کیا انصاف ہوتا دکھنا بھی چاہیے؟

سر ونسٹن چرچل کا عالمی جنگ کے دوران بولا گیا فقرہ یا مقولہ زبان زد عام ہے کہ ’’اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو انگلستان کو کوئی خطرہ نہیں‘‘۔ حالانکہ اس وقت ہٹلر کی بے لگام ایئر فورسز لندن تک رسائی کرتے ہوئے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا رہی تھیں۔

جن لوگوں کو اس دانائی کی معنویت سمجھ نہیں آئی وہ ہماری پاکستانی جوڈیشری کے حالات و واقعات کا دلجمعی سے مطالعہ فرمالیں، تمام حقائق روشن ہوجائیں گے۔ قانون کا ایک معروف میکسم یا اصول ہے کہ انصاف ہونا ہی نہیں چاہئے ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ بصورت دیگر لوگوں کا انصاف اور اس کے پورے ماتحت یا سپریم سسٹم سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ ہم مسلمان لوگ اپنے ایک خلیفہ کی مثال پیش کرتے نہیں تھکتے ہیں کہ جب وہ اپنے متعین کردہ قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے اور اس قاضی نے دوسرے فریق کے بالمقابل انہیں امیر المومنین کہتے ہوئے زیادہ تکریم پیش کی تو حضرت نے قاضی کو فرمایا کہ میرے آتے ہی تو فریق ثانی کے بالمقابل جس طرح مخاطب ہے، اس سے واضح ہے کہ تو کیا انصاف کرے گا، تو تو قاضی بننے کا اہل نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس نوع کی سچی یا جیسی تیسی کہانیاں کیا محض ثواب دارین کے لئے ہیں یا کچھ سیکھ کر اصول وضوابط منضبط کرنے اور اپنے سسٹم پر لاگو کرنے کے لئے ہیں؟ بات محض اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص آپ کا بہت لاڈلا یا چہیتا ہے، آپ کی فیملی یا گھر والوں کو بھی بہت اچھا لگتا ہے یا ہماری بہت بڑی آبادی اس کے جنونی سحر میں مبتلا ہے۔ ہمارا میڈیا پچھلی نصف صدی سے ہینڈ سم، ہینڈ سم کی رٹ لگا کر اسے ایک ہیرو کے روپ میں پیش کرتا چلا آ رہا ہے۔ اورآج بہت سےعاقبت نااندیش اسے ایک نجات دہندہ کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ آپ یہ تمامتر یعنی و لایعنی حرکات ضرورکریں تاکہ پوری قوم آنے والے برسوں اس محبوب کے پھن کا ذائقہ چکھ لے حالانکہ جن میں عقل کی رتی بھی تھی انہوں نے ساڑھے تین سالہ بربادی کے ستم یا جشن سے بہت کچھ سمجھ لیا ہے۔ لیکن پھر بھی کئی لوگوں کی تب تک تسلی نہیں ہوتی جب تک اپنی آنکھوں سے سب کچھ ملیا میٹ ہوا نہیں دیکھ لیتے۔ جسے شک ہے وہ ستم گر محبوب کی ظلم و جبر پر مبنی اپنی اردو شاعری کا مطالعہ فرمالے ’جو ان کی تمنا ہے برباد ہو جا تو پھر اے دل تڑپ اور ابھی جان دے دے‘۔

مسئلہ آپ کی عاشقی معشوقی کا نہیں ہے نظام انصاف کے بھرم کا ہے۔ آپ عوام کی آنکھوں میں لفاظی کے ساتھ دھول ضرور جھونکیں مگر یہ مت بھولیں کہ بائیس کروڑ عوام سارے کے سارے بے بصیرت نہیں ہیں۔ عظیم امریکی صدر ابراہام لنکن نے کیا خوب کہا تھا کہ آپ طویل عرصے کے لئے کچھ لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں یا تھوڑے عرصے کے لئے بہت سے لوگوں کو احمق بنا سکتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں کہ آپ سب لوگوں کو سارے وقت کے لئے فول بنا کر رکھ سکیں۔ یہ انصاف کی کونسی نئی جنس نازل ہوئی ہے کہ ایک شخص آپ کے خیال میں بہت پاپولر ہے، ہینڈ سم ہے یا بڑے قد کاٹھ کا ہے اس کے لئے انصاف کے پیمانے یا معیارات ہی بدل جائیں گے۔ اس قد کاٹھ سے حضور کی کیا مراد ہے؟ لمبی لمبی چھوڑتا یا بونگیاں زیادہ مارتا ہے، جھوٹ بولنے اور یوٹرن لینے میں ید طولیٰ رکھتا ہے، جسے زندگی بھر اپنی رانوں پر کنٹرول رہا ہے نہ دو جبڑوں کے بیچ والی پر۔ اوپر والی سٹوری ہمیشہ خالی رہی یا کرائے پر چڑھا رکھی۔ ابھی کل ہی سرگودھا کی جلسی میں کہہ رہا تھا کہ جب پاکستان بنا تو اس کی آبادی چالیس کروڑ تھی پھر اس کو دہراتے ہوئے اصرار کئے جا رہا ہے ساتھ کھڑے ’’عالی دماغوں‘‘ نے متوجہ کیا، نہیں سرکار تب پاکستان کی آبادی چالیس کروڑ نہیں چالیس لاکھ تھی۔ تو کہتا ہے اچھا اچھا چالیس لاکھ تھی۔

