خاتون جج کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، غیر ارادی الفاظ پر افسوس ہے: عمران خان

  • بدھ 07 / ستمبر / 2022

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے توہین عدالت کیس میں نیا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا ہے کہ انہیں خاتون جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے متعلق غیر ارادی طور پر منہ سے نکلنے والے الفاظ پر افسوس ہے۔ عمران خان نے اپنے جواب میں عدالت سے غیرمشروط معافی نہیں مانگی تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خاتون مجسٹریٹ کی دل آزاری نہیں تھا۔ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ عدالت اور ججز کا احترام کرتے ہیں۔

چیئرمین تحریکِ انصاف نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 31 اگست کو مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان کو ایک ہفتے میں دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت جمعرات کو اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کرے گی۔

خیال رہے کہ عمران خان نے 20 اگست کو اسلام آباد میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’آپ تیار ہو جائیں ہم آپ کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔

چیئرمین تحریکِ انصاف نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ خاتون جج سے متعلق اپنے الفاظ پر پچھتاوے کا اظہار کرنے پر اُنہیں کوئی شرمندگی نہیں ہو گی۔ خاتون جج کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو اس پر اُنہیں بہت افسوس ہے۔ مصروف شیڈول کی وجہ سے مجھے معلوم نہیں تھا کہ شہباز گل کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔ توہینِ عدالت کی کسی مہم کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے والی ماتحت عدلیہ کا احترام کرتا ہوں۔

عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کے توہینِ عدالت کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلال چوہدری کا کیس الگ نوعیت کا تھا۔ اُنہوں نے اپنے بیان پر کبھی افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ عمران خان نے عدالت سے مودبانہ گزارش ہے کہ میری وضاحت قبول کی جائے اور توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لے لیا جائے۔ عدالتیں معافی اور تحمل کے اسلامی اصولوں کو ہمیشہ تسلیم کرتی ہیں۔ عفو، درگزر اور معافی کے اسلامی اصول اس کیس پر بھی لاگو ہوں گے ۔

سابق وزیرِ اعظم نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لیں گے۔  مستقبل میں کوئی ایسا بیان نہیں دوں گا جو کسی زیرِ التوا مقدمے پر اثرانداز ہو۔