سیلاب متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کیوں؟
- تحریر ضمیر آفاقی
- جمعرات 01 / ستمبر / 2022
2010 کے بعد حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ جو زندگیاں سیلاب کی موجوں کی نظر ہوچکی ہیں وہ واپس نہیں آئیں گی اور جو گھر اجڑ گئے ہیں انہیں دوبارہ بسانے میں کتنا وقت اور سرمایہ درکار ہے، ابھی اس کے تخمینے لگائے جائیں گے۔
اجڑی بستیاں بستے بستے کتنا وقت لگے گا۔ یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم کیونکہ ابھی تک تو وہ مہاجرین جو اپنا سب کچھ تیاگ کر ہندوستان سے پاکستان آئے تھے آباد نہیں ہو سکے، سیلاب متاثرین کی آبادکاری کیا ہو گی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر کسی ایک کی مصیبت دوسرے کے لئے راحت اور فائدے کا باعث بن جاتی ہے۔ جو لوگ اجڑے ہیں ان کے ملبے پر کھڑے ہوکر کتنوں نے خود کو تعمیر کرنا ہے، یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہر برس ہی ایسا ہوتا ہے۔ بلکہ پاکستان میں آنے والی ہر قدرتی آفت کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے۔ اجڑوں کو بسانے کے لیے بسے ہوئے خود کو مزید آباد کرنے کی لے نکل کھڑئے ہوتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں آنے والی ہر مصیبت اور قدرتی آفت پاکستان کی تاریخ کی بد ترین مصیبت اس لیے ہوتی ہے کہ ہم نہ تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں اور نہ ہی انسانیت کی چیخیں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ خدا کے بندو کوئی ایسا بندوبست کیوں نہیں کرتے جس سے قدرتی آفتوں میں نقصان کم سے کم ہو۔ مگر آفرین ہے ہم پر کہ ہم پھر بھی سبق نہیں سیکھتے بلکہ جو غطلطیاں اور کوتاہیاں ماضی میں ہوئی ہیں انہیں درست کرنے کی طرف بھی توجہ نہیں دیتے۔ قوم کی اجتماعی غلطیوں اور کوتاہیوں کی یاد دہانی کرانے کی بجائے ہمارا مذہبی طبقہ جسے خدا ایسا موقعہ دے، وہ کسی بھی آفت یا مصیبت میں گھرے ہوئے لوگوں کو عذاب سے ڈرانے سے باز نہیں آتا۔ سیلابی علاقوں جہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر متاثرین کو بروقت امداد نہ ملی تو کئی جانیں ضائع اور املاک کا نقصان ہو سکتا ہے، بچے جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ، لاکھوں حاملہ خواتین کی داد رسی نہ کی گئی تو بچے پیدا ہونے سے پہلے مر سکتے ہیں اور خواتین بھی۔
کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ کئی کئی دن سے بھوکے ہیں اور بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں لیکن وہاں پر یہ حضرات لوگوں کو گناہوں سے توبہ کرنے کی تلقین کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ لوگ اس کڑے وقت میں بھی بجائے اس کے کہ ان کی جان بچانے کی کوشش کریں یا امداد پہنچائیں، ان کے لئے یہ المیہ بھی سنہری موقع ہے اور اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے سے باز نہیں آتے۔ اس وقت متعدد سیلاب زدہ علاقوں میں آپ کو ایسے گروہ نظر آئیں گے جو ویگن اور کوسٹرز لے کر جگہ جگہ گھوم رہے ہوں گے ۔ یہ گروہ خیمے، خوراک، ادویات اور صاف پانی پہنچانے کے بجائے سکتے کے شکار فاقہ زدہ متاثرین کو بذریعہ میگا فون خوف، ڈر اور عبرت سپلائی کر رہے ہیں۔ تمہارے اعمال ہی ایسے تھے کہ یہ عذاب آنا تھا۔ توبہ کرو۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ حرص کرنی ہے تو بعد از آخرت زندگی کی حرص کرو۔ یہ تکالیف نہیں آزمائش ہے۔ جس کا اگر یہاں نہیں تو وہاں ضرور اجر ملے گا‘۔
