دادو میں پانی کی سطح میں اضافہ، سیلاب سے 1200 سے زائد افرد جاں بحق

  • جمعہ 02 / ستمبر / 2022

سندھ کے ضلع دادو میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں تباہ کن سیلاب سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 1200 سے تجاوز کرگئی ہے۔

دادو میں پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہے جبکہ ملک کے شمالی علاقوں میں خوفناک سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ مون سون کی غیر معمولی، بدترین بارشوں اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک میں 416 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 208 شہری جاں بحق جبکہ 6 ہزار 82 زخمی ہوئے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 19 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق تباہی کا رخ اب جنوبی علاقوں کی جانب ہے جبکہ سیلابی پانی جمعہ کے روز ضلع دادو کی منچھر جھیل اور جوہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

جمعہ کی صبح منچھر جھیل سے دریائے سندھ میں 10 ہزار سے 15 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ مین نارا ویلی ڈرین اور سیلب سے حفاظتی پشتے ایف پی بند سے 70 ہزار سے 80 ہزار کیوسک پانی جھیل میں آرہا ہے۔ جھیل میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن تمام حفاظتی بند مضبوط ہیں۔

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ہم تیار اور ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ شمالی علاقوں سے ریلے آئندہ چند روز کے دوران صوبے میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ تقریباً 6 لاکھ کیوبک فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی دریائے سندھ میں آنے کا خدشہ ہے جو سیلاب سے بچاؤ کے ہمارے نظام کا امتحان لے گا۔

آنے والے خطرے کے پیش نظر صوبے میں سینکڑوں خاندانوں نے سڑکوں پر پناہ لی ہے، بہت سے لوگ شہروں کا رخ کر رہے ہیں جیسا کہ کراچی جو کہ تاحال سیلاب سے محفوظ ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ محصور لوگوں کو نکالنے، راشن اور ادویات کی فراہم کے لیے ہیلی کاپٹرز کی 200 پروازیں کی گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 991 پھنسے ہوئے افراد ریسکیو کیا گیا ہے اور 162 ٹن سے زائد وزن کی امدادی اشیا سیلاب متاثریں تک پہنچائی گئی ہیں۔

 اب تک، 50 ہزار سے زائد افراد کو آفت زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا چکا ہے۔ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 147 ریلیف کیمپ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں جب کہ اب تک 60 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور انہیں 3سے 5 روز کی مفت ادویات فراہم کی گئی ہیں۔