سوویت یونین کے آخری صدر گورباچوف انتقال کرگئے

  • بدھ 31 / اگست / 2022

سوویت یونین کے آخری سربراہ میخائل گورباچوف 91 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ گورباچوف سوویت یونین کی معیشت کو نہیں بچا سکے تھے لیکن ان کی متعارف کی گئی اصلاحات کی وجہ سے سرد جنگ کا اختتام ہوا۔

روسی میڈیا نے سینٹرل کلینک کے بیان کو رپورٹ کرتے ہوئے مطلع کیا کہ روسی رہنما طویل بیماری کے بعد وفات پا گئے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یو این کی جانب سےان کے خاندان ، روسی فیڈریشن کےعوام اور حکومت سےتعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے منفرد سیا ست دان تھے جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے میں نوبل امن انعام وصول کر تے ہوئے گورباچوف نے کہا تھا۔ ’امن مماثلت کا اتحاد نہیں ہے، بلکہ تنوع میں متحد ہو نا ہے‘۔  اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق، ’انہوں نے اپنی اس بصیرت کو مزاکرات کی کوشش، اصلاحات، شفا فیت اور تخفیف اسلحہ کے لئے استعمال کیا‘۔

گورباچوف محض سات برس اقتدار میں رہے لیکن انہوں نے تبدیلیوں کا ایک غیر معمولی سلسلہ شروع کیا۔ تاہم ان کی کوششیں سوویت یونین کے ٹوٹ جانے پر منتج ہوئیں۔ سوویت یو نین کے مطلق العنان نظام کے خاتمےکے بعد مشرقی یورپ کی بہت سی مملکتیں آزاد ہوئیں اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سوویت یونین اور امریکہ کےدرمیان عشروں سے جاری سرد جنگ کا اختتام ہوا۔ اس دور کی کلیدی کامیابیوں میں سے ایک دیوار برلن کا ٹوٹ جانا ہے۔

ان کے اقتدار کا اختتام بہت مایوس کن تھا۔ اگست 1991

 میں ان کے خلاف محلاتی سازشوں کی وجہ سے ان کے اختیارات بہت حد تک محدود ہوگئے تھے۔ اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں  بہت سے خطے سوویت یونین سے علیحدہ ہوگئے تھے۔  سوویت یونین کا شیرازہ بکھر جانے پر گورباچوف نے کہا تھا کہ انہوں نے سوویت یونین کو بچانے کے لیے طاقت کا استعمال اس لیے نہیں کیا تھا کہ انہیں جوہری اسلحے سے لیس ملک میں افراتفری کا خدشہ تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ سوویت یونین اسلحے سے بھرا ہوا تھا۔ ایسے میں طاقت کے استعمال سے ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا تھا۔ اپنے اقتدار کے آخری زمانے میں وہ بے اختیار ہو گئے تھے اور حالات کو بدلنے سے روکنے میں ناکام رہے۔ لیکن بیسویں صدی کے آخر میں ان کے اقدامات عالمی طور پر انتہائی اہم رہے۔

گورباچوف کو امن کے نوبل انعام سمیت دنیا بھر سے انعامات اور ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔ اگرچہ وہ اپنے ملک میں زیادہ مقبول نہیں تھے۔ روسی ان پر اس وقت کی سپر پاور سوویت یونین کے منتشر ہو جانے کی ذمہ داری ڈالتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اکثر افراد نے ساری ذمہ داری ان پرڈال دی تھی۔

روس کی سرکاری نیوز ایجنسی ٹاس نے بتا یا ہے کہ گورباچوف کو ماسکو کے نووڈیواچی قبرستان میں ان کی اہلیہ کی قبر کے ساتھ دفنایا جائے گا۔