بلوچستان: اہم پل ٹوٹنے سے کوئٹہ کا ملک سے زمینی رابطہ منقطع
ضلع بولان میں مچھ کے قریب شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ایک بڑا پل گرنے سے بلوچستان ریلوے کا بقیہ ملک سے رابطہ غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہو گیا ہے۔
غذر اور دیامر کے اضلاع میں سیلابی پانی کے تازہ ریلے کے بعد شمال میں گلگت بلتستان کے کئی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔ دریں اثنا، بلوچستان میں بارشوں سے متعلقہ حادثات میں مزید نو ہلاکتیں ہوئیں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اموات کی تعداد 236 ہوگئی۔
پاکستان ریلوے حکام کے مطابق جمعرات کی صبح پل گرنے سے بین الصوبائی ریلوے سروسز کے ساتھ ساتھ افغانستان، ایران اور ترکی کے ساتھ تجارت بھی معطل ہو گئی۔ ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پل کا اہم ستون بہہ گیا جس کے نتیجے میں یہ سانحہ ہؤا۔
حکام نے بتایا کہ ریلوے انجینئروں کی ایک ٹیم نے گرنے والے پل کی جگہ کا دورہ کیا اور پل کی مرمت کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا۔ یہ پل برطانوی حکومت نے 1885 میں تعمیر کیا تھا۔
دریں اثنا، کوئٹہ اور گردونواح میں جمعرات کے روز موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ شہر کے مضافات میں بھی سیلابی پانی سے مختلف علاقے زیر آب آ گئے، تشویشناک صورتحال کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پاک فوج، ایف سی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو بچانے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ جاری رہا، وہیں کوئٹہ، مستونگ، خضدار، سبی، مچھ، پشین، نصیر آباد اور جعفرآباد کے متعدد علاقے 220 کلو واٹ کی کوئٹہ-سبی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے تاریکی میں ڈوب گئے۔
شدید سیلاب بی بی نانی کے قریب دریائے بولان سے گزرنے والی ایک اور گیس پائپ لائن بہا لے گیا جس سے کوئٹہ، پشین، مستونگ، قلات اور دیگر علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ پائپ لائن ایک عارضی کنکشن کے طور پر کام کر رہی تھی کیونکہ گزشتہ ہفتے اسی علاقے میں 24 انچ کی اہم پائپ لائن بہہ گئی تھی۔
حکام کے مطابق بولان، لہری اور ناری ندیوں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیلاب سے بولان میں بی بی نانی پل کو خطرہ لاحق ہے، دریائے بولان میں 80ہزار کیوسک سے زیادہ سیلابی پانی ہے۔
اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر سیلاب کے پیش نظر امدادی کارروائیوں کے لئے بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطہ کیا ہے۔ ان ادروں نے مون سون کی طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی کے اثرات کم کرنے کے لیے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
دو روزہ دورہ قطر سے واپس آنے کے بعد وزیراعظم نے برطانیہ کے دارالحکومت کے ایک ہسپتال میں زیر علاج اپنی پوتی سے ملاقات کے سلسلے میں دورہ لندن منسوخ کر دیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر بین الاقوامی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔
عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز سمیت چین، امریکا، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