مقامی حکمرانی کا نظام -----غیر معمولی اصلاحات
- تحریر سلمان عابد
- منگل 30 / اگست / 2022
پاکستان نے اگر واقعی حقیقی معنوں میں سیاست، جمہوریت، شفافیت، جوابدہی، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفادات پر مبنی حکمرانی کے موثر نظام سے خود کو جوڑنا ہے تو پہلی اور بنیادی ترجیح ایک مضبوط خود مختار اور مربوط مقامی حکومتوں کا نظام ہونا چاہیے۔
دنیا میں حکمرانی کو مربوط اور موثر بنانے کے لیے جو بھی تجربات کیے جارہے ہیں ان میں ایک بڑا تجربہ سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کی تقسیم اور عدم مرکزیت پر مبنی نظام ہے۔اسی اصول اور فریم ورک کو بنیاد بنا کر حکمرانی کے نظام میں مقامی حکومتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارا ریاستی و حکمرانی کا تجربہ دنیا سے سیکھنے کی بجائے ماضی کی غلطیوں کو دہرانا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم 18ویں ترمیم کے باوجود ہم مرکزیت کے نظام پر کھڑے ہیں۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے مقامی حکمرانی کے نظام میں تواتر سے جو بھی تجربے کیے ہیں ان کا مقصد مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانا کم اور زیادہ سے زیادہ صوبائی حکومتوں کا مقامی نظام حکومت پر کنٹرول ہے۔اول تو مقامی نظام کی تشکیل نو کو ہی ممکن نہیں بنایا جاتا او رتاخیری حربے ہی اختیار کیے جاتے ہیں، دوئم اگر مقامی نظام کی کڑوی گولی عدالتوں کے دباؤ پر کھانی پڑی تو انتخابات کراوکر نظام کو کمزور، لاچار او ربے بس بناکر اختیارات کو اپنی ہی حد تک کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہم مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل نو کویقینی بنانے کے لیے وہی فرسودہ طرزکے خیالات، روائتی حکمرانی کی سوچ اور وسائل پر اپنا کنٹرول کرنے کی سوچ اور فکر سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں حکمرانی کے نظام پر شدید تنقید ہوتی ہے۔پاکستان میں حکمران طبقہ جتنی مرضی نیک نیتی پیش کرے یا خود کو حکمرانی کے لیے مضبوط ارادوں کو ظاہر کرے مگر بنیادی غلطی مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی ہے جو مجموعی طور پر ملک میں حکمرانی کے نظام پر لوگوں میں بداعتمادی اور لاتعلقی کی کیفیت کو پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
اس وقت پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کے تناظر میں مختلف سیاسی، انتظامی او رقانونی فریقین کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمہ کو آگے بڑھانا ہوگا۔ جب حکمرانی کا نظام غیر معمولی حالات کا شکار ہے تو اس کے لیے جو بھی پالیسی یا حکمت عملی اختیار کی جائے گی وہ بھی غیر معمولی ہی ہونی چاہیے۔ہمیں بارہ بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اول آئین کی شق 140 اے چکے ساتھ 140 بی اور 140 سی کو بھی متعارف کروانا ہوگا۔ جس میں 140بی میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ مقامی حکومتوں کی مدت کے ختم ہونے یا وقت سے پہلے اس نظام کے ختم ہونے پر 120دن کے اندر اندر صوبائی حکومتیں مقامی انتخابات کراونے کی پابند ہوں گی۔اسی طرح 140 چی میں یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ اگر کوئی صوبائی حکومت اپنی مقررہ مدت میں مقامی انتخابات سے انکاری کرتی ہے تو اس کو صوبائی سطح پر موجود فنانس کمیشن میں سے وسائل کی کٹوتی کا سامنا کرنا ہوگا۔140 اے جو سیاسی، انتظامی او رمالی تقسیم کو یقینی بناتا ہے اسی کو بنیاد بنا کر صوبائی نظام کی تشکیل کو یقینی بنانا ہوگا اور اس نظام کو ریاستی نظا م میں تیسری حکومت یعنی وفاقی، صوبائی او رمقامی حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
دوئم اگرچہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی موضوع ہے۔لیکن اس میں وفاق کا کوئی کردار نہیں او رکوئی بھی صوبائی حکومت اگر مقامی انتخابات سے انکاری ہے یا نظام کو مفلوج بناتی ہے تو وفاق کچھ نہیں کرسکتا۔ یہ موضوع صوبائی ہی رہے مگر اس میں وفاق کا ایک بنیادی فریم ورک صوبوں کے لیے موجود ہونا چاہیے۔ تاکہ مقامی حکومتوں کے نظام میں تسلسل، اہم اہنگی اور جوابدہی سمیت مختلف پہلووں کو یقینی بنایا جاسکے۔ وفاق کو دیکھنا ہوگا کہ صوبائی حکومتیں آئین کی شق 140 اے اور 7اور 32کے تحت صوبائی نظام کی تشکیل کو ممکن بنارہی ہیں یا نہیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ کسی نہ کسی صورت میں وفاق کو جوابدہ ہیں۔سوئم مقامی نظام کے تسلسل کے لیے سب یعنی وفاقی، صوبائی او رمقامی حکومتوں کے نظام کی مدت چار یا پانچ برس ہونی چاہیے۔ ان کے انتخابات ایک ساتھ بھی ہوسکتے ہیں یا نئی صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے بعد 120دن میں لازمی ہونے چاہیے تاکہ سب نظام ایک ہی تسلسل سے آگے بڑھ سکیں۔چہارم جب تک ملک میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان سمیت صوبائی حکومتوں کا فریم ورک واضح نہیں ہوگا بہتری کی گنجائش موجود نہیں۔ اس وقت صوبائی حکومتیں وسائل پر اپنی اجارہ داری کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کے نظام کی مخالف ہیں اور ترقیاتی بجٹ پر وہ محض اپنا حق سمجھتے ہیں۔ترقیاتی بجٹ کی تقسیم اصولی طور پر مقامی حکومتوں کے نظام سے ہی جڑی ہونی چاہیے۔
