بارشوں اور سیلاب نے پنجاب، خیبرپختونخوا میں مزید 8 جانیں لے لیں
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلاب نے 6 بچوں سمیت مزید 8 افراد کی جان لے لی جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ سیالب کی تباہ کاریوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کرگئی ہے۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ اپر دیر اور سوات کے اضلاع میں مسلسل طوفانی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد کم از کم 6 بچے سیلاب میں بہہ کر جاں بحق ہو گئے جبکہ دیگر متعلقہ واقعات میں 9 افراد زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب ریسکیو 1122 پنجاب نے پہاڑی طوفان سے 2 اموات کی تصدیق کی ہے جن میں سے ایک ڈیرہ غازی خان اور ایک راجن پور میں ہوئی، طوفان نے اسکولوں، صحت کی سہولیات، سڑکوں، بجلی کی لائنوں اور آبپاشی کی نہروں کے نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔
سیلاب سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد دریا کے کناروں اور انڈس ہائی وے کے ساتھ بارش میں کسی پناہ گاہ کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں، ان کی رہائش کے علاقوں اور ان کے آس پاس کمر تک پانی جمع ہے۔ پنجاب میں مزید اموات کے بعد صوبے میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ہلاکتوں کی کُل تعداد 38 ہو گئی۔
اپر دیر میں تھانہ باروال کی حدود میں واقع قصائی شاہی کوٹ کے مقام پر اسکول کے 5 بچے سیلاب میں ڈوب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسکول سے واپس جاتے وقت بچے پانی میں بہہ گئے، پانی کم ہونے کے بعد 4 بچوں کی لاشیں مل گئیں جبکہ پانچویں بچے کی تلاش جاری ہے۔
اس سے قبل ثمرباغ کے گاؤں زنگیاں میں حاجی رحیم گل کی بھتیجی ندی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی، مقامی لوگوں نے کافی کوششوں کے بعد لاش کو ندی سے نکالا۔ اپر دیر کے علاقے گنڈیگر میں موسلا دھار بارش سے دو کمروں کا مکان گر گیا تاہم مکین محفوظ رہے، مینگورہ میں سیلاب میں گھرے اسکول کے سیکڑوں طلبہ کو مقامی لوگوں، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کی ٹیموں نے بچایا۔
ڈیرہ غازی خان کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب چکا ہے جس سے بجلی کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر خلل آیا ہے، شہر میں بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ شدید بارشوں کے دوران علاقے میں 640 ٹرانسفارمر، ایک ہزار 575 سنگل فیز میٹر اور 145 تھری فیز میٹرز کو نقصان پہنچا۔
تونسہ بیراج سے روجھان تک ریلوے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دونوں اضلاع میں پہاڑی طوفان کے تیز پانی سے محکمہ آبپاشی کا بنیادی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، سڑکیں اور درجنوں پل بھی بہہ گئے۔ بارتھی روڈ اور تونسہ موسیٰ خیل روڈ تاحال بند ہے اور این 55 انڈس ہائی وے سیلاب کے بعد بری حالت میں ہے جس کی فوری مرمت کی ضرورت ہے، دونوں اضلاع میں مجموعی طور پر 60 سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن ذوالفقار ملغانی نے بتایا کہ ضلع ڈیرہ غازی خان میں 86 سکول سیلاب کی زد میں آنے کے بعد بند ہو گئے۔ راجن پور کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ضلع کے 60 فیصد اسکول زیر آب آ چکے ہیں جبکہ باقی اسکولوں کو ریلیف کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک اور ادویات سمیت امدادی سامان کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ انہوں نے خوراک اور پناہ گاہوں کو لے جانے والی گاڑیوں کو دیکھا ہے لیکن بیوروکریسی ان اشیا کو اپنے من پسند علاقوں میں تقسیم کر رہی تھی۔