مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست مسترد

  • منگل 06 / ستمبر / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کے سابق قائم مقام اسپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے قانون سازوں کے استعفوں کی منظوری کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

عدالت کا یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے مخصوص استعفوں کو منظور کرنے کے اسپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کی جانب سے کیس کی سماعت لارجر بینچ کے سامنے کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد 11 اپریل کو پی ٹی آئی کے تمام قانون سازوں نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دیے تھے۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے 15 اپریل کو پی ٹی آئی کے 123 قانون سازوں کے استعفے منظور کیے تھے۔

بعد ازاں، قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے 123 اراکین اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کا عمل آئندہ چند روز میں انفرادی طور پر یا چھوٹے گروپس میں بلا کر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے اکثر استعفے ہاتھ سے نہیں لکھے ہوئے تھے اور پی ٹی آئی کے لیٹر ہیڈ پر بھی ایک جیسا متن چھپا ہوا تھا۔

سیکریٹریٹ کے عملے کو بھی کچھ ارکان کے دستخط پر شک تھا کیونکہ یہ اسمبلی کے رول پر موجود دستخط سے ملتے نہیں تھے۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے کم از کم 25 ایم این ایز نے راجا پرویز اشرف کو الگ سے خط لکھ کر ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ وہ وضاحت کر سکیں کہ کن حالات میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔

قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور پروسیجر رولز 2007 کے مطابق کوئی رکن اپنے ہاتھ سے لکھ کر استعفیٰ اسپیکر کو پیش کرسکتا ہے

قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان کی آرٹیکل 64 کی شق (1) کے تحت تفویص اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے استعفے منظور کیے ہیں۔ درخواست پر سماعت کے لیے فریقین کی جانب سے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ اور عرفان قادر عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ یہ عدالت اسپیکر کو کبھی ہدایت نہیں دے گی اور اس کی منشا اپنے فیصلے میں لکھ چکے ہیں، استعفی دینے والے ہر ممبر کو ذاتی طور پر اسپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر نے جو کیا وہ اس عدالت کے فیصلے کے بالکل خلاف تھا۔ یہ عدالت عوام کے منتخب نمائندوں کا احترام کرتی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے دلائل سننے کے بعد قائم مقام اسپیکر قاسم سوری کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