عمران خان زوال کی راہ پر ؟
- تحریر ضمیر آفاقی
- اتوار 21 / اگست / 2022
کہا یہ جا رہا ہے کہ عوام کی اکثریت عمران خان کے ساتھ ہے جس کی وجہ ان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد بتائی جاتی ہے۔ عمران خان کتنے مقبول ہیں یا غیر مقبول ہم جیسوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔
ہمیں تو اس پر بات کرنی چاہیے کہ ان کے طرز سیاست نے معاشرے کو کیا دیا ہے۔ اور ہمارا موضوع بھی یہ ہونا چاہیے جس سے ہم عوام الناس کو یہ بات باور کرا سکیں کہ جب کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ ہو اور وہ ملک کا وزیر اعظم بھی رہ چکا ہو تو اسے اپنے انداز بیاں کو انتہائی مہذبانہ رکھنا چاہیے تاکہ عوام کی نظروں میں وہ حقیقت میں لیڈر بھی محسوس ہو اور اس کی عزت بھی بنی رہے۔ اور دوسری بات جب کوئی شخص وزرات عظمی جیسے منصب پر فائز رہ چکا ہو تو وہ ملک کے رازوں کا امین بھی ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اپنے انداز و بیان سے عمران خان نہ ہی بڑا سیاسی لیڈر بن سکا اور نہ ہی وہ اتنے بڑے منصب کا اہل تھا۔ وہ کس طرح اس منصب تک پہنچا اور کیسے اس کی سیاسی جماعت کو پاپولر کیا گیا، یہ سب باتیں اب کوئی راز نہیں رہیں بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن ملک کے ساتھ اس نے جو کھلواڑ کیا اس کے نقصانات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کئے جاتے رہیں گے۔ ایک طرف ملک کو بیرونی دنیا میں بدنام کیا، معاشی تباہی پھیری تو دوسری جانب اندرونی طور پر معاشرے میں نفرت اور تعصب کوفروغ دیا جس کا نتیجہ آج گھر گھر لڑائی جھگڑوں کی صورت سامنے آرہا ہے۔ بلکہ سماجی خوبصورتیاں ، اور تہوار بھی اس بندے نے پراگندہ کر دیے۔
باعزت لوگوں کی عزتیں اچھالنے کا درس اس نے دیا، اپنے مخالفین کے لئے برے اور گندے القابات اس نے ایجاد کئے ۔ عمران خان نے اپنے فالور کی ایک ایسی فورس تیار کی ہے جسے لوگ عقل سے پیدل قرار دے رہے ہیں۔ آج کل ملک میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، ضمنی انتخابات کی گہما گہمی ہے۔ کبھی انتخابات فیسٹیول کے طور پر ہوا کرتے تھے لیکن خان کی سیاست نہیں انہیں لڑائی جھگڑے اور مار کٹائی اور گالی گلوچ میں بدل دیا ہے۔ عمران خان جہاں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں وہیں انہوں نے ملک کے ہر ادارے کے خلاف اپنی توپوں کا رخ کر رکھا ہے بلکہ سب سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف مختلف طریقوں اور الفاظ کے انتخاب سے تنقید کر رہے ہیں۔ کبھی نیوٹرل کی اصطلاح ایجاد کرتے ہیں توکبھی ایکس اور وائے کے تیر برساتے ہیں۔
پہلے انہوں نے نیوٹرلز کا لفظ استعمال کیا تو اب وہ جلسوں میں مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کی اصطلاحات استعمال کررہے ہیں۔ ان کا مقصد ہر ادارے کو متنازعہ بنانا ہے تاکہ لوگ ان کے فیصلوں اور کاموں کو شک و شبے کی نگاہ سے دیکھیں اگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو ان کا یہ رویہ ملک میں انارکی پیدا کر سکتا ہے۔ ان کی ٹیم کے افراد ملک کو سری لنکا بننے کی طرف گامزن قرار دے رہے ہیں اور انجام کے ڈرواے دے رہے ہیں۔ کیا کوئی محب وطن لیڈر یا اس کی جماعت ایسا طرز عمل اپنے ملک اور اداروں کے ساتھ رکھ سکتی ہے ؟ اس سوال کا جواب عوام الناس پر چھوڑتے ہیں۔ جو کچھ عمران خان کہتے ہیں ان کے ٹیم ممبر ان سے بڑھ کر دو ہاتھ آگے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ جیسا کہ کچھ دن پہلے لاہور میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ادارے اور عوام ایک ہی سمت میں اچھے لگتے ہیں۔ پاکستان میں آنے والے نرم انقلاب کی راہ میں ادارے رکاوٹ نہ بنیں۔ عمران خان اور عوام ایک طرف کھڑے ہیں جبکہ اشرافیہ دوسری طرف ہے، یہ تصادم اچھا نہیں ہوگا۔‘
فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ’ان کی جماعت کے پاس دو ہی آپشنز ہیں یا تو انقلاب سے ہوش میں آئیں یا پھر سری لنکا جیسے حالات پیدا ہوجائیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور پنجاب کے وزیر داخلہ عطااللہ تارڑ کو اسٹیبلشمنٹ کے مہرے قراردیا۔‘ اسی طرح شیخ رشید اور دیگر رہنما بھی ایسے ہی بیانات داغ رہے ہیں۔ یعنی ان کی مرضی کے خلاف ہونے والا کوئی بھی فیصلہ یا نتیجہ آئے تو یہ تمام اداروں محکموں اور عوام کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں اور انہیں کوئی پوچھے بھی ناں۔ ابھی شہباز گل کےواقعے کو ہی لے لیں کہ خان صاحب کس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اندر سے اتنے خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ آنے والا وقت ان کے لئے بہت سخت ہے۔ کئی طرح کے کیس ان کے اور کے قریبی رفقا کے خلاف چل رہے ہیں اور تحقیقی مراحل میں ہیں۔ وہ کسی بھی وقت ان میں پھنس سکتے ہیں اور اس طرح کی بیان بازی رویے اور طریقہ کار سے وہ تمام اداروں ان کی کارکردگی کو قبل از وقت متنازعہ بنا کر وہ اپنے کارکنوں کو مشتعل کرنا چاہتے ہیں۔
جیسا کہ ابھی ضمنی انتخابات ہوئے نہیں نتیجہ بھی کوئی نہیں آیا لیکن پری پول رگنگ اور الییکشن کمیشن کو متنازعہ بنانے کا شور وہ خود بھی اور ان کے ساتھی بھی مچانا شروع ہو گئے ہیں۔ جس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ہارنے کی صورت میں وہ الیکشن کے نتائج تسلیم نہیں کریں گے اور عوام میں جا کر شور مچائیں گے کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ دھاندلی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی وہ اداروں کو متنازعہ بنا کر ان کے خلاف عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کر رہے تاکہ ان کے خلاف کوئی فیصلہ آئے تو ان کے کارکن اس فیصلے کو نہ مانتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ ہم سمجھتے ہیں اس طرح کی سیاست اور لیڈر کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہوتا۔ انہوں نے جو بیج بوئے ہیں اس کے فصل بھی انہوں نے ہی کاٹنی ہے، اپنے کارکنوں میں نفرت تعصب اور گالی کا جو کلچر پروان چڑھایا ہے اس کا شکار یہ خود بھی ہوں گے اور ان کے ساتھی بھی۔
اس لئے بہتر تو یہ ہے کہ ملک کی بہتری کے لئے وہ اور ان کی پارٹی اپنا پارلیمانی سیاسی کردار ادا کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کریں۔ یہی ایک راستہ ان کی بقا اور فلاح کا ہے باقی سارے راستے ان کی سیاسی زوال کی طرف جاتے ہیں۔ اب یہ ان پر ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے ہی انہیں کوئی سبق سیکھ کر اپنی اصلاح کر لینی چاہیے۔