وزیراعظم کا موسمیاتی تبدیلیوں کےخلاف پائیدار نظام پر زور، سیلاب سے مزید 18 افراد جاں بحق

  • بدھ 07 / ستمبر / 2022

پاکستان میں بدھ کے روز سیلاب سے مزید 18 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تباہ کن سیلاب کی بے انتہا شدت کے پیش نظر حکام کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت سے سوا 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں جو ملکی آبادی کا 15 فیصد ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 18 افراد ہلاکت خیز سیلاب کے دوران جان کی بازی ہار گئے جب کہ 14 جون سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 343 ہوگئی ہے۔

آج خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں کے ساتھ ملحقہ پہاڑوں پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جب کہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔

آج صبح، این ایف آر سی سی کے ڈپٹی چیئرپرسن احسن اقبال اور فورم کوآرڈینیٹر میجر جنرل ظفر اقبال نے سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فورم کے اجلاس کی صدارت کی۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی، اصلاحات اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح سیلاب زدگان کی امداد یے جو پہلے دن سے جاری ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری قوم متاثرہ لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے متعدد بیماریاں سامنے آئی ہیں خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جس سے متاثرہ افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ وفاقی وزیر نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے سروے تیز کرنے کی ہدایت کی اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی این ڈی ایم اے ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے سربراہان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

دوسری جانب، وزیراعظم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری بحالی اور امدادی کاموں کا جائزہ لینے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے۔ شہباز شریف نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ سگوپل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر، گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پائیدار نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی وتعمیر نو کے لیے بڑے پیمانے پروسائل درکار ہوں گے۔ تاہم متاثرین کو ہر ممکنہ وسائل فراہم کریں گے۔ ٹانک میں 100 گھروں پر مشتمل بستی کا 2 ہفتے بعد افتتاح کریں گے، گھروں کی تعمیر کے لیے نقد رقم دینے یا گھر تعمیر کرکے دینے پر غور کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے سیلاب کے نقصانات سے بچاؤ کے لئے چھوٹے ڈیم تعمیر کرنا ہون گے۔ دیر پا منصوبے بنانے ہوں گے، متاثرین کی امداد شفاف طریقے سے ان تک پہنچائیں گے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

دریں اثنا، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکت خیز سیلاب سے تباہ حال پاکستان میں انسانی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک ہزار 460 سے زیادہ مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 432 مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ مراکز صحت سندھ میں تباہ ہوئے۔ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے 4 ہزار 500 سے زیادہ میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جب کہ ڈائریا، ملیریا، ڈینگی، ہیپاٹائٹس اور چکن گونیا کے دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ریپڈ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