آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی کارکردگی

جن لوگوں نے آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی کارکردگی پر تواتر کے ساتھ سوالات اٹھائے ان میں راقم بھی شامل ہے۔ کیونکہ اس پودے کو لگانے میں راقم کا بنیادی کردار ہے۔

اس لیے ہم اسے پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے اور چاہتے ہیں۔ ہماری تنقید اصلاح کے لیے تھی لیکن جب میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کو آزادانہ طور ہر کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ پہلی رکاوٹ پاکستانی ادارے ہیں۔ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ نصاب میں جو بھی مواد شامل کرنا چاہیے اس کی منظوری اسلام آباد ایجوکیشن آف ڈائریکٹوریٹ کرتا ہے۔ تیزی کے ساتھ بدلتی ہوئی سائنسی دنیا کے ساتھ قومی نصاب کو ہم اہنگ بنانے کے مسلہ پر تو ہمارا کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے لیکن  جموں کشمیر کی تاریخ و ثقافت پر لکھی جانے والی کسی بھی تحریر کو اسلام آباد اس وقت تک منظور نہیں کرتا جب تک وہ دو قومی نظریہ یا الحاق پاکستان کی پالیسی کے مطابق نہ ہو۔ 

دو قومی نظریہ ایک الگ چیز ہے اور تاریخ و ثقافت الگ چیز ہے۔ درسی کتب میں یہ بیان کرنا بھی کوئی جرم نہیں کہ دو قومی نظریہ کیا ہے لیکن دو قومی نظریے کی حمایت اور وسعت کے شوق میں جموں کشمیر کی تاریخ و ثقافت مسخ کرنا ایک علمی جرم ہے۔  مثال کے طور پر میرے سامنے دار ارقم میں پڑھائی جانے والی کلاس دوم اور سوم کی ایک کتاب ہے جس میں  گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر کو بھی پاکستان کا صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح جماعت نہم اور دہم کی ایک کتاب میں تحریک آزادی کشمیر‘ کو دو قومی نظریے کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے لکھا گیا کہ پاکستان میں لفظ ک کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ بیان من گھڑت ہے۔ اس کا کوئی تاریخی ریفرنس نہیں ہے۔ دوسرا کشمیر تو محض ریاست جموں کشمیر کا ایک صوبہ ہے جو ریاست کا صرف دس فی صد ہے۔  پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا اور اسلامی نقطہ نظر سے جھوٹ بولنا اور پھیلانا ایک سنگین جرم ہے۔ مسلمانوں کو متحد کرنا ہے تو وہ اصول اپنائے جائیں جو اسلام نے بیان کیے ہیں۔ جھوٹ کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں۔ پھر ہمارا مسلہ مذہب نہیں بلکہ ہماری ریاست پر تین ملکوں کا فوجی قبضہ ہے اور قابضین ہماری ریاست کو آپس میں بانٹنا چاہتے ہیں، جس کی کوئی غیرت مند ریاستی باشندہ حمایت نہیں کر سکتا۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو مذہبی رنگ دے کر اسے مزید پچیدہ بنانے کے بجائے اپنے ہمسایہ اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کرے۔ کسی چھوٹے ہمسائے پر جھوٹ اور طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کرنے سے اسلام مضبوط نہیں ہوتا بلکہ الٹا نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ 

آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کچھ تعلیمی ادارے اور تعلیمی بورڈز کا رویہ باغیانہ ہے۔ مثال کے طور ہر میرپور بورڈ کے بارے کہا جا رہا ہے کہ وہ پنجاب کا متروکہ نصاب پڑھانے پر بضد ہے۔ ٹیچرز ایسوسی ایشن بھی آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے دائرہ کار کو میٹرک تک محدود رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہے (مکتوب 22 اگست).   سیکریٹریٹ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے (نوٹیفکیشن 22 اگست) آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کی درسی کتب رائج کرنے کا  حکم دیا اور اس ہر بھی عمل نہیں کیا جا رہا۔ 

ہمارا اصولی موقف یہ ہے کہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ ہو یا کوئی اور ادارہ، اسے اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔ اس کے بعد ہی اس کی کاردگی کا صحیح جائزہ لیا جا سکتا ہے۔