پی ٹی آئی سینیٹرشوکت ترین کی پنجاب اورکے پی کے وزرائے خزانہ سے گفتگو لیک

  • سوموار 29 / اگست / 2022

پی ٹی آئی سینیٹر شوکت ترین کی پنجاب اور کے پی  کے وزرائے خزانہ  کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو لیک ہوئی ہے جس میں آئی ایم ایف کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے بارے میں بات کی جارہی ہے۔

سینیٹر شوکت ترین کی وزیرخزانہ پنجاب محسن لغاری اور خیبر پختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور جھگڑا کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو منظرعام پرآئی ہے۔ شوکت ترین کو محسن لغاری سے کہتے سنا جاسکتا ہے کہ  یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے۔ آپ نے اب کہنا ہے کہ ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت پیسا خرچ کرنا پڑےگا۔

شوکت ترین نے پنجاب کے وزیرخزانہ سے کہا کہ آپ انہیں لکھ دیں کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کرپائیں گے۔ یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔ پھر ہم اس کو آئی ایم ایف کے نمائندوں کو بھی ریلیز کر دیں گے۔

شوکت ترین نے مزید کہا کہ ہم ایسا سین کریں گے کہ یہ نظر نہ آئے کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ان پردباؤپڑے۔ یہ ہمیں اندر کرا رہے ہیں، ہم پردہشتگردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ یہ بالکل سپاٹ فری جا رہے ہیں  یہ نہیں ہونے دینا ہے۔

پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین سے سوال کیا کہ کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں ہوگا تو شوکت ترین نے جواب دیا کہ جس طرح چئیرمین اوردیگر کوٹریٹ کیا جا رہا ہے کیا  اس سے  ریاست کو نقصان نہیں ہورہا۔

شوکت ترین نے ٹیلی فونک گفتگو میں وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمور جھگڑا سے سوال کیا کہ آپ نے خط بنا لیا؟ اس پر تیمور جھگڑا نے کہا کہ ابھی بناتا ہوں میرے پاس پرانا خط ہے۔ شوکت ترین نے  تیمور جھگڑا سے کہا کہ خط میں سب سے پہلا پوائنٹ یہ ہوگا کہ جو سیلاب آیا ہے اس نے خیبرپختونخوا کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ ہمیں سیلاب سے  متاثر علاقوں میں بحالی کے لیے بہت پیسا چاہیے۔ میں نے لغاری( پنجاب کے وزیرخزانہ) کو بھی کہہ دیا ہے۔

شوکت ترین کی بات پر تیمور جھگڑا نے کہا کہ ویسے یہ بلیک میلنگ کا حربہ ہے۔ پیسے تو کسی نے ویسے ہی نہیں چھوڑنے۔ میں نے تو پیسے نہیں چھوڑنے، پتا نہیں لغاری نے چھوڑتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر اور وفاقی وزیر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ شوکت ترین اور پنجاب و خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ کی آڈیو سن کر میں سکتے میں چلی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اپنی سیاست کی انا کی برتری کے لیے ریاست کو ڈبونے کو تیار ہیں۔ اس سوچ کی عکاسی صدمے کا باعث ہے۔

شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ ہماری ٹریننگ ہے کہ ملک کے مفاد کو کبھی ٹھیس نہ پہنچائیں۔ ملک کو ٹھیس پہنچانے کی بات سنگین جرم ہے۔ وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا نہیں ہوا لیکن اس نے ملک کو ٹھیس پہنچانے کی بات کبھی نہیں کی۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما، سابق وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین اور پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کی مبینہ ٹیلی فونک گفتگو سامنے آئی ہے۔ اس ٹیلی فونک گفتگو میں شوکت ترین نے محسن لغاری اور تیمور جھگڑا سے کہا ہے کہ آپ نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے انکار کرنا ہے۔