توہین عدالت کیس میں عمران خان 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا گیا

  • منگل 23 / اگست / 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران  پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ  عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی۔ بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون سے استفسار کیا کہ یہ قابل اعتراض ریمارکس کب دیے گئے ہیں؟ جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ 20 اگست کو عمران خان نے ایف نائن پارک میں یہ ریمارکس دیے۔ عمران خان نے کہا زیبا صاحبہ آپ کو شرم آنی چاہیے ہم آپ کے خلاف بھی ایکشن لیں گے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وہ کونسا کیس سن رہی تھیں جس پر یہ ریمارکس دیے گئے؟ جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج شہباز گِل سے متعلق کیس سن رہی تھیں۔ عمران خان مسلسل اداروں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، کسی بھی جماعت کو اب اداروں کے خلاف بیانات سے روکا جانا چاہیے۔ عمران خان نے عدلیہ پر عوام کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا جو بھی عدالت کسی کے خلاف فیصلہ دے گی اس کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیں گے؟ کیا یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اٹھیں اور خود اپنا انصاف کرنا شروع کر دیں؟ اس رتبے کا آدمی جو وزیراعظم رہ چکا وہ ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے؟

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ کیس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تو سوال کا جواب دیں، کیا عمران خان کو نوٹس جاری کیا جائے یا شوکاز نوٹس ہونا چاہیے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ بادی النظر میں یہ کیس شوکاز نوٹس کا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ خاتون جج کا نام لے کر اس طرح کی گفتگو کی گئی، انویسٹی گیشن میں تو عدالتیں بھی مداخلت نہیں کرتیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک خاتون جج کو دھمکی دی گئی ہے۔ اگر یہ ماحول بنانا ہے تو کام تو ہو گا ہی نہیں۔ پورے پاکستان میں ججز کام کر رہے ہیں، کیا کورٹ جو فیصلہ دے گی تو اس کے خلاف تقریریں شروع کر دیں گے؟

انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے لیڈر سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی، عام آدمی کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں کہ وہ اٹھے اور اپنا انصاف خود شروع کر دے؟ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ جس خاتون جج کو دھمکی دی گئی اس کو اضافی سیکورٹی دینے کو تیار ہیں؟

ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ عمران خان جوڈیشری اور الیکشن کمیشن کے خلاف مسلسل ایسی گفتگو کرتے رہے ہیں۔ عمران خان انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، وہ شہباز گل کے ریمانڈ سے متعلق کیس سن رہی تھیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جس کیس میں ریمارکس دیے گئے اس کیس کا کیا بنا؟

بعدازاں عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کرلیا گیا۔ لارجر بینچ نے اس معاملے پر 3 سے زیادہ ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دینے کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔

عمران خان کے خلاف خاتون جج کے بارے میں متنازع ریمارکس دینے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے سے قبل ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے سابق وزیر اعظم کے بیانات کی ویڈیوز عدالت کے ریکارڈ پر لانے کی اجازت طلب کی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ عدلیہ اور دیگر اداروں کے خلاف مختلف مواقع پر عمران خان کے مختلف بیانات کو عدالت میں چلانے کی اجازت لینا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے بارے میں عمران خان کے متنازع ریمارکس پر ان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے مذکورہ بینچ تشکیل دیا تھا۔