سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام

  • جمعہ 02 / ستمبر / 2022

اقوام متحدہ نے چین کے خطے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے تشدد کے الزامات کو درست قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں اس عمل کو انسانیت کے خلاف ممکنہ جرائم کا حوالہ دیا ہے مگر اس کو نسل کشی کہنے سے گریز کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں چین کے دور دراز مغربی خطے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ذکر کے ساتھ ساتھ سرگرم گروپوں، مغربی ممالک میں جلاوطن ایغور کمیونٹی کی طرف سے طویل عرصے سے لگائے جانے والے بہت سے الزامات کیتصدیق کی گئی  ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایغور کمیونٹی اور دیگر مسلمان برادریوں کے اراکین کے ساتھ ناروا سلوک اور امتیازی حراست بین الاقوامی جرائم، خاص طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب دنیا کو سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو تیار ہونے میں ایک سال لگا ہے۔ چین نے  رپورٹ جاری کرنے کی مخالفت کی تھی۔ چین پر کافی عرصے سے اپنے اس خطے میں ایغور برادری سمیت دیگر 10 لاکھ افراد کو حراست میں رکھنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ بیجنگ سختی سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور وضاحت پیش کی ہے کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے پیشہ ورانہ مراکز چلائے جارہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ چین کے نام نہاد پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی مراکز میں قید لوگوں کے علاج پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد یا بدسلوکی کے الزامات، بشمول جبری طبی علاج اور حراست کے منفی حالات، قابل اعتبار ہیں۔ جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے انفرادی واقعات کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ چین کے پیشہ ورانہ تعلیمی و تربیتی مراکز میں کتنے لوگ متاثر ہیں مگر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پورے خطے میں یہ سسٹم وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔

جنیوا میں چین کے مشن نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی۔ مشن نے صوبائی حکومت کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’چین مخالف قوتوں کی طرف سے من گھڑت جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر مبنی نام نہاد تشخیص چین کے قوانین اور پالیسیوں کو مسخ کرتی ہے۔ چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتی ہے۔ یہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے‘۔