آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کے سوال پر کے پی کے اوراتحادی حکومت کا تنازعہ

  • ہفتہ 27 / اگست / 2022

حکومت میں شامل جماعتوں نے مشترکہ بیان میں آئی ایم ایف کے معاملہ پر خیبر پختون خوا حکومت کے رویہ کی مذمت کی ہے۔ بیان کے مطابق قوم کی اس مشکل گھڑی میں خیبرپختونخوا کی حکومت نے سیاست کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرط پر عمل سے انکار کیا ہے۔

جمعہ کو مشترکہ بیان میں حکومت میں شامل جماعتوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کا وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو خط پاکستان کو معاشی بحران کے سیلاب میں ڈبونے کی چال ہے۔ یہ عمران خان تھے، جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ کڑی شرائط پر معاہدہ کیا۔ پاکستان کی معیشت کے ہاتھ پاﺅں باندھے۔ پھر خود ہی اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ پروگرام معطل کرادیا اور سبسڈی دے کر پاکستان کی معیشت کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں بچھا دیں تاکہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوجائے۔

بیان میں کہاگیا کہ موجودہ حکومت انتہائی صبرآزما اور مشکل فیصلے کرنے پر صرف اس لئے مجبور ہوئی کہ پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچائے۔ چارماہ کی مسلسل محنت کے بعد روپے کی قدراور معاشی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی ہے۔ اگرچہ چار سال کی معاشی تباہی اور مہنگائی کے سیلاب میں عوام اب تک غوطے کھا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ 29 اگست کو آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس ہونے جارہا ہے جس میں پاکستان کے ساتھ معاشی پروگرام کی بحالی ہونے جارہی ہے۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے بدنیتی پر مبنی اقدام کیاگیا ہے۔

بیان کے مطابق تحریک انصاف پاکستان کو معاشی تباہی سے دوچار کرنے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ پہلے کی طرح اس سازش کو بھی ہم ناکام بنائیں گے اور پاکستان کی معاشی خودمختاری کا دفاع کریں گے‘۔

حکومت کی اس وقت مکمل توجہ اور ترجیح سیلاب متاثرین کا ریلیف اور ریسکیو ہےکیونکہ اس وقت سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کو ہی قومی ترجیح رہنا چاہئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سیلاب متاثرین کی جان بچانے اور ان کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے عمل کو کسی کی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ سے سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کا اس حوالے سے ایک بیان شئیر کیا گیا ہے، جس میں حماد اظہر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہم پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گے۔ ہمارا ماضی، حال اور مستقبل صرف اور صرف پاکستان کیلئے وقف ہے۔ لہٰذا یہ سوچنے کی بھی کوشش نہ کریں کہ ہم جان بوجھ کر معیشت کو کوئی نقصان پہنچائیں گے