دریائے کابل میں پانی کی سطح میں کمی، سیلاب سے 10 ارب ڈالر کا نقصان

  • سوموار 29 / اگست / 2022

دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب کی صورتحال اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے سیلاب سے متاثرہ نوشہرہ کا دورہ کیا۔

دریائے کابل میں پانی کی سطح میں کمی کی اطلاع  ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں اگلے 5 سے 6 گھنٹوں کے دوران مزید کمی کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا فلڈ سیل کے مطابق نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی سطح میں 41 ہزار کیوسک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور اب اس مقام سے 2 لاکھ 96 ہزار 731 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ فلڈ سیل نے بتایا کہ دریائے کابل میں گزشتہ روز نوشہرہ کے مقام پر سیلابی پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 36 ہزار کیوسک سے زائد تھی جبکہ ورسک کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب تھا۔

تاہم اب دریائے کابل میں ورسک کے مقام پر اس وقت 1 لاکھ 3 ہزار 614 کیوسک جبکہ ادینزئی پل کے مقام پر 54 ہزار 495 کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

دوسری جانب دریائے سندھ میں ایک مرتبہ پھر اونچے درجے کا سیلاب ہے البتہ اٹک خیرآباد کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ فلڈ سیل کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ میں اٹک کے مقام پر 4 لاکھ 97 ہزار 100 کیوسک، چشمہ کے مقام پر 5 لاکھ 19 ہزار 362 کیوسک، تربیلہ کے مقام پر 2 لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دریائے سوات میں منڈا ہیڈ ورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں سے 40 ہزار 805 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ علاوہ ازیں چارسدہ خیالی کے مقام پراس وقت 40 ہزار 201 کیوسک پانی کا گزر ہے، دریائے شاہ عالم میں تخت آباد کے مقام پر درمیانی درجے کا سیلاب ہے جہاں سے 10 ہزار 70 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر سیلاب کے سبب پھنس جانے والے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے آج خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اورسیلاب کی صورتحال اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے نوشہرہ میں قائم کیے گئے امدادی کیمپ کادورہ بھی کیا، اس موقع پر انہیں نوشہرہ میں سیلاب کی صورتحال، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نوشہرہ میں مردان پُل پر سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور فوری ریسکیو کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایات کیں۔

اس دوران خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں اور عوام کے درمیان رہ کر عوامی خدمت پر یقین رکھتےہیں۔

شاہراہ قراقرم کو زیریں کوہستان کی حدود میں ہلکی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔ بالائی کوہستان میں موبائل سگنلز آج صبح بحال ہو گئے۔ تاہم وادی کی صورتحال اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ دو گاؤں، سیال درہ، باگرو درہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور دریا کے قریب حال ہی میں بنائی گئی سڑکیں بھی مکمل طور پر بہہ گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کو کم از کم 10ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو حالات بہتر ہونے کے بعد سروے میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے مختلف شعبوں کو کم از کم 10ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پاس اس وقت معیشت کے ہر شعبے کو درپیش نقصانات کی تفصیلات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابھی تک اس نقصان سے متعلق بین الاقوامی ڈونرز کو اعتماد میں نہیں لیا۔