سابق کھلاڑی کی ذہنی کنفیوژن؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 25 / اگست / 2022
ایک مہربان نے پوچھا ہے کہ آپ تو ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف رہے ہیں اور اس کی مخالفت میں کھڑے ہونے والے سیاسی لوگوں کی حمایت میں لکھتے بولتے چلے آ رہے ہیں، آج پی ٹی آئی کا چیئرمین جس بہادری سے اسٹیبلشمنٹ کے چھکے چھڑا رہا ہے بلکہ اس کی تذلیل کر رہا ہے تو آپ اس کی حمایت میں کیوں نہیں لکھ رہے ؟
دوسرے آپ مذہبی بنیاد پرستی اور تنگ نظری کے بالمقابل ہمیشہ سے ماڈریٹ لبرل اپروچ کے علمبردار ہیں آج اس پاپولر شخص نے اپنی پاپولیریٹی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اگر ’قاتلانہ حملے‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے تب بھی آپ کا ضمیر نہیں جاگا کہ آپ اس کی مخالفت ترک کرکے کم از کم کسی ایک ایشو پر اس کی حمایت میں چار لفظ لکھ دیتے ۔ اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ کسی بھی صحافی یا لکھاری کو بہرصورت پارٹی باز نہیں غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ کسی کی حمایت یا مخالفت کا معیار ہمیشہ انسانی مفاد اور حقوق انسانی کی مطابقت میں رہنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی نظر محض وقتی و ہنگامی بیانات یا بدلتے پینتروں تک نہیں بلکہ اس کے پس منظر، سیاق وسباق اور شان نزول کی اصلیت تک ہونی چاہئے۔ جو لوگ ان حقائق کا ادراک نہیں کرتے محض لچھے دار تقاریر یا پروپیگنڈے کی بھرمار سے مار کھا جاتے ہیں بھلا اس شعلہ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا، تاریخی طور پر ہمارے سطح بین لوگ پاپولر اپروچ اور پروپیگنڈہ کے زیر اثر اکثر و بیشتر دھوکے کھاتے رہے ہیں۔
درویش نے اس کے مظاہر 2018میں ہی نہیں ستر اور سنتالیس میں بھی ملاحظہ کئے ہیں۔ کاش ان کی سنگینیاں آشکار کرنے کی کبھی گنجائش مل سکے ۔ سابق کھلاڑی کی اصلیت تو اس پر سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہی واضح ہو گئی تھی کہ اس کا مدعا صرف اور صرف کرسی کا حصول ہے چاہے لاشوں پر چڑھ کر اس تک پہنچنا پڑے۔ اور اگلا مدعا اس کرسی پر براجمان رہنا تھا چاہے ٹکے کی کارکردگی یا صلاحیت دکھانے سے بھی عاری ہو ۔ کئی لوگ اپنی خود پسندی کی پرستش کے جنون یا بیماری میں ایسے مبتلا ہو جاتے ہیں کہ انہیں ہر کوئی اپنے سے کمتر و کمزور دکھتا ہے۔ اس نشے میں وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ سامنے تو اس کا ابا ہے جس کی بیساکھی سے وہ اس ایوان تک پہنچا تھا۔
اس للکار یا پھنکار میں وہ طاقتور کو نیوٹرل کہے یا جانور، ذہنی کنفیوژن بہرحال واضح ہے جس کا تازہ نمونہ بطور ریکارڈ قابل ملاحظہ ہے ۔ ’نیوٹرلز کا پیغام مجھے پھینٹا لگانے کا تھا اور منصوبہ میری پارٹی کو ختم کرنے کا، اس لئے میں حقیقی آزادی تک سڑکوں پر رہوں گا اس ملک میں جو بھی غلط کام ہوتا ہے اس میں نیوٹرلز کا نام آ جاتا ہے۔ اگر آپ نیوٹرلز نہیں ہیں تو کیوں اس ملک کو اتنا نقصان پہنچا رہے ہیں؟ 25مئی کو ہمارے اوپر تشدد کیا گیا تو پولیس کے اندر سے بتایا گیا کہ ہمارے اوپر پیچھے سے پریشر تھا۔ نیوٹرلز کا پریشر کہ ان کو پھینٹا لگاؤ۔
چیف الیکشن کمشنر ہر فیصلہ ہمارے خلاف دے رہا ہے مجھے نااہل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر اندر سے پیغام آ رہا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر رہا پیچھے سے بوٹ کا پریشر ہے‘۔