بھائی جس بات کا آپ کو یا آپ کے حواریوں کو سرے سے کچھ علم ہی نہیں ہے اس کو بیان کیوں کرتے ہو۔ پھر اصرار ہے کہ پورے دین و دنیا کو کوئی مجھ سے بڑھ کر نہیں جانتا۔ اگر تم نے جناح صاحب کی تقاریر ہی سنی ہیں جن کا خود کو ہمزاد خیال کرتے ہو تو وہ اپنی تقاریر میں بار بار پورے جنوبی ایشیا یا متحدہ ہندوستان میں مسلم آبادی کو دس کروڑ بولتا ہے۔ سب کو معلوم ہے تین کروڑ کے قریب انڈیا میں رہ گئے تھے جبکہ مشرقی و مغربی پاکستان کو ملا کر کل مسلم آبادی سات کروڑ تھی لیکن قوم کا یہ تیسرا نجات دہندہ ہر چیز کا علامہ ہے اور سامعین بھی شاید ہمارے اس نئے جوڈیشل ایکٹو ازم جیسے ہی ہیں۔

ایک غیر ذمہ دار و لاابالی شخص ملزم کی حیثیت سے آپ کی عدالت میں پیش ہوا ہے تو اس کا یوں ریڈ کارپٹ استقبال، چہ معنی دارد؟ ملزم کٹہرے میں جوابدہی کے لئے عدالت کے روبرو کھڑا ہوتا ہے یا شہنشاہ معظم بن کر ہمجولیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے کرسیوں پر یوں براجمان رہتا ہے، جیسے اس عظیم محکمے کا فیتہ کاٹنےکوئی سلیبرٹی آیا ہے؟ کیا قناتیں ہیں اور کیا پروٹوکول ہے، کیا سکیورٹی اہتمام اور ہٹو بچو ہے اور اس کے روبرو اپنی صفائیاں پیش کی جا رہی ہیں کہ ہم تو اپنی توہین کو کوئی جرم سمجھتے ہی نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔

معاف کیجئے دہشت گردی بارودی جیکٹ پہن کر مسجد یا بازار میں بم پھوڑنا ہی نہیں ہوتی۔ ٹیرر کا مطلب دوسرے کو دھمکانا یا خوفزدہ کرتے ہوئے اپنے مدعا پر لانا ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی عادی ملزم ہمیشہ سے یہ وتیرہ اپنائے چلا آ رہا ہو، بھرے جلسوں میں نام لے لے کر دھمکاتا رہا ہو کہ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں، میں تمہیں لٹکا دوں گا تو کیا اس گفتگو یا طرز کلام کو ٹیرر کی بجائے محبت کا زمزمہ کہا جائے گا؟ پھر یہ معافی کا تصور بھی کیسا عجیب ہے۔ توہین و دھمکی ایک قابل صد احترام خاتون جج صاحبہ کو نام لے کر دی جا رہی ہے جبکہ معافی نامے کی قبولیت یا استرداد کی اتھارٹی پر کوئی اور براجمان ہے۔ چلیں ٹھیک ہے ضوابط کا استحقاق ہے مگر اس استحقاق کے بھی کوئی رولز یا قواعد ہیں، شوکاز نوٹس کا جواب آنے پر فردجرم عائد کی جاتی ہے، سپریم جوڈیشری کے سابقہ فیصلے ہی سامنے ہوں گے؟ جہاں معززسیاسی کارکنان و لیڈران کے ساتھ طویل و عریض معافی ناموں کے باوجود اسی آئینی و ریاستی تخلیق نے سوتیلے بچوں جیسا سلوک کرتے ہوئے اپنی شان و شوکت کا ہتھوڑا روا رکھا۔

ذرا نہال، طلال اور دانیال کے کیسز نکال کر ایک نظر ان سیاستدانوں کے ساتھ روا رکھے گئے ’’حسن سلوک‘‘ پر بھی ڈال لی گئی ہوتی۔ یہ معزز وکیل صاحب کیا وہی نہیں ہیں جو اسی نوع کے ایک کیس میں منتخب وزیر اعظم گیلانی کو نااہل قرار دلوانے کے لئے دلائل کے انبار لگا رہے تھے اور آج ایک ملزم کے لئے معافی کے طلب گار ہیں؟ کیا آج پاکستان کے بائیس کروڑ عوام یہ پوچھنے کا استحقاق رکھتے ہیں کہ جو ’’حسن سلوک‘‘ ایک باوقار اور معتمد وزیر اعظم کے ساتھ روا رکھا گیا تھا اور وہاں کسی کو ’قد کاٹھ‘ یاد نہیں رہا تھا، آج ایک عدم اعتماد کے ذریعے پارلیمینٹ کےمسترد کردہ شخص کا قد کاٹھ کیسے قانونی ضوابط سے اوپر اٹھ گیا؟

کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس سابق وزیر کو بھی پکڑا جائے جو یہ کہتا ہے کہ میرا لیڈر بھٹو اور نواز شریف سے زیادہ پاپولر ہے، اس لئے وہ جو چاہے ہانک دے اس پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔ بلکہ ایسی عدالتوں کی پکڑ ہونی چاہیے جو اس کی طرف غلط انداز نظروں سے دیکھیں اور اس لیڈر کے کیا کہنے جو ربع صدی سے رٹی رٹائی ایک ہی تقریر سنا رہا ہے کہ پچھلی قومیں کیوں برباد ہو گئیں …. اور آج اپنی قوم کو برباد کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