بھارت سے زرعی اجناس درآمد کے معاملہ پر اختلافات

  • بدھ 31 / اگست / 2022

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے اجناس کے بحران کے پیشِ نظر ایک سے زائد عالمی تنظیموں نے بھارت سے اشیا درآمد کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔

اس دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اگرچہ ایک انٹرویو میں بھارت سے فوری درآمدات کی اجازت دینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد عالمی اداروں نے بھارت سے اشیا خور و نوش کی بذریعہ سڑک درآمد کی اجازت کے لیے حکومت سے رابطہ کیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ حکومت اپنے اتحادیوں سمیت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی کہ بھارت سے اشیا کی درآمد کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پاکستان میں پیاز، ٹماٹر سمیت دیگر کئی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں جس کے پیشِ نظر ان اشیا کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف آج سیلاب سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات اور لوئر کوہستان کا دورہ کریں گے۔ وزیرِ اعظم آفس سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیرِ اعظم ضلع سوات میں کالام اور کانجو جب کہ ضلع لوئر کوہستان کے علاقے پتن جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ حالیہ سیلابوں کے باعث ملک بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دریں اثنا پاکستان تحریکِ انصاف نے بھارت سے اجناس کی درآمد کو مسترد کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بہانہ بنا کر حکومت بھارت سے تجارت بحال کرنا چاہتی ہے لیکن یہ کشمیر کاز پر سمجھوتے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ بھارت سے تجارت قوم کو کسی بھی صورت قبول نہیں۔

علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پہلے کشمیر کی پانچ اگست سے پہلے والی آئینی حیثیت بحال کرے پھر آگے بات بڑھے گی۔