’شہباز گل کے معاملے پر پولیس سے پوچھا تو جواب ملا کہ ہمیں تو کچھ نہیں پتہ یہ سب پیچھے سے ہو رہا ہے میرے گھر میں کوئی ملنے آ جاتا ہے تو ایجنسی سے فون آتا ہے کہ تم وہاں کیا کرنے گئے تھے ؟ میرے گھر کوئی آتا ہے تو پولیس اس کے جوتے اترواتی ہے پولیس والے کہتے ہیں کہ یہ سب پیچھے سے ہو رہا ہے ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نیوٹرل ہیں یا نہیں ہیں؟ اگر نیوٹرل نہیں ہیں تو کیوں اس ملک کو اتنا نقصان پہنچا رہے ہیں؟ اگر آپ نے ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے جن کو قوم تیس سالوں سے چور سمجھ رہی ہے تو کیا قوم اس لئے ان کا ساتھ دے کہ آپ ان کے ساتھ کھڑے ہیں؟ اس ملک میں جو بھی غلط کام ہو رہا ہے آپ کے نام سے ہو رہا ہے مجھے پتہ ہے کیا پلان بنا ہوا ہے۔ مسٹر وائی کیا پلان لے کر آیا ہے ؟ مجھے جیل میں ڈالنے کا ، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا میں قوم کو اکٹھا کروں گا اور ملک کا حال یہاں سری لنکا والا ہو جائے گا‘۔
اس تمام تر پروپیگنڈے اور طعنہ زنی کا منبع یہ ذہنی خلجان ہے کہ میں تو اچھائی کا پتلا اور نجات دہندہ ہوں جبکہ دوسرے سب چور ڈاکو ہیں حالانکہ ساڑھے تین سالہ کارکردگی کے بعد یہ خناس ذہن سے نکل جانا چاہئے تھا کہ میں دوسروں سے برتر ہوں۔ اس ملک کی جو بربادی یا ’آباد کاری‘ دوسرے تیس سالوں میں نہ کر پائےتھے آپ نے ماشااللہ محض تین سالوں میں کر دکھائی۔ آپ پیہم یہ دعویٰ کرتے نہ تھکتے تھے کہ کون کتنا چور اور بے ایمان ہے طاقتوروں کو ان سب کا پتہ ہوتا ہے۔ اسی لئے ایجنسیوں کا یہ استحقاق ہے کہ وہ منتخب حکمرانوں کے فون ٹیپ کریں دوسروں پر طاقت کی لٹھ پڑے تو آپ کے نزدیک وہ مجرم ہیں اور خود آپ پر یہ لٹھ برسے تو آپ مظلوم ہیں۔ کیا اس کا نام انصافی تحریک ہے؟ آج آپ فرماتے ہیں کہ میں تو بے اختیار محض کٹھ پتلی تھا اختیار و اقتدار تو کسی اور کے پاس تھا جو دوسروں پر دست شفقت رکھتا تھا۔ تو پھر اس کے باوجود دوسروں کو تیس سالہ حکمرانی کے طعنے کس بنیاد پر دیتے ہیں؟ کیا دوسرے جن کو آپ کمزور کہتے ہیں آپ سے زیادہ بے بس نہ تھے ؟ جبکہ آپ کی نام نہاد بہادری کا یہ عالم ہے کہ ایک کمزور خاتون جج کا نام لے کر اسے عوامی جلسوں میں دھمکیاں دیتے ہو۔ اگر سچ مچ کے بہادر یا پاپولر نجات دہندہ ہو تو ذرا اسی لب و لہجے یا گرج میں اصل نیوٹرل کا نام لے کر اسی طرح مخاطب کرکے دکھا دو اور پھر آٹے دال کا بھائو معلوم کرلو ۔
اتحادیوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے حریف کو خواہ مخواہ نالی میں دھکا نہیں دیتے توہین عدالت کوئی ایسا ایشو نہیں ہے جس پر گرفتاری کی کارروائی ڈالی جائے۔ اس پر تو وہ یقیناً معافی مانگ کر اپنے مہربانوں کی ہمدردی حاصل کر لے گا۔ نواز شریف کوپاناما کی بجائے اقاما میں پکڑنے والوں نے اخلاقی طور پر نواز شریف کی عظمت و وقار میں اضافہ کیا۔ قوم پر ثابت ہوگیا کہ تین مرتبہ منتخب ہونے والے پر کرپشن کے الزامات محض جھوٹ کے پلندے تھے، ثابت پائی بھی نہیں ہو سکی ۔ اب اگر آپ لوگ اپنے توشہ خانے کی لوٹ مار یا ممنوعہ فارن فنڈنگ کے الزامات میں سچے ہیں تو لاؤ اسے قانون کے کٹہرے میں اور مہیا کرو اپنے اور الیکشن کمیشن کے ثبوتوں کو اور گرفتاری ڈالو ٹھوس شواہد کے ساتھ۔ کیا کہا وہاں جان نثاری و جانبداری ہے؟ تو ننگا کرو اس رحمتے بہروپئے کو بھی جو ڈیم کے نام پر نو ارب کی وصولی کرتے ہوئے چودہ ارب کی دیہاڑی لگا گیا یا دھول جھونک گیا ۔۔۔ (جاری ہے )