شدہ منصوبے کے تحت اے آر وائی پر متنازع بیان دیا۔ اس کی باقاعدہ ریکارڈنگ موجود ہے کہ کس طرح چینل کے لوگ اس پروگرام کو فکس کرتے رہے کہ اتنے بجے فون آئے گا، اتنے بجے یہ سوال کیا جائے گا اور اس کے جواب میں 14 منٹ آپ نے یہ گفتگو کرنی ہے جس میں کوئی خلل نہیں ہوگا۔
یہ متنازع بیان دراصل عمران خان کا بیانیہ اور پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے۔ اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ ایک غیرملکی ایجنڈا ہے جسے 8 اگست کو اے آر وائی چینل پر آن ائیر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل کے اس بیان میں فوج کے رینک اینڈ فائل میں سب آرڈینیٹس کو یہ ترغیب دی گئی اور اکسایا گیا کہ آپ اپنے کمانڈ کا حکم نہ مانیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ بہت سے سیاستدانوں نے بہت سے مواقع پر اسٹیبلمشنٹ کی سیاست میں مداخلت پر بات کی ہوگی، کسی کا نام بھی لیا ہوگا۔ اسٹیبلسمنٹ کے بہت سارے افسران نے ریٹائرمنٹ کے بعد اس پر کتابیں بھی لکھیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا لیکن کسی نے بھی کبھی فوج میں کمانڈ کی حکم عدولی کی ترغیب نہیں دی۔ شہباز گل کےاس بیان پر 9 اگست کو ان پر مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں گرفتار کیا گیا اور 24 گھنٹوں کے اندر انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس کی فوٹیج ہم بھی جاری کردیں گے لیکن وہ میڈیا کے پاس بھی موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کیونکہ وہاں ان کے لیے کوئی نعرے بازی کرنے نہیں آیا تھا مگروہ مسکرا رہے تھے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے کوئی شکایت نہیں کی کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے اور میڈیا کے سامنے بھی کوئی ایسی بات نہیں کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ 12 اگست کو جوڈیشل ریمانڈ پر جانے سے پہلے شہباز گل 3 روز تک پولیس کی کسٹڈی میں رہے۔ ان 3 روز کے حوالے سے میں نے اپنی پوری تسلی کی ہے، آئی جی اسلام آباد اور پولیس کے تفتیشی افسران سے بھی پوچھا اور اپنے طور بھی معلومات لیں۔ میں پوری ذمہ داری سے اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کسٹدی کے دوران کوئی تشدد ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بات کی گارنٹی دینے کو بھی تیار ہوں کہ جتنا عرصہ وہ پولیس کی تحویل میں رہے ہیں ان کو وقت پر کھانا ملتا رہا، جو انہوں نے کھانے کا مطالبہ کیا ان کو وہی دیا گیا اور ناشتہ بھی دیا گیا۔ تفتیش کا عمل ضرور مکمل کیا گیا لیکن اس دوران کسی قسم کے ٹارچر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 12 اگست کو شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ 17 اگست تک 6 روز پر کسی پلیٹ فارم پر بھی شہباز گل کی جانب سے خود پر تشدد کی کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی۔17 اگست کو جب ان کا دوبارہ ریمانڈ دیا گیا اور مزاحمت کے بعد اسلام آباد پولیس ان کو لے گئی تو ان کی حالت خراب ہونے لگی لیکن کسی تشدد کی بنیاد پر ان کی صحت کی خرابی سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی جماعت کسی قسم کے جسمانی یا ذہنی تشدد اور ٹارچر کے سخت مخالف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیدات میں بطور حکومت اور بطور سیایس جماعت ہمارا یہ مؤقف ہے کہ ٹارچر انسان کی کی عزت نفس کی تذلیل ہے جس کی ضمانت پاکستان کا آئین دیتا ہے۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، ہم کسی طور پر اس کے حق میں نہیں ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ہم خود اس تشدد کا سامنا کر چکے ہیں، ہمارے قائد نواز شریف سے لے کر ہماری جماعت کی پوری اعلٰی قیادت سے نیچے تک ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا شکار رہے ہیں۔ شہباز گل نے اب تک پولیس اور عدالت کے سامنے جو بیانات دیے ہیں ان میں انہوں نے کہیں ایسی کوئی بات نہیں کی کہ ان پر جنسی تشدد ہوا ہے لیکن عمران خان نے یہ الزام بھی لگا دیا۔
پہلے ان لوگوں نے شہدا کی تذلیل کرنے کی کوشش کی جس کی پوری قوم نے یک زبان ہو کر مذمت کی اس کے بعد انہوں نے شہباز گل کے ذریعے اپنا بیانیہ پیش کیا جس پر اس قدر ردعمل آیا کہ یہ لاجواب ہوگئے اور اس بیان کا دفاع نہیں کر سکے۔ اس سے دھیان ہٹانے کے لیے انہوں نے شہباز گل پر تشدد کی کہانی گھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پوری قوم کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تشدد کا یہ سارا ڈرامہ لسبیلا کے شہدا کے خلاف اور اے آر وائی پر دیے گئے ان کے بیانے سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ ہم تشدد کے خلاف ہیں لیکن اپنے متنازع بیانیے سے توجہ ہٹانے کے لیے تشدد کے ڈرامے کے بھی ہم مخالف ہیں اور اسے ہم پوری طرح بے نقاب کریں گے۔
بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے عمران خان کی گزشتہ روز ایف نائن اسلام آباد میں کی جانے والی تقریر کی ویڈیو چلائی گئی جس میں عمران خان نے ڈی آئی جی اور خاتون مجسٹریٹ کے خلاف ایکشن لینے اور مقدمہ کرنے کی وارننگ دی تھی۔
رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ایک خاتون جج کا نام لے کر دھمکیاں دیں اور آفسرز کو کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ عمران خان صاحب! آپ کو خود اس روز شرم کیوں نہیں آئی جب آپ نے ایف آئی اے کے بابر بخت کو تھانے میں بھیجا تھا اور وہاں اس نے آٹھ، دس مسلح لوگوں کے ہمراہ محسن بیگ پر تشدد کیا اور اس کی ویڈیو بنا کر آپ کو بھیجی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر وہ ویڈیو دیکھتے ہوئے آپ کو شرم کیوں نہیں آئی؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کل عمران خان کی تقریر کےدوران دیا جانے والا بیان قابل مواخذہ ہے۔ اس حوالے سے جائزہ لیا جارہا ہے، میرے وزارت نے اس بارے میں رپورٹ تیار کی ہے کہ آیا ان کا یہ بیان ان کے گزشتہ دونوں بیانیوں کا تسلسل ہے اور کیا اس تقریر کو بھی اس مقدمے کا حصہ بنا کر عمران خان کو گرفتار کیا جائے یا انہیں۔ اس مقدمے میں بطور ملزم نامزد کیا جائے یا پھر اس پر علیحدہ سے ایک مقدمہ درج کیا جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس رپورٹ پر ہم وزارت قانون اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے رائے لے رہے ہیں کہ عمران خان کی اس تقریر پر علیحدہ سے مقدمہ ہونا چاہیے یا پھر اس مقدمے کا حصہ بنا کر عمران خان کو نامزد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات میں واضح کردوں کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اپنے ان ڈراموں کے ذریعے قوم کی توجہ اپنے اصل ایجنڈے سے ہٹا سکتے ہیں تو اس میں ہم انہیں کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ عمران خان نے لانگ مارچ کا کہا ہے، میں منتظر ہوں کہ عمران خان لانگ مارچ کریں۔ ان شا اللہ 25 مئی سے زیادہ مؤثر جواب ملے گا، ہماری تیاری پوری ہے۔ اگر آپ نے کوئی حرکت کی تو ان شا اللہ اسی روز فیصلہ ہو جائے گا۔