بے مہر سیاست اور سیلاب
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 28 / اگست / 2022
انسان کی حسیات اور یادداشت کا تعلق بھی بڑا دلچسپ ہے۔ جن مناظر اور واقعات کے ساتھ اس کا حقیقی یا ذہنی تعلق جڑا ہو وہ ان مناظر کے بارے میں بالکل الگ انداز میں ردِ عمل دیتا ہے۔
جنگ ہو یا زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی اور افتاد، کسی دوردراز علاقے سے متعلق ہو تو فقط ایک خبر مگر جب وہی کچھ خود پر یا اپنے کسی تعلق دار پر گزرے تو ایک مختلف تجربہ ہوتا ہے: ملال، دکھ کا احساس اور درد کی چبھن۔ حالیہ مون سون موسم اپنے ساتھ غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا ایک طویل بے مہر اور بے رحم سلسلہ لے کر آیا۔ اس سیلابی سلسلے نے بلوچستان اور سندھ میں شدید تباہی مچائی۔ جنوبی پنجاب بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آیا۔ کے پی میں سوات اور دیگر علاقوں میں تباہی برسی اور سیلاب کی صورت جا بجا ملبہ بکھرا۔ بڑے شہروں کے مراکز میں البتہ میڈیا اور سوشل میڈیا کی اپنی الگ مصروفیات اور رغبت رہی۔ جب سیلاب بستیوں کی بستیاں ہڑپ کرتے ہوئے کھیت کھلیانوں کو زیر زبر کر رہا تھا عین انہی دنوں بے مہر سیاست اپنی اپنی چال کے لئے سب کچھ داؤ پر لگائے ہوئے تھے۔
میڈیا سکرین، اخبارت اور سوشل میڈیا پر چند روز تو پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس پر الیکشن کمیشن چھایا رہا، اک تیرے آنے سے پہلے اک تیرے جانے کے بعد والا معاملہ رہا۔ فیصلہ سنائے جانے سے قبل تبصروں، بیانات اور پریس کانفرنسوں نے ہلکان کئے رکھا، فیصلہ آنے کو بعد پھر دوسرا ہیجانی دور شروع ہو گیا۔ کچھ تپش کم ہونے لگی تو شہباز گِل کی گرفتاری نے معاملہ پھر سے گرما دیا، ان کے جسمانی ریمانڈ اور اس ریمانڈ کے دوران لگے تماشے نے ناظرین اور ہر قسم کے میڈیا کو یوں انگیج کئے رکھا کہ اور کسی معاملے کی گنجائش ہی نہ رہی۔ اب عمران خان پر مقدمات اور ان کی پیشیوں نے سیاست کی گرمائش کو سہارا دے رکھا ہے۔
نیوز کی حد تک مین سٹریم میڈیا نے سیلاب کی کوریج بھر پور انداز میں کی لیکن کیا کیجئے کہ شام سے رات گئے تک تمام ٹاک شوز پر مگر سیاست کا راج تھا، یہ گیا، وہ گیا، یہ نہیں بچے گا، اسے نہیں چھوڑیں گے وغیرہ وغیرہ۔ چند ایک ٹاک شوز میں سیلاب کا ذکر آیا مگر یوں کہ لہو لگا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیا اور اس کے بعد سیاست کا ہذیان لگاتار۔۔
بے مہر سیلاب کی تباہ کاریاں جب حد سے بڑھ گئیں تو صوبائی حکومتوں اور میڈیا کی توجہ ادھر بھی مبذول ہوئی ہے۔ دیر آید درست آید۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں، سیلابی ریلوں کا فشار اور طاقت کئی ویڈیو کلپس میں دیکھی کہ کس طرح سوات کا ایک ہوٹل، مکانات، گاڑیاں، جانور اور مال و اسباب تنکوں کی طرح بہہ کر اجل کا شکار ہوئے۔ ان مناظر کو شب و روز دیکھ کر ناظرین کی دلچسپی اوہ خدایا خیر ہو، بڑا نقصان ہوا، توبہ توبہ دیکھا نہیں جاتا وغیرہ وغیرہ کے بعد پھر وہی بے مہر سیاست دیکھنے کا شغل کی طرف مبذول۔۔