یقیناً یہ سب وعظ اور نصیحتیں بہت اچھی ہیں لیکن جب پیٹ خالی ہوں۔ جب حاملہ عورتیں ہر چلتی گاڑی کو امدادی گاڑی سمجھ کر پیچھے پیچھے بھاگ رہی ہوں۔ جب بچے خوراک کی تقسیم کے وقت اپنے ہی بڑوں کے پیروں تلے آرہے ہوں اور جب بڑے چھینا جھپٹی کے دوران پولیس کے ڈنڈوں کی زد میں آ رہے ہوں۔ کیا یہ وقت وعظ اور نصیحت کے لیے مناسب ہے؟ ایسے موقعوں پر طبقہ اشرافیہ کا گروہ بھی صرف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ذریعے اپنی آرام دہ کرسیوں میں بیٹھا سیلابی قیامت کا نظارہ کر رہا ہوتا ہے۔ اور میدان میں لنگوٹ باندھ کر کودنے کے بجائے سیمیناروں اور بیانات کے ذریعے مصیبت زدگان کی مدد کر تا دکھائی دیتا ہے کہ کالا باغ ڈیم بن جاتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس گروہ کے خیال کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ جیسا سیلاب اس سال آیا ہے اب ہر سال آئے گا۔
فرض کریں کہ اب ہر سال ایسا ہی خوفناک سیلاب آئے گا اور اس بنیاد پر کالا باغ ڈیم بھی بن جائے تو بھی کیا ہوگا ؟ مسئلے کا حل کالا باغ ڈیم بتانے والے کبھی بھی یہ نہیں بتائیں گے کہ نہروں اور کھیت تک پانی پہنچانے والی آبی گزرگاہوں کو اگر پکا کر دیا جائے تو ایک کالا باغ ڈیم کے برابر پانی مفت میں بچ سکتا ہے یہاں تو ان نہروں کی صفائی تک نہیں کی جاتی مگر کاغذی کھاتہ پورا ہوتا ہے۔ اگر پہاڑی علاقوں کو اندھا دھند درختوں سے محروم نہ کیا جاتا تو یہ درخت تیس فیصد سیلابی پانی کو دریا میں آنے سے پہلے روک لیتے مگر یہاں بھی ہوس شکم پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ دھڑا دھڑ درخت کاٹ کر دولت بڑھائی جارہی ہے۔ اگر دریائی گزرگاہوں میں تجاوزات نہ کی جاتیں تو بیش تر سیلابی پانی آسانی سے گزر جاتا ۔ جو کچھ ہو چکا ہے کیا اس کے بعد بھی کوئی سبق حاصل کیا جائے گا یا یونہی درخت کاٹے جاتے رہیں گے۔ نہروں کی بھل صفائی کی مہم صرف کاغذوں میں رہے گی اور دریائی گزر گاہوں کو یونہی بند رکھا جائے گا؟
کہتے ہیں قومیں گناہوں سے تباہ نہیں ہوتی اپنی ہٹ دھرمی کی روش تبدیل نہ کرنے سے تباہ ہوتی ہیں ۔ پاکستان کی75سالہ تاریخ میں 1956، 1976، 1986 اور 1992 اور 2010 میں بڑے سیلاب آئے تھے جنہوں نے تباہی مچائی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں حالیہ سیلاب کو پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور خوفناک سیلاب قرار دیا جا رہا ہے جس میں ہزاروں اموات لاکھوں زخمی اور کروڑں بے گھر ہو چکے ہیں، لیکن بات وہی ہے حکومت نے ان سب سے کیا سبق سیکھا کوئی حفاظتی بندوست کئے ، نئے ڈیمز کی تعمیر کی ، نہریں بنائیں ، یا شہروں کے ڈریننج سسٹم کو اپ گریڈ کیا؟ ان سب سوالوں کے جواب نفی میں ملیں گے جبکہ حکمران جب لٹے پھٹے متاثرین کے پاس جاتے ہیں تو انہیں کہتے ہیں کہ خدا نے آپ کی قسمت میں ایسا ہی لکھا تھا۔ اس طرح کی باتیں جلتی پر تیل کا کام دیتی ہیں ۔ جو علاقے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور جن کا سب کچھ لٹ چکا ہے بیس پچیس ہزاری امداد سے ان کے اشک شوئی کیا ان کے دکھوں کا مدوا بن سکے گی؟ کسانوں کا تو دارومدار ہی فصلوں پر ہوتا ہے جس پر وہ قرضے لیتے ہیں کہ فصل آئے گی قرض بھی واپس کیا جائے گا اور اپنے معاملات بھی چلائے جایئں گے۔ کیا حکومت نے اس بات کا سروے کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوںکے لوگوں کا کتنا نقصان ہوا اور ان کا ازالہ کیسے ہو جائے گا۔ کم سے کم یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ ان حرماں نصیبوں کی اتنی مدد تو کی جائے کہ وہ اپنے قرض ہی ادا کر سکیں جو فصلوں کے پکنے پر انہوں نے ادا کرنے تھے۔
حرف آخر جو علاقے اور شہر سیلاب سے بچے ہیں وہاں منہگائی کا سیلاب آچکا ہے اور اس نے ابھی کافی عرصہ رہنا ہے۔ اس لئے حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہر طرف نگاہ رکھے منافع خوروںاور ذخیرہ اندوزوں کو سیدھا جیل میں ڈالا جائے۔ یہ لوگ کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور انتظامی مشینری اگر غلط کام کرے تو ایسے افسران اور اہلکاروں کو نوکریوں سے نکال باہر کیا جائے۔ کیونکہ یہ لوگ عوام کے خادم ہیں اور یہی ظلم کریں تو ان کی سزا بھی ڈبل ہونی چاہیے۔