آرمی چیف ہمیشہ میرٹ پر مقرر ہؤا: خواجہ آصف

  • بدھ 07 / ستمبر / 2022

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے گزشتہ دنوں آرمی چیف کے تقرر سے متعلق متنازع بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ عمران خان بتائیں پاکستان آرمی میں کب میرٹ پر تقرریاں نہیں ہوئیں۔

اسلام آباد میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ دنوں عمران خان نے آرمی چیف کے تقرر سے متعلق ایک متنازع بیان دیا۔ کل انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کی کوشش میں اپنی بات کو نئے معانی و مطالب دینے کی کوشش کی۔

عمران خان ایسے بیانات ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت دے رہے ہیں۔ پہلے اداروں پر حملہ کیا جاتا ہے، ان کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ اداروں کو مضمحل کیا جائے اور ردعمل دیکھا جائے، اس کے بعد اس میں کچھ جمع تفریق کرکے کہا جائے کہ میں نے تو میرٹ کی بات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے ہوش میں آج تک، ایک دو کے علاوہ، پاک فوج میں ہونے والے تمام تقرر و تبادلے میرٹ پر ہوئے ہیں۔ فوج کی قیادت کی جانب سے سینئر ترین افسران کے جو بھی چار یا پانچ نام آتے ہیں، ان افسران میں سے وزیر اعظم اپنی مشاورت اور کنسلٹیشن کے ساتھ آرمی چیف، نیول چیف یا ایئر چیف تعینات کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب حالات یہ ہوگئے ہیں کہ عمران خان کی اپنی جماعت کے لوگ بھی ان سے کترانے لگے ہیں۔ ان کی پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پتا ہی نہیں کہ عمران خان نے کیا کہا، ہم نے سنا ہی نہیں۔ میں مصروف تھا ان کی تقریر سن نہیں سکا، اس لیے اس پر ردعمل نہیں دے سکتا۔

پی ٹی آئی کا کوئی رہنما کہتا ہے کہ مجھے ان کے بیان کا سیاق و سباق نہیں پتا، پرسوں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت عارف علوی نے بھی عمران خان کے بیان سے اظہار لاتعلقی کیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ سابق وزیراعظم بتائیں کہ پاکستان آرمی میں کب میرٹ پر تعیناتی نہیں ہوئی۔ ہماری حکومت کی جانب سے کی گئی آخری تعیناتی جو کہ موجودہ آرمی چیف کی ہے، اس تعیناتی کی انہوں نے خود توثیق کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں گزشتہ 3 سال کے دوران انہوں نے جتنی موجودہ آرمی چیف کی تعریفیں کی ہیں، اتنی تعریف شاہد ہی کسی اور کی ہوں۔ آرمی چیف پر عمران خان کے اعتماد کا عالم یہ تھا کہ آرمی چیف اہم اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے اور عمران خان خود ان میں نہیں آتے تھے۔ عمران خان کی جگہ سیاسی اور سیکیورٹی بریفنگ آرمی چیف کے حوالے ہوتی تھیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آج جب ان کے پاس اقتدار نہیں رہا تو افواج پاکستان کی پوری قیادت پر حملہ کر رہے ہیں اور جان بوجھ کر آنے والی عسکری قیادت سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ آرمی چیف کو توسیع دی جارہی ہے یا پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورہ لندن سے متعلق خبر میرے علم میں نہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسمٰعیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو پائیدار اور مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں۔