سوشل میڈیا پر کوک اسوڈیو کے حالیہ سیزن میں ایک بلوچی گانے سے شہرت پانے والے وہاب بگٹی کے سیلاب میں منہدم ہوئے گھر، ملبے پر کھڑے وہاب بگٹی بچے کو گود میں لئے ہوئے اور ایک بچے کی کیچڑ میں لت پت تصویر کا بہت چرچا ہوا۔ ٹویٹر کے راحت کدہ ماحول میں بہتوں نے اپنے پسندیدہ گلوکار کو اس حال میں دیکھا تو دل پسیج گئے۔ ٹرینڈ چلنے شروع ہوئے، رابطوں کی شکستگی کے باوجود کچھ سماجی شخصیات نے وہاب بگٹی کو ڈھونڈ نکالا، بی بی سی سی نے ان پر پوری اسٹوری لکھی۔
کچے مکان کی بربادی کے بعد وہاب بگٹی کو نقل مکانی کے بعد ایک دوست نے ایک کمرے کی پناہ دی جس میں وہاب بگٹی، اس کے آٹھ بچے اور بوڑھے ماں باپ نے سر چھپایا۔ کیونکہ وہاب بگٹی سے ان کے گانے کے حوالے سے لوگوں کا ایک سمعی اور بصری تعلق تھا، ہمدرد احباب بے انہیں ڈھونڈا، ان کے بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات شئیر کیں۔ نہیں معلوم کہ ہمدردی کی ان لہروں سے وہاب بگٹی کا سیلابی درد سکون پا سکا یا نہیں، تاہم ان کے درد میں ہم ایسے بھی شریک ہیں جنہوں نے کانا یاری گیت بارہا اس شوق میں سنا کہ اس میں شامل دو بلوچ گلوکاروں کی سادگی اور مقامی رچاؤ نے دل کو گرویدہ کر لیا۔
ہمیں مگر اس بے حسی کا بھی ملال رہا کہ سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں اور سیلابی ریلوں میں جن متاثرین کے ساتھ ہمارا کانا یاری والا تعلق نہ تھا وہ مناظر فقط اسکرین پر وقتی ہمدردی سے آگے بالعموم فقط ایک اسکین شاٹ ہی ثابت ہوئے۔ پاکستان اور خطہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی تناظر کا حصہ ہے۔ 2010 کی سیلابی تباہی نے ایک مدت تک متاثرین کی زندگی کو زیر بار اور تہہ و بالا رکھا۔ انڈیا اور بنگلہ دیش میں بارشوں کے سلسلے نے تباہی سے ایک عالم کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بار بار پیشین گوئیاں کیں کہ ایک نظر ادھر بھی مگر کراچی سمیت سب شہروں کے پھیلاؤ میں کمرشل ازم کے بھیانک دیو نے ان تمام جگہوں اور راستوں کو مدت سے نگل رکھاہے جو روایتی طور پر بارشی پانی کی نکاسی کے کام آتے تھے۔ یہی حال چھوٹے بڑے شہروں کا ہے۔ پانی پانی ہر طرف ہے مگر بھلے وقتوں میں نکاسی آب کے منصوبے اور بندوبست یا تو بے رحم بے حسی کی نذر ہوئے یا پھر روایتی نوکر شاہی کے بے فکری کے نظر۔
ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیوں نے دنیا کو چند سالوں میں چکرا کر رکھ دیا ہے۔ چین اور یورپ کا حال یہ ہے کہ دریا خشک ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں سیاست کا ہیجان معیشت کو بھی نگل رہا ہے اور حکومتی وسائل اور توجہ کو بھی۔ جو توجہ انتظامی اور ذاتی سطح پر سیلاب زدگان کے لئے مخصوص ہونی چاہئے تھی وہ بے مہر سیاست کی نذر ہوئی اور ہو رہی ہے۔ ایک طرف بے مہر سیلاب اور دوسری طرف بے مہر سیاست؛ متاثرین جائیں تو کہاں جائیں۔ بقول سید سبط علی صبا:
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے