سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے دنیا سے مدد کی اپیل
پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد اور تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کے سلسلے میں درکار فنڈز کے لیے عالمی سطح پر اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے پاکستان میں سیلاب کی ہنگامی صورتحال پر ایک ہنگامی بریفنگ کے دوران کیا گیا جسے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازسرنو جائزہ لینے اور ترقیاتی شراکت داروں اور عطیہ دہندگان کو بحران کی شدت سے آگاہ کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی تباہی پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر اپیل کے فیصلے کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے بھی سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ حکومت کو سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے سیکڑوں ارب روپے درکار ہیں۔
وزیر اعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ موجودہ امدادی آپریشن کے لیے 80 ارب روپے درکار ہیں اور نقصانات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ متاثرین کی بحالی کے لیے بھی سینکڑوں ارب روپے کی ضرورت ہے۔ سیلاب متاثرین کو 25 ہزار روپے کی نقد امداد دی جارہی ہے، اسی طرح حکومت زخمیوں اور مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے اضافی امداد کے ساتھ ساتھ متوفین کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی فراہم کرے گی۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت این ڈی ایم اے کے اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ سیلاب سے اب تک ملک بھر میں 830 افراد جاں بحق، تقریباً ایک ہزار 348 زخمی اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں سے کہا کہ وہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے فوج سے باضابطہ طور پر مدد طلب کریں۔
دریں اثنا اس حوالے سے یورپی یونین نے پاکستان کو انسانی امداد کے لیے 7 کروڑ 60 لاکھ روپے فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جسے جھل مگسی اور لسبیلہ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شدید متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا
حکام نے مزید بارشوں کا انتباہ بھی جاری کیا ہے۔ سیلاب کے سبب جان سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد 232 تک جا پہنچی جبکہ پہاڑی ندی نالوں میں بہہ جانے والے درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نصیر آباد، جعفر آباد، صحبت پور، جھل مگسی، قلات، بولان اور لسبیلہ کے اضلاع کو شدید سیلاب کا سامنا ہے۔