انسانی جان کی حرمت و ناموس؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 21 / اگست / 2022
کیا اس کائنات یا کرۂ ارض میں انسانیت سے مقدس بھی کوئی چیز ہے؟ الہیات کے ہر فلسفے اور علم کی جڑ انسانی محبت و خدمت میں پنہاں ہے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ اے بندے میں بیمار تھا تو نے میری تیمار داری و عیادت نہ کی، میں بھوکا پیاسا تھا تو نے مجھے روٹی پانی نہ دیا، میں ننگا تھا تو نے مجھے کپڑا یا لباس نہ پہنایا۔ بندہ عرض کرتا ہے اے پروردگار عالم تیری ذات بالا تو ان ضروریات و حاجات سے ماورا ہے۔ تیری کبریائی کو بھوک پیاس لگتی ہے اور نہ تو بیمار ہو سکتا ہے۔ قندیل نور کی لامکانی سے جواب آتا ہے دیکھ میرا بندہ بھوکا پیاسا تھا تو میں ہی بھوکا پیاسا تھا، میرا بندہ بیمار تھا تو میں ہی بیمار تھا، میرا بندہ بے لباس تھا تو میں ہی بے لباس تھا۔ کیا کسی مسلمان نے کبھی ڈیڑھ ہزار برس قبل بیان کی گئی اس حکمت میں پنہاں درد مندی کو سمجھنے کی کوشش کی؟
پوچھا جا رہا ہے کہ اے مسلمان کیا تمہیں معلوم ہے کہ یوم عرفہ اور کعبة اللہ کی حرمت سے بھی بڑھ کر کس چیز کی عظمت و حرمت ہے۔ جواب نہ ملنے پر بتایا جاتا ہے کہ انسانی جان کا احترام اور اس کی ناموس و حرمت اس مقدس دن اس مقدس مہینے، اس مقدس مقام اور اس مقدس حرم پاک سے بھی بڑھ کر ہے، جس کے تم چکر کاٹتے ہو اور جس کے رخ پر تم ہر عبادت میں چہرہ پھیرتے ہو۔ کیا کبھی تم نے اس کا مطالعہ کیا کہ یہ کتنی بار منہدم ہوا اور کتنی بار اس کی تعمیر نو ہوئی؟ لیکن کبھی تم نے یہ دیکھا کہ ایک جیتے جاگتے انسان کی گردن کاٹ کر یا اسے موت کے گھاٹ اتار کر دوبارہ اسے زندہ کیا جا سکا ہو؟ اسی لئے قتل کی وعید میں جتنے فرمان جاری ہوئے ہیں، کاش کبھی انہیں بھی پڑھ یا سن لو، تمہارے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ طوطے کی طرح یہ تو رٹتے ہو کہ جس نے کسی ایک انسان کی جان لی اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا۔ کیا کبھی اس کی معنویت کو سمجھے یا اس کی سنگینی پر بھی غور فرمایا؟
سیدنا داﺅد ؑ صاحب کتاب ہستی ہیں زبور میں ان کی حمدیہ مناجات اور محبت بھرے گیت وجد آفرین ہیں۔ اس اولوالعزم حکمران نے خدا کے نام پر تلوار اٹھائی اور ایک عظیم الشان اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اب سوچا اتنے بے پناہ وسائل میسر ہیں کیوں نہ خدا کا ایک ایسا عظیم الشان گھر ”ہیکل “ تعمیر کروں جو موجودہ ہی نہیں آنے والی نسلوں کیلئے بھی قبلہ ٹھہرے اور وہ یروشلم میں امن و سلامتی کا مقام قرار پائے۔ جب تمام اسباب مجتمع کر لیے تو ستر ماﺅں سے زیادہ محبت کرنے والے کا شاہی فرمان یا حکم نامہ آ گیا: اے داﺅدؑ تیرے ہاتھ میرے بندوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ان ہاتھوں سے میرا سلامتی والا گھر نہیں بن سکتا۔ بیت المقدس یا اس ہیکل کی تعمیر سلیمان ؑ کے معصوم ہاتھوں سے ہوگی۔ عرض کی اے خداوند میں نے تلوار تیرے مقدس نام پر اٹھائی تھی، میں نے تیرے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ جواب ملا لیکن وہ تھے تو میرے ہی بندگان میری ہی پیاری مخلوق۔
الخلق عیال اللہ کہنے والے نے بھی کیا یہی درس نہیں دیا تھا، جنہوں نے اسے اس کے محبوب شہر سے نکل بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا اس مکی مہاجر کو جب اپنے انہی دشمنوں پر کامیابی ملتی ہے تو کیا کہا؟ آج کے دن تم پر کوئی سزا نہیں تم سب کو اسی طرح معاف کیا جاتا ہے جس طرح کنویں میں پھینکے جانے والے یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو معاف کیا تھا۔ اپنے سب سے بڑے دشمن سردار کا نام لے کر کہا جاتا ہے جس نے ابو سفیان کے گھر میں پناہ لی اس کو بھی امان ہے۔ مثالیں تو آپ دیتے نہیں تھکتے ہو کہ ہر روز توہین کی مرتکب کوڑا پھینکنے والی یہودی خاتون کو کیا سزا دی؟ ماں جی معلوم ہوا ہے کہ آپ بیمار ہیں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عیادت و تیمار داری کے لئے آیا ہوں۔ آپ یہ شاعری پڑھتے نہیں تھکتے ہو کہ سلام اس پر جس نے خوں کے پیاسوں کو عبائیں دیں، سلام اس پر جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں لیکن ذرا اپنی حرکتوں پر تو غور کرو۔
