سیلاب کی وجہ سے افراط زر کی شرح میں اضافے کا خدشہ: مفتاح اسماعیل
وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستانی قومی کو اپنے محدود وسائل کے مطابق رہنا چاہیے۔ امریکی اخبار بلوم برگ کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے افراط زر کی شرح میں اضافے کا خدشہ ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمیں دہائیوں پرانے طور طریقوں کو بدلنا ہوگا تاکہ قومی کو اپنے وسائل میں رہنے کے سلسلہ میں مدد دی جا سکے۔ اگر میرے پاس محدود ڈالر ہیں تو میں یقینی بناؤں گا کہ میں انہیں گندم خریدنے کے لیے استعمال کروں، انہیں اپنے لوگوں کی خوراک درآمد کرنے کے لیے استعمال کروں۔ ہم مرسیڈیز اور اوڈی خریدنے کو مؤخر کر سکتے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ درآمدی ادائیگیوں کو ڈالر کی وصولی کے مساوی ہونا چاہیے جس کے لیے طویل عرصہ تک پرتعیش اشیا کی درآمدات پر پابندی ناگزیر ہے۔ میں ایک ایسے پاکستان کو خواہشمند ہوں جو اپنے وسائل میں رہ سکے تاکہ کسی ادارے سے قرض کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کے تجارتی اور مالیاتی خسارہ کو کم کرنا اولین ترجیح ہے۔ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے دوران 3.5 فیصد کی معاشی شرح نمو متوقع ہے جبکہ گزشتہ سال اس کا تخمینہ پانچ فیصد لگایا گیا تھا۔
انہوں نے افراط زر کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان میں گذشتہ 47 سال کے مقابلہ میں افراط زر کی شرح زیادہ ہے جو ایشیائی ممالک میں دوسری سب سے بڑی شرح ہے۔ سیلاب اور بارشوں کے باعث سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ کم ہو رہا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ہمسایہ ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر سبزیوں کی درآمدات کے اقدامات کئے ہیں۔