شہباز گل معافی مانگنے کیلئے تیار ہیں: وکیل

  • سوموار 29 / اگست / 2022

بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے وکیل نے درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ ان کے مؤکل بیان پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ شہباز گل نے گزشتہ ہفتے ضمانت کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ شہباز گل کو نجی نیوز چینل ‘اے آر وائی’ پر متنازع بیان دینے کے بعد اسلام آباد پولیس نے بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں 9 اگست کو حراست میں لیا تھا

اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں شہباز گل کی درخواست ضمانت پر ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے سماعت کی۔ دوران سماعت انسپکٹر ارشد ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔ جج نے استفسار کیا کہ ملزم کی جانب سے کون پیش ہوا ہے اور مدعی کی جانب سے کون ہے جس پر پولیس نے جواب دیا کہ ملزم شہباز گل کے وکیل برہان معظم موجود ہیں جبکہ پراسیکیوٹر آرہے ہیں۔

وکیل برہان معظم نے استدعا کی کیا ہم ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے خلاف کیا شہادت ہے جس پر عدالت نے پولیس کو ملزم کے خلاف ریکارڈ وکیل کو دکھانے کا حکم دیا۔

پولیس نے استدعا کی آپ وکلا کو ہدایت دیں ایک یا دو وکلا ریکارڈ دیکھ لیں، یہ تصاویر نہ بنائیں۔ پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے کہا کہ ہم ضمنی نہیں دکھا سکتے، باقی ریکارڈ دکھا دیتے ہیں جس پر جج نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ آپ ضمنی نہ دکھائیں ان کو باقی ریکارڈ دکھا دیں۔

شہباز گل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے 161 کا بیان نہیں دکھایا، 12 گواہان لکھے ہوئے ہیں، آپ سے استدعا ہے کہ 161 کے بیان دکھانے کا حکم جاری کریں جس پر جج نے کہا کہ تفتیشی کدھر ہے، اس کو بلائیں. آپ وکلا کو 161 کا بیان دکھائیں، کس نے کیا بیان دیا ہے۔

ملزم شہباز گل کا بیان نہ دکھانے پر وکلا نے اعتراض کیا۔ وکلا نے کہا کہ پولیس ملزم کا بیان نہیں دکھا رہی، باقی سارے بیانات دکھا دیے ہیں جس پر عدالت نے پولیس کو ملزم کا پہلا بیان دکھانے کا حکم دیا۔

وکیل نے کہا کہ شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔ ٹرانسکرپٹ کے مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔ الزام ایسے ادارے پر لگائے جارہے ہیں جو رات کو سڑکوں پر جاتے ہیں۔ اس سارے بیان پر کسی جگہ پر غلطی فہمی پیدا ہوئی ہے، شہباز گل اس غلط فہمی کو دور کرنے پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز گل معافی مانگنے پر بھی تیار ہیں لیکن یہ حق کس طرح ملا مختلف پوائنٹ اٹھا کر بغاوت کا الزام لگا دیا گیا۔ کمرہ عدالت میں شہباز گل کے بیان اور اینکر کے سوال سے متعلق ویڈیو چلائی گئی۔ شہباز گل اتنا پاگل تو نہیں وہ ملک کے خلاف بات کرے گا۔ ‏شہباز گل نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ بریگیڈیئر رینک سے نیچے والے اپنے جنرلز کی بات نہ مانیں۔

برہان معظم ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ پاگل نہیں ہیں، ایسی بات کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ‏شہباز گل کی گفتگو میں نواز شریف اور مریم نواز مخاطب تھے، ان کے اسٹریٹجک میڈیا سیل کو کہا جاتا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جائے

دوران سماعت کمرہ عدالت میں بے پناہ رش کے باعث عدالت نے غیر متعلقہ افراد کو باہر نکالنے کا حکم دیا جس پر عدالتی اہلکار نے کہا کہ جب تک ضمانت کی آواز نہیں پڑ جاتی غیر متعلقہ افراد باہر چلے جائیں۔