سیلاب زدگان پر دہشت گردی کا مقدمہ اور مدد کی اپیلیں

اسی سے نظام کی فرسودگی  و سفاکی کا  اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز  سکھر میں  وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملنے کی کوشش کرنے اور اپنی شکایات پہنچانے کے خواہاں افراد کو پولیس نے نہ صرف دھتکارا بلکہ ایک سو سے زائد افراد کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ  بھی درج کرلیا ۔ پولیس ترجمان نے  دعویٰ کیا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں  دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے بعد میں یہ مقدمہ واپس لینے کا حکم دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی ۔

اس واقعہ سے انتظامی   امور کے نگران لوگوں کی سفاکی  وسنگدلی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف  نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ سیلاب زدگان کا حال پوچھنے اور انہیں تسلی دینے کے لئے  جمعہ کے روز سکھر کے   ریلیف کیمپ کا دورہ کیا تھا۔  ظاہر ہے کہ حکومت کی فراہم کردہ سہولتیں  متاثرین کی ضرورتوں او رمسئلہ کی سنگینی کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔    وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ  کی ریلیف کیمپ میں موجود گی کے دوران ارد گرد کے متعدد لوگ   جمع ہوگئے اور  وزیر اعظم تک اپنی شکایات پہنچانے اور  امداد ملنے میں مشکلات کے بارے میں بتانے کی خواہش ظاہر کی۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے ان کی بات سننے اور وزیر اعظم تک ان متاثرین کو رسائی دینے کی  کوشش کرنے کی بجائے خود ہی انہیں منتشر ہونے کا حکم دیا۔ جیسا کہ ایسے مواقع پر دیکھنے میں آتا ہے کہ  مسائل کی شدت سے ستائے ہوئے ہجوم میں کچھ لوگ غصے کا اظہار بھی کرتے ہیں اور پروٹوکول یا حفاظتی انتظامات   کی ضرورت کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

ہجوم کے اکٹھا ہونے اور وزیر اعظم سے ملنے کی کوشش کرنے پر پولیس حکام نے لوگوں کو منتشر ہونے کا حکم دیا، مزاحمت پر سخت اقدام کی دھمکی  دی اور ایک سو سے زائد لوگوں  کے خلاف  دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ بھی قائم کرلیا۔ وزیر اعظم نے بعد میں اس حوالے سے  معلومات  ملنے پر پولیس کو یہ مقدمہ ختم کرنے کی ہدایت ضرور کی ہے لیکن اس کے باوجود  سیلاب  کی ناگہانی صورت حال سے پیدا ہونے والی مشکلات  میں گھرے عوام کی پریشانی  کے بارے میں سرکاری حکام  کی بے حسی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔  یہ درست ہے کہ سرکاری اہلکاروں کو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی حفاظت کے لئے بعد ناخوشگوار فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں لیکن اس کے باوجود سرکاری مشینری میں یہ احساس ضرور ہونا چاہئے تھا کہ وہ جن لوگوں  کو دبانے اور وزیر اعظم سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ تو پہلے ہی مصیبت زدہ ہیں۔ ان کے گھر بار تباہ ہوچکے ہیں، فصلیں اجڑ گئی ہیں، بیشتر لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ میسر نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ انہیں  پیٹ بھرنے کے لئے وسائل کیسے اور کہاں سے  دستیاب ہوں گے۔ ایسے موقع پر فطری طور سے وزیر اعظم  و وزیر اعلیٰ کے قریب ہی موجود ہونے کی خبر پا کر ان لوگوں میں امید کی کوئی رمق پیدا ہوئی ہوگی کہ شاید یہ بااختیار لوگ  ہی ان کی بے یقینی کا خاتمہ کرسکیں۔

پولیس اور انتظامیہ کے حکام کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن اس  وقوعہ سے بہتر طریقے سے بھی نمٹا جاسکتا تھا۔  زیادہ مناسب ہوتا کہ  ہجوم سے کہا جاتا کہ وہ چند لوگوں کو اپنے مسائل بیان کرنے کے لئے چن لیں تاکہ انہیں  اعلیٰ حکام سے ملوانے کا انتطام کیاجاسکے۔ اس موقع پر انہیں حکم دینے اور سخت  کارروائی کی دھمکیوں سے ڈرانے  یا مقدمے قائم کرنے کی بجائے اگر  مفاہمانہ اور ہمدردانہ طریقے سے  لوگوں  کی شکایت دور کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے دورے  کا حقیقی مقصد بہتر طریقے سے پورا ہوسکتا۔ آخر ملک اور  صوبے کے سربراہان اسی لئے سکھر گئے تھے تاکہ متاثرین سے ہمدردی کے چند بول کہہ سکیں اور انہیں یقین دلا سکیں کہ  وہ ان کی مشکل کو سمجھتے ہیں اور بحالی کے کام کو بہتر کرنے  کی بھرپور کوشش کریں گے۔  کسی ناگہانی آفت میں گھرے ہوئے لوگوں کے لئے  ہمدردی کے دو بول ہی  بہت بڑا سہارا ہوتے ہیں۔

