سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، مزید 57 افراد جاں بحق
سکھر بیراج سے اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے اور منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سیالب سے سندھ کے ضلع دادو کو بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق آج صبح 6 بجے سکھر بیراج سے 5 لاکھ 59 ہزار 988 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلاب گزرا۔ دادو سے رکن قومی اسمبلی رفیق احمد جمالی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ دوپہر کو صورت حال مزید خراب ہوئی کیونکہ پانی ریلہ جوہی کی تحصیل کی طرف بڑھنے لگا جہاں مختلف پہلے ہی ڈوبے ہوئے ہیں۔
اس دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث مزید 57 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس طرح ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بارہ سو سے تجاوز کرگئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پنجاب، خیبرپختونخوا میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے جس سے صورت حال خراب ہوسکتی ہے۔
دادو ضلع سیلاب کا نیا مرکز بن گیا ہے کیوں کہ ملک کے شمالی علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد پانی ملک کے جنوب کی طرف بہہ کر آرہا ہے۔ تاہم گڈوبیراج میں پانی کا بہاؤ صبح سے کم ہونا شروع ہوگیا ہے۔ گڈو بیراج کی صلاحیت 12 لاکھ کیوسک پانی کے بہاؤ کی ہے جہاں سے شام 6 بجے کو 5 لاکھ 61 ہزار 118 کیوسک سیلاب کا گزرا تھا جو دوسرے نمبر سب سے زیادہ بہاؤ ہے۔
گڈو اور سکھر بیراج میں بالترتیب 23 اور 25 اگست کو پہلی مرتبہ سب سے زیادہ 5 ہزار 80 کیوسک سیلاب کا گزرا تھا۔ یہ سیلاب اب کوٹری بیراج میں سستی روی سے پہنچ رہا ہے۔
سیہون کے ایک رکن قومی اسمبلی سردار سکندر راہوپوٹو نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ جھیل کے حفاظتی بندوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایک روز قبل جھیل میں مین نارا ویلی ڈرین سے پانی آرہا تھا جسے رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین کہا جاتا ہے۔ اس ڈرین میں پہاڑوں سے سیلاب آیا جس کے سبب متعدد مقامات پر شگاف کی اطلاع ملی ہے۔
پاکستان شدید سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، جس سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد یا آبادی کا 15 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے تاکہ سیلاب کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کی جا سکے جسے اس نے ایک بے مثال موسمیاتی تباہی قرار دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں حیرت انگیز کام پر سرکاری محکموں اور سرکاری ملازمین کی توصیف کی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا سیلاب زدہ علاقوں میں ضروری خدمات کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر قومی کوشش جاری ہے۔
محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے لیکن گزشتہ ہفتوں کی نسبت ستمبر کے دوران بارشوں کی شدت کم ہوگی۔ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ منگل تک ملک کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بحیرہ عرب سے مون سون کی کمزور ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں۔