راجستھان کے شہر اودھے پور میں ایک غریب درزی کنہیا لال کا سر تن سے جدا کرنے والے کون لوگ ہیں۔ 38 سالہ ریاض عطاری اور 39 سالہ مولوی غوث محمد، جو آستینوں میں چھرے چھپا کر جاتے ہیں اور کنہیا لال جی کہتے ہوئے اپنے کپڑوں کا ماپ لینے کیلئے بلاتے ہیں اور قریب آتے ہی دکان کے دروازے پر اس کی گردن کاٹتے ہیں، ویڈیو بناتے ہیں اور موٹرسائیکل پر فرار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملاﺅں اور میڈیا نے نوپور شرما، بی جے پی کی خاتون لیڈر کے خلاف چند روز قبل ایک طوفان اٹھا رکھا تھا۔ اس ظلم پر آج وہ سب کہاں ہیں کیا فرماتے ہیں؟ اس ہندو درزی کا جرم کیا تھا یہ کہ اس نے سوشل میڈیا پر نوپور شرما کی حمایت کی تھی۔ کیا یہ ایسا جرم تھا جس پر اسے قصائیوں کی طرح ذبح کر دیا جاتا، اس کے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنا دیا جاتا؟ مانا کہ اس پڑھی لکھی لندن سکول آف اکنامکس سے ایل ایل ایم کرنے کے بعد ملکی سیاست میں حصہ لینے والی خاتون کو اس نوع کا متنازعہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا جس پر توہین کا لیبل لگ سکے اور اس نے معذرت کرتے ہوئے اپنا وہ بیان واپس لینے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے باوجود کیا اس کے ساتھ ریپ کرنے اور سرتن سے جدا کرنے اور خاندان سمیت اڑا دینے کی دھمکیاں نہیں دی جاتی رہی ہیں؟۔
ہندوستان میں مسلمان نوجوان اس کی تصویر زمین پر رکھ کر اوپر پیشاب کرتے پائے گئے ہیں۔ اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی اور اسے اس کی پارٹی نے ترجمانی کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے رکنیت معطل کر دی۔ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے وہ وڈیو دیکھی ہمارے لوگ تو اس نوع کی باتیں اٹھتے بیٹھتے ہر روز کرتے ہیں۔ اسی ٹویٹ کرنے والے محمد زبیر نے ہنی مون ہوٹل کے ہنومان ہوٹل بننے کا سوال اٹھایا تھا۔ ایک بنگلہ دیشی کالج میں کسی طالب علم نے ٹویٹ کی حمایت کی اور کالج پرنسپل اسے بچانے آ گئے تو اس پر ٹوٹے جوتوں کا ہار اس پروفیسر کے گلے میں ڈال کر اسے گھمایا جاتا رہا ہے۔ کیا یہ چیز توہین کے زمرے میں نہیں آتی ہیں؟ درویش کے ایک قریبی دوست ٹم گرین نے اسے بتایا کہ میں آکسفورڈ سٹی میں پیدا ہوا آپ جانتے ہیں کہ میرا خاندان صدیوں سے وہیں آباد ہے لیکن ہم برٹش لوگ اپنے ملک اور اپنے گھروں میں آپ مسلمانوں کے شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ ہم اسلامی دہشت گردی سے خوفزدہ ہیں۔ یہی چیز اگر انڈین ہندو اپنے ملک اور اپنے گھر میں محسوس کریں گے یا اس کا ردعمل آئے گا تو ہم لوگ مظلومیت کی چادر اوڑھ کر ٹسوے بہانے شروع کر دیں گے۔
ناچیز عرض گزار ہے کہ تمام مذاہب عالم کی مقدس ہستیاں قابل احترام ہیں۔ علامہ اقبال نے ایسی قانون سازی کی حمایت کی تھی جس میں تمام بانیان مذاہب کی توہین کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ درویش تو کسی چنگڑ یا کمتر کی توہین بھی قابل سزا جرم سمجھتا ہے۔ چہ جائیکہ اتنی ہر دلعزیز عظیم ہستیوں میں سے کسی کی شان کے خلاف کوئی ایک فقرہ بولا جائے۔ لیکن یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہر طرفہ ہو نا چاہیے ورنہ مسلمان عصر حاضر میں اپنے دین کی جس قدر بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور پوری دنیا کو اس سے جس قدر متنفر کر رہے ہیں۔ اس کے لئے کسی غیر کو اسلامو فوبیا کی ضرورت نہیں ہے۔