مقامی انتظامی اس موقع پر ہجوم کو دھمکانے، بھگانے اور مقدمے قائم کرنے  کی بجائے اگر ہمدردی کے دو بول  کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کرتی تو  ان افسروں کا ذکر بھی نوشہرہ کی  دلیر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر  قراۃ العین وزیر کی طرح احترام و محبت سے لیا جاتا  جنہوں نے سیلاب  کے خطرہ کی اطلاع  ملنے کے بعد بنفس نفیس رات گئے تک  شہریوں کو  خبردار کیا بلکہ گھر گھر جاکر انہیں محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونے پر آمادہ کیا اور پولیس اہلکاروں کو شہریوں کا سامان منتقل کروانے پر مامور کرکے   عوامی خدمت کا حقیقی نمونہ پیش کیا۔ سرکاری افسروں کو  یوں تو عام طور سے لیکن خاص طور سے کسی آفت کی صورت میں ایسی ہی ذمہ داری اور انسانیت سے بھرپور طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سکھر کی انتظامیہ  بھی اگر سختی کرنے کی بجائے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے اسٹاف تک اس بارے میں  معلومات پہنچاتی  اور وزیر اعظم خود نہیں تو ان کا کوئی نمائیندہ اگر متاثرین سے مل لیتا تو یہ معاملہ منفی انداز میں خبروں کی زینت نہ بنتا اور وزیر اعظم کو ردعمل کے خوف سے ایف آئی آر واپس لینے کا حکم نہ دینا پڑتا۔   سیاسی و انتظامی حکام کو یکساں طور سے سمجھنا چاہئے کہ جن متاثرین کا سب کچھ برباد و تباہ ہوچکا ہے اور جن کے  اعزہ میں سے کچھ لوگ اس آفت  میں جاں بحق  ہو چکے ہیں، وہ نہ تو امن و امان کے لئے  خطرہ ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا ہے۔ وہ تو ہمدردی کے  دو بول اور عارضی پناہ حاصل کرنے کی   امید کررہے ہیں۔ جب تک ریاست اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتی ، اس وقت تک  متاثرین کے ساتھ اس کے نمائیندوں کو بدسلوکی کا اختیار بھی نہیں  دیا جاسکتا۔

سکھر کا واقعہ تو یوں رپورٹ ہوگیا کہ وزیر اعظم  ریلیف کیمپ میں  آئے ہوئے تھے اور اس دورہ کی کوریج کے لئے میڈیا کے نمائیندے بھی وہاں موجود تھے۔  انتظامیہ  نے سکھر میں جس سنگدلی کا مظاہرہ کیا  ہے، اس  تناظر میں اگر ملک کے ان دور دراز علاقوں کی صورت  حال  کا اندازہ کیا جائے  جہاں کسی سیاسی لیڈر یا  اعلیٰ انتظامی افسر نہیں پہنچ پاتے اور نہ ہی میڈیا ایسے علاقوں سے لوگوں کی حالت زار اور مقامی انتظامیہ کے طریقہ کے بارے میں رپورٹنگ کرنے کی پوزیشن میں  ہوتاہے تو   متاثرین کی تکلیف اور پریشانی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔

سیلاب و بارشوں کی پھیلائی ہوئی تباہی ہی کے تناظر میں ایک خبر کوہستان میں پانچ نوجوانوں کی بے بسی سے موت کے حوالے سے بھی سامنے آئی ہے جس نے پورے ملک پر بلکہ دنیا کے دوردراز خطوں  میں  اس خبر کو پڑھنے والوں  کے دل مسوس دیے ہیں۔  یہ  پانچ نوجوان طغیانی کے اچانک ریلے کی وجہ سے ایک پتھر پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ تھوڑے فاصلے پر اونچی جگہوں پر کھڑے لوگ ان کی مدد سے لاچار تھے۔ اس دوران  ان بے بس نوجوانوں کی ویڈیو تو بنتی رہیں لیکن کسی سرکاری انظام کے تحت انہیں وہاں سے بحفاظت نکالنے کا بند و بست نہیں ہوسکا۔  پانی کا ایک طوفانی ریلا اس بھاری پتھر کو ہی بہا لے گیا جس پر ان نوجوانوں نے مدد کے انتظار  میں پناہ لی ہوئی تھی۔  اس وقوعہ کو بنیاد بنا کر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی کوشش تو بہت کی جارہی ہے لیکن  ابھی تک خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت، ڈیزاسٹر منیجمنٹ       اتھارٹی یا وفاقی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی یقین دہانی سامنے نہیں آئی کہ مستقبل  میں ایسی کوئی مشکل درپیش ہو تو عوام کیا راستہ اختیا رکریں اور   فوری امداد کے لئے کہاں اور کیسے رجوع کیاجائے۔ ذمہ دار معاشروں میں انسانی زندگی  کی حفاظت بنیادی فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں جب ایسی ناحق اموات کو محض  زبان و بیان کے چٹخارے کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے تو اس سے حکومتی ناکامی کے علاوہ وسیع تر معاشرتی بے حسی کی ایسی  تصویر سامنے آتی ہے جو کسی ذمہ دار، انسان دوست اور ہمدرد معاشرے کی عکاسی نہیں کرتی۔

سیلاب ہی کے حوالے  سے ایک خبر کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے  کے لئے دلائل کا انبار لگانے سے متعلق ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے   ریلیف کے کاموں پر توجہ دینے  کی بجائے یہ سیاسی اعلان کرنا ضروری سمجھا ہے کہ  مسلم لیگ (ق) کالا باغ ڈیم کی فوری تعمیر کے لئے سیاسی مہم جوئی کرے گی۔ اول تو کالا باغ ڈیم کوئی ایسامنصوبہ نہیں ہے جس پر فوری طور سے عمل شروع ہوسکے۔ دوسرے اس منصوبہ کے بارے میں متعدد مختلف آرا موجود ہیں۔ ان میں سے سر فہرست یہ رائے ہے کہ بڑے ڈیم سیلاب کی روک تھام یا پانی کی قلت پر قابو پانے کا مناسب ذریعہ نہیں ہیں، اسی لئے امریکہ اور دیگر ممالک میں  تعمیر شدہ بڑے ڈیم  گرا کر متبادل ذرائع اختیار کئے جارہے ہیں۔ تاہم  اس معاملہ  کا سب سے اہم  پہلو یہ ہے کہ  پاکستان کے دو چھوٹے صوبوں میں کالاباغ ڈیم کے خلاف سخت سیاسی رائے پائی جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے علاوہ  اس وقت باقی تینوں صوبے سیلاب کی تباہ کاری کا سامنا کررہے ہیں ا ور دریائے کابل  میں موجود سیلاب کا ریلا جوں جوں سندھ  کی جانب بڑھے گا ، مزید تباہی کا اندیشہ ہے۔  ایسے موقع پر کالاباغ  ڈیم جیسے متنازعہ منصوبہ کے بارے میں سیاسی مہم جوئی   خیبر پختون خوا اور سندھی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے گی   اور صوبوں  میں افتراق پیدا کرے گی۔      موجودہ قدرتی آفت کے موقع پر ایسے مباحث اور سوشل میڈیا پر ان کی ترویج سے  دلوں میں دراڑیں پڑیں گی۔  انہیں دور کرنا آسان نہیں ہوگا۔  اس لئے ملک کی سیاسی قیادت کو اس غیر ضروری بحث  کا نوٹس لینا چاہئے ۔

نوٹ کیا گیا ہے ملک کی صوبائی اور مرکزی حکومتوں  نے   سیلاب کی صورت حال پر فوری غور کرنے  کی بجائے  سیاسی  مخالفین کو ’کیفر کردار‘ تک پہنچانے  پر زیادہ توجہ دی۔  کئی ہفتے بعد اب سیاسی قیادت کو سیلاب  کی تباہ کاری پر  توجہ دینے  کا موقع ملا ہے۔ نواز شریف سمیت متعدد لیڈروں نے متمول لوگوں سے عطیات دینے کی اپیل بھی کی ہے۔ لیکن مناسب ہوتا کہ اگر سیاسی لیڈر، حکمران، اسمبلیوں کے ارکان، اعلیٰ  سول و فوجی افسران  اور عدلیہ کے جج حضرات خود  بارش کا پہلا قطرہ  بنتے اور سیلاب زدگان کی مدد کے لئے اپنی گرہ سے عطیات دینے کا اعلان ہوتا تاکہ دوسرے خوشحال شہری بھی تقلید کرتے۔