سابق کھلاڑی کا ذہنی کنفیوژن؟

آج جو لوگ اس نوع کی خوش فہمی کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں کہ دیکھو کرکٹر کس جرات کے ساتھ انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر کھڑا ہے اور ہمارے طاقتوروں کی ستر سالہ خود سری کو ننگا کرنے کا جو فریضہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سرانجام نہیں دے سکی، وہ اس اناپرست کی ضد نے تنہا سرانجام دے دیا ہے ۔

درویش کو اپنے ایک مربی یاد آ رہے ہیں جو ایک عوامی قیادت کے متعلق بیان کیا کرتے تھے کہ میں نے اس کی توجہ اس کے دوغلے پن کی طرف مبذول کروائی کہ آپ ایک طرف سرخ سویرے کے علمبرداروں کو خوش کرنے کیلئے پاپڑ بیلتے ہیں اور دوسری طرف مسلم بنیاد پرستی کو خوب پروموٹ کرتے ہیں۔ ان دونوں طبقات کو آپ نظریاتی طور پر کیسے مطمئن کر پائیں گے ؟ تو بولے کون سی نظریاتی بات؟ میرا مطمح نظر توحصول اقتدار ہے، باقی باتیں سہولت کاری کیلئے ہیں ۔ اس نوع کی صورتحال ماقبل بھی اہل نظر ملاحظہ فرما چکے ہیں جب بڑی قیادت قومی مفاد میں پینترے بدلتے ذرا عار محسوس نہیں کرتی تھی۔ جب دو قومی نظریہ حصول اقتدار کی خواہش میں معاون لگا تو اس کی وکالت میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جب اس کے رد میں چلنا مفاد میں لگا تو پینترا بدلنے میں ذرا عار محسوس نہ کی۔

قومیت مذہبی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے یا وطنی و نسلی؟ جس میں فائدہ نظر آیا ڈیپارٹمنٹل سٹور سے وہ سودا اٹھا لیا اور اپنی ہٹی پر بیچنا شروع کر دیا ۔ عرض مدعا یہ ہے کہ جو لوگ ایسی ہستیوں پر اس نوع کے الزامات عائد کرتے ہیں کہ وہ فلاں کے ایجنٹ تھے، جس طرح آج کرکٹر کے متعلق گل افشانی کی جاتی ہے کہ وہ یہود وہنود کا ایجنٹ ہے یا فلاں ایجنسیوں کیلئے کام کرتا ہے اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی ہے، یہ سب فضول قسم کی الزام بازی ہے۔ جو شخص اپنی ذات کی پرستش یا خود پسندی کی بیماری یا روگ میں مبتلا ہو اس کیلئے کسی اور کی پرستش، اتباع یا مطابقت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس نے تو گھی نکالنا ہے چاہے سیدھی انگلیوں سے نکلے یا انگلیاں ٹیڑی کرنی پڑیں ۔ ایسی ہستیوں کے اصول و نظریات تلاش کرنے یا نظریاتی ترجیحات کی مغز ماری میں لوگ خواہ مخواہ اپنے اوقات اور صلاحیتیں ضائع کرتے ہیں۔ ایسی عظمتوں کا دین ایمان، اعلیٰ آدرش یا ادنیٰ یوٹرن و انحراف ، اپنی خودنمائی و خودستائی سے کہیں بڑھ کر ذہنی خلجان کی حد تک حب جاہ و پرستش ذات ہوتی ہے۔ اس مشن میں لاکھوں گردنیں کٹیں یا اندر خانے تلوے چاٹنے پڑیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا کیا نہ کیا ہے عشق میں کیا کیا نہ کریں گے۔

