بجلی کے 300 یونٹ والے صارفین کیلئےفیول ایڈجسٹمنٹ چارج سے استثنیٰ

  • جمعرات 01 / ستمبر / 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں حکومت سنبھالے 4 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ ایک مخلوط حکومت ہے جو پاکستان بھر کی نمائندہ سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔

جب ہم نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور قائد نواز شریف اور دیگر اتحادی جماعتوں کے زعما نے مجھے اس مقصد کے لیے منتخب کیا تو مجھے صورت حال کی سختی اور معاشی تباہی کا اندازہ تھا اور ہم نے ذمہ داری قبول کی کہ ہم مل کر پاکستان کو اس معاشی تباہی سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے تمام جماعتوں کا حصہ شامل ہے اور ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا مگر سر منڈاتے اولے پڑے۔ دنیا میں تیل اور پیٹرول کی قیمتیں اس وقت آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، 120 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ گئی تھیں، جس کی مثال نہیں ملتی۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب آئی ایم ایف کا معاہدہ ہوا تو وزیرخزانہ نے بتایا کہ پروگرام ہوگیا ہے تو میں نےکہا کہ اللہ کا شکر ہے پاکستان دیوالیہ ہونے بچا لیکن مبارک باد دینے کا موقع نہیں ہے کیونکہ ہم قرض لے رہے ہیں۔ قرض پر کس بات کی مبارک باد اور کس بات کی خوشی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچا جو عمران خان چاہتا تھا اور کہتا تھا پاکستان سری لنکا بن جائے گا۔

عمران خان چاہتا تھا کہ پاکستان سری لنکا بن جائے، اگر یہ ان کی خواہش نہ ہوتو عمران خان کے حکم پر ان کا سابق وزیرخزانہ فون کرتا کہ وفاق کو خط لکھو کہ ہم سرپلس نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سخت فیصلے ضرور کیے ہیں لیکن کم ازکم اس کا چہرہ پہچان لیں جب ہماری پارٹی اپوزیشن میں تھی تو ہمارے اراکین کے ساتھ کیسا سلوک کیا، کال کوٹھری تک پہنچانے کے لیے آخری حدتک گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جس طرح عمران خان نے پاکستان کو چلایا اور ایک ادارے نے اس کو پالا پوسا، اس کی مثال 75 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی اور آئندہ بھی نہیں ملے گی،۔جس حد تک اس کو سپورٹ کیا گیا اور اس کی نزاکتیں اور نخرے برداشت کیے گئے۔ اب تو میں وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر دیکھ رہا ہوں کہ یہ آدمی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر جو فیصلے اور من مانی کرتا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ شروع میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا یہ تکلیف دہ حقیقت ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارج (ایف اے سی) کی وجہ سے عام آدمی کے طوطے اڑ گئے۔ پہلے مرحلے میں 200 یونٹ والوں کو استثنیٰ دیا، جو 21 ارب روپے تھا۔ تاہم  اب 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو فیول ایڈجسٹمنٹ چارج سے استثنیٰ ملے گا۔ اس سے مراد ہے 75 فیصد صارفین کو مکمل طور پر استثنیٰ مل گیا۔