پنجم مقامی حکومتوں کے نظام میں صوبوں سے اضلاع تک وسائل کی تقسیم کا فارمولہ واضح ہونا چاہیے اور وسائل کی واضح وشفاف تقسیم آبادی، جغرافیہ اور محرومی کی سیاست سے جڑا ہونا چاہیے او راس کی تصویر واضح طو رپرہمیں صوبائی فنا نس کمیشن اور صوبائی بجٹ میں نظر آنا چاہیے۔ اسی طرح صوبائی حکومت کو پابند کیاجائے کہ وہ اپنے صوبائی ترقیاتی بجٹ کا تیس فیصد بجٹ مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت خرچ کرنے کو لازمی قرار دیا جائے۔ششم ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بارے میں یہ ہی واضح پالیسی ہونی چاہیے کہ جنرل او رمخصوص نشستوں سمیت تمام پر براہ راست انتخابی طریقہ کار ہونا چاہیے او رایک ہی پینل پرایک ہی ووٹ کی بنیاد پر انتخاب ہو او رانتخابات کی بنیاد جماعتی بنیاد پر ہی ہونی چاہیے۔ہفتم عورتوں کی نمائندگی کو 33فیصد براہ راست طریقہ انتخاب سے مکمل کرنا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو پابند کرنا چاہیے کہ وہ براہ راست انتخاب میں کم ازکم پانچ فیصد عورتوں کو پارٹی ٹکٹ بھی جاری کریں۔
ہشتم اسی طرح صوبائی سطح پر صوبائی اور فنانس لوکل گورنمنٹ کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ان کو براہ راست مضبوط بنایا جائے او ریہ صوبائی سطح پر مکمل طور پر اس نظام کی جوابدہی میں اپنا موثر کردار اداکرسکیں۔نہم کوئی بھی صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے مقابلے میں صوبہ میں کوئی متبادل نظام کی تشکیل نہیں کرے گی او رایسا کرنا آئینی طور پر غیر قانونی ہوگا۔ کسی بھی قسم کی اتھارٹی یا کمپنیاں بنانا اور صوبائی حکومت کا خود سے اس نظام کو کنٹرول کرنا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، دہم صوبائی سطح پر بڑے شہروں کا نظام دیگر شہروں کے مقابلے میں مختلف ہونا چاہیے کیونکہ بڑے شہروں کی حکمرانی کا نظام غیر معمولی تبدیلیاں چاہتا ہے او ران بڑے شہروں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری او ربااختیار بنانا ہوگا۔ گیارہویں یہ طے کرنا ہوگا کہ صوبائی سطح پر صوبائی حکومتیں بہت زیادہ سیاسی و انتظامی ڈھانچوں کی تشکیل سے گریز کریں۔ اصولی طو رپر ضلع کونسل کے بعد بس یونین کونسل کا ہی نظام ہونا چاہیے او ریونین کونسل کا چیرمین براہ راست ضلع کونسل کا ممبر ہونا چاہیے جو اپنی مقامی کونسل کی نمائندگی اس بڑی کونسل میں کرے۔ زیادہ سے زیادہ ڈھانچہ کی موجودگی ایک طرف سیاسی و انتظامی ٹکراو اور دوسری طرف بے جا وسائل کے خرچ کا بھی سبب بنتی ہے۔ بارویں ہمیں اس نظام میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کی شمولیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہیے او رنظام میں ایسے طور طریقے متعارف کروانے ہوں گے جو شہریوں کی اس نظام میں فیصلہ سازی یا دیگر امور پر شمولیت کو یقینی بناسکیں۔تیرہویں کم ازکم دس یا پندرہ برس کے لیے حلقہ بندیاں مستقل کی جائیں بار بار حلقہ بندیوں کی تبدیلیوں سے مقامی نظام متاثر ہوتا ہے۔چودہویں مقامی حکومتوں کے نظام میں انتظامی کیڈر کا تعین ہونا چاہیے اور ان کو مستقل بنیادوں پر اسی نظام کے ساتھ منسلک کیا جانا ضروری ہے۔پندرہویں مقامی نظام حکومت میں عوام کے منتخب نمائندوں کو زیادہ اہمیت او ربااختیار کیا جائے ا و راس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ اختیارات عوامی نمائندوں کے مقابلے میں بیوروکریسی کے پاس رکھے جائیں او رمقامی پولیس کو بھی مقامی حکومتوں کے کنٹرول میں یا کمیونٹی پولیسنگ کا نظام متعارف کروایا جائے۔
اگر ہم نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانا ہے تو اس میں وفاق میں کچھ ترامیم کرکے اس میں غیر معمولی تبدیلیوں سمیت معاملات کو نئے طریقے سے دیکھا جائے۔ یہ کام وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشاور ت کی بنیاد پر ہونا چاہیے او ریہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب پاکستان کی سیاسی جماعتیں خود بھی اپنے داخلی نظام میں جمہوری سوچ اور فکر سمیت عام آدمی کے مفادات کو تقویت دینے کا ایک واضح اور شفاف ایجنڈا رکھتی ہوں۔