ٹیکسلا کے محترم چانکیہ صاحب اور دی پرنس کے میکیاولی صاحب تو خواہ مخواہ بدنام ہیں بیچارے، ہماری حرص کا تو ماٹو ہی یہ رہا ہے کہ مولوی نہ ملے گا تو مالوی ہی سہی خدا خدا نہ سہی رام رام کر لیں گے ۔ رہ گئی دوسری شکایت کہ اپنی پاپولیریٹی کو آزمائش میں ڈالتے ہوئے اس ہستی نے قاتلانہ حملے کو بلاجواز اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس کی قلعی تو وضاحتی بیانات سے کھل گئی تھی جبکہ اخبار گارڈین نے واضح کر دیا تھا کہ کوئی لفظ بھی توڑا مروڑا نہیں گیا۔ مسئلہ پھر وہی کہ یہ مشرق و مغرب میں اپنی نام نہاد پاپولیریٹی کو برقرار رکھنے کیلئے دو چہروں کا مفاد پرستانہ استعمال ہے ۔ یہ ممبئی میں پیدا ہونے والے کشمیری دانشور کا کلاس فیلو رہا ہے یا کلب فیلو، اس کے اس کے متعلق کیا فرمودات موجود ہیں جنہیں یہاں پیش کرنا محال ہے۔ سابقہ بیوی نے اپنے قیام لاہور کے دوران ایک تقریب میں ایک مذہب کے حوالہ سے دلچسپ باتیں کیں تو پوچھا گیا ماشااللہ آپ کو یہ معلومات کیسےحاصل ہیں فوراً بولیں کہ فلاں پروفیسر صاحب سے سیکھی ہیں۔ اس پر انہیں تنبیہ کی گئی کہ بی بی یہاں اس خبیث کا نام پروفیسر کہہ کر کبھی نہ لیجئے گا۔

بات اس بیچاری مغرب میں پلی بڑھی نے غلط نہیں کی تھی۔ مگر کیا کریں ہماری کنزرویٹو سوسائٹی میں آزادی اظہار کا جو مسئلہ بنا دیا گیا ہے، اس عمر قید اور ازلی غلامی میں سوائے سسکیوں، آہوں یا بددعائوں کے اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔ خدا کرے کہ نہ سمجھا کرے کوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس قومی سرمائے نے اپنی سستی شہرت اور پاپولیریٹی کیلئے ایسی کوئی بے اصولی نہیں ہے جسے روا نہ رکھا ہو۔ جناح ثانی نے اگر اپنے دو سابقہ ہمزادوں کو پیچھے نہیں چھوڑا تو پیچھے رہا بھی نہیں۔ یو این کی جنرل اسمبلی سے لے کر ہری پور تک کوئی مقام نہیں بچا جہاں یہ کھلاڑی حب جاہ کے جذبے سے سرشار جنونیت پھیلاؤ سکیم میں کوئی کسر چھوڑتا ہو۔ ہمارے گاؤں میں دو مونہی ہوتی تھی مگر یہاں شہر میں ست مونہیاں پائی جاتی ہیں اور پھر اس پر ہم اتراتے ہیں کہ جیسا دیس ویسا بھیس۔ کمال ہے کہ مذہب کی ابجد کا نالج نہیں بس دو چار روایتی قصے رٹ رکھے ہیں جن کے پون صدی پر محیط بھاشن سن سن کر نہ جانے کیوں سننے والوں کے کان بھی نہیں پکتے۔ اس پر دوسروں کو طعنے ہیں کہ اگر اسے خاتم النبین بولنا نہیں آتا تو کیا ہوا، پہلوں کو تو نماز بھی نہیں آتی تھی۔ اگر ان کی اداکاری قبول ہے تو کرکٹر سے تمہیں کیا تکلیف ہے ؟

آج ہمارا کھلاڑی جتنا بھی کنفیوز ہے مگر دیگر بہت سوں کو اس سے زیادہ کنفیوژن کا شکار بنائے بیٹھا ہے جنہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ اپنے ’’محسنوں‘‘ اور ’’مہربانوں‘‘ کے خلاف کونسی الٹی سیدھی زبان ہے جو یہ نہیں بول چکا۔ مگر کمال کی زبان دانی ہے کہ محسن صاحبان خود اختلاف کا شکار ہیں، رہ گئے ’’مہربان ‘‘ تو ان کی نکتہ دانی و آفرینی رحمتے کی طرح آج بھی اس کی بلائیں لے رہی ہے جس کا بڑا دوش جمہور کے ادوار کو جاتا ہے ۔ بہرحال آج اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے تو بچ نکلنے کی جتنی مرضی چالیں چل لے مگر زبانی بے لگامی کے ہاتھوں رائندہ درگاہ یا محروم تمنا رہےگا۔ مہربانوں کو محسنین سمجھا لیں گے البتہ شہبازی پرواز کا مفتا اگر یونہی دندناتا رہا تو اس کا سہولت کار ثابت ہو سکتا ہے۔ لندن بیٹھا عقاب خود اڑنے کی شتابی دکھائے بغیر اس کا بندوبست کرے۔