منچھر جھیل میں ریلیف کٹ کے باوجود پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ

  • سوموار 05 / ستمبر / 2022

سندھ کی منچھر جھیل اور دادو ضلع کے کچھ حصوں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کی پیش نظر حکام نے سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں سے مزید کٹ لگانے کی تیاری کرلی ہے۔

محکمہ آبپاشی کے ذرائع نے بتایا کہ باغ یوسف سے کٹ لگانے سے منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہیں ہوا۔ محکمہ آبپاشی نے منچھر جھیل کو مزید 2 مقامات سے کٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ منچھر کا پانی کم نہ ہونے کی صورت میں آر ڈی 55 اور آر ڈی 80 سے کٹ لگایا جاسکتا ہے۔

 پاکستان میں میٹھے پانی کی اس سب سے بڑی جھیل میں ریلیف کٹ سے تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ کی منچھر جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کے ایک روز بعد پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے کٹ لگایا گیا تھا۔

محکمہ آبپاشی کے خصوصی سیکریٹری جمال منگن نے کہا کہ یہ کٹ آر ڈی14 یوسف باغ کے مقام پر لگایا گیا جنہوں نے اس اقدام کو ‘ریلیف کٹ’ قرار دیا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ریکارڈ مون سون بارشوں اور پاکستان کے شمالی پہاڑوں میں پگھلنے والے گلیشیئرز بدترین سیلاب کا سبب بنے ہیں جس سے 14 جون سے اب تک ایک ہزار 314 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 اموات کی اطلاع ملی ہے۔

ملک کے شمالی علاقوں اور بلوچستان میں مون سون کے موسم کے آغاز کے ساتھ شروع ہونے والی تباہی اب جنوبی علاقوں تک پہنچ چکی ہے جس سے سینکڑوں افراد جاں بحق، زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا وزیر اعظم شہبازشریف نے قمبر شہدادکوٹ میں امدادی کیمپ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کے بعد امداد کے لیے مختص رقم میں اضافے کا اعلان کردیا۔

سندھ میں سیلابی صورتحال پر بریفنگ اور متاثرین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے ہم نے 28 ارب روپے مختص کیے تھے لیکن ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ متاثرہ خاندان کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا وفاقی حکومت نے مشاورت کے ساتھ اس رقم کو اب 70 ارب روپے تک بڑھا دیا ہے۔