منہ پھٹ ہے خوار ہوگا
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 07 / ستمبر / 2022
علامہ اقبال نے کیا خوب فرما رکھا ہے : کیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں تو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہو گا۔ حضرت علامہ متحدہ ہندوستان میں جس آزاد روی کے ساتھ شراب نوشی یا شراب پلانے والے ساقی یا مے خانے کے مالک کو عزت و حرمت کے ساتھ پیر یا ’’پیر مغان‘‘ کہہ جاتے تھے۔
آج اگر وہ اپنے جیسے تیسے خواب کی تعبیر والی زمین میں اس نوع کی لفاظی و بے باکی دکھاتے تو شاید بلا سفیمی یا عریانی میں دھر لئے جاتے۔ آج کے پاکستان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یوتھ کی انجمن میں اقبال کی جگہ اگر کوئی ناہنجار یا غیر ذمہ دار شخص خود کو خطرناک کہتے ہوئے چھیڑ خانی کرے اور ساقی کی بجائے میڈیا کا صافی یا صحافی پیر مغاں یعنی تگڑے بندے کو اس کی روداد سنا دے تو وہ بھی شاید جواباً یہی الفاظ کہے گا کہ ’’منہ پھٹ ہے خوار ہو گا‘‘ اور ساتھ یہ بھی بولے گا کہ پتر نکےکئی باتیں انجمن، محفل یا پبلک میں کہنے والی نہیں ہوتیں۔ اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے ۔
مگر یہ بات ہمارے اس ’’مرد فرنگی ‘‘ کرکٹر یا اناڑی کو کون سمجھائے کہ کئی باتیں جلسوں کیلئے نہیں ہوتیں۔ خود اقبال کو یہ کہنا پڑا تھا کہ بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی، بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں۔ مگر یہاں کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار ہے نہ سزا قبول کرنے کو ۔ اپنے قریبی فرینڈ کی عدالت سمجھا بجھا رہی ہے کہ تم نے محترمہ زیبا بی بی کا اتنی بڑی بزم میں یوں بے توقیری سے نام لے کر جو دھمکیاں دی ہیں یا یونیفام میں کھڑا جو پولیس اہل کار ہے وہ ریاست کا نمائندہ یا ریاست ہے، اسے جو دھمکیاں دی ہیں کہ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ اس پر معافی مانگتے ہوئے سزا قبول کرو کیونکہ کوئی کتنا بھی لاڈلا ہو قانون سے بالا نہیں ہوتا۔
یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایسا وتیرہ دہشت گردی کیسے بنتا ہے؟ ہماری جہالت کا المیہ ہے کہ یہاں بظاہر ایجوکیٹڈ لوگ بھی دہشت گردی یا ٹیررازم کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ بارودی جیکٹ پہن کر لوگوں کے بیچ بم پھوڑا جائے۔ درویش ’’جہاد یا دہشت گردی ‘‘ پر ایک پوری کتاب کے مصنف کی حیثیت سے عرض گزار ہے کہ ’’ٹیرر‘‘ یا’’دہشت‘‘ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے کسی کو خوفزدہ کیا جائے۔ پبلک کے جتھے میں کسی کو ڈرانے کیلئے واضح الفاظ میں یا اشاروں کنایوں میں دھمکی آمیز رویہ دہشت گردی ہی ہے چاہے یہ رویہ اپنے نور عالم جیسے منحرف اراکین اسمبلی سے روا رکھا جائے یا سرکاری اہلکاروں سے ۔ اب تو بات اس سے بھی کہیں آگے نکل چکی ہے۔ نجات دہندہ کی طرف سے فیصل آباد میں جو کچھ کہا گیا تھا اس میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ پشاور میں نکال دی گئی ہے ۔ ایک وقت میں جو شخص پوری ڈھٹائی سے کہتا تھا کہ فوج ٹوٹلی پی ٹی آئی مینی فیسٹو (پارٹی منشور) کے ساتھ کھڑی ہے اور ابھی پچھلے مہینے 15اگست کو کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی نان ایشو ہے اور میرا کسی خاص بندے کیلئے کوئی میلان نہیں تھا۔ اب نفس امارہ کی بات سامنے آ رہی ہے کہ اصل رونا ہی اس ایشو کا ہے۔ اس شخص کو آئین و جمہوریت سے کوئی سروکار ہے اور نہ عوام اور اس کے اقتدار اعلیٰ سے کوئی غرض و غایت۔ وہ ماقبل جن بیساکھیوں کے ذریعے آیا تھا آج بھی اس کی سوئی وہیں ٹکٹکی لگائے، پھنسی ہے۔
ہمارے اہل دانش و صحافت کو باریک بینی سے وہ نفسیاتی وجوہ سمجھنی چاہیئں جو اس لاوے کے پھوٹنے یا زہر اگلنےکا باعث ہیں ۔ ’’نواز شریف اور زرداری اپنی کرپشن چھپانے کیلئے کسی ایسے جنرل کو آرمی چیف نہیں آنے دینا چاہتے جو تکڑا اور محب وطن ہو کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ وہ ان سے حساب مانگے گا‘‘۔ یعنی وہ ایسا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں جو بزدار جیسا لاغر اور خدانخواستہ غیر محب وطن ہو۔ فوری سنجیدہ سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے ٹاپ تھری سٹار جنرلز میں کیا واقعی کوئی ایسے کمزور اور غیر محب وطن جنرلز بھی ہیں ؟ حساس ادارے کی طرف سے اس پرغم ہو یا نہ ہو، غصہ تو لازماً آنا ہی تھا۔ آئی ایس پی آر کا فوری ردعمل آیا کہ نازک وقت میں فوج کی سینئر قیادت کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہتک آمیز ، غیر ضروری اور افسوسناک ہے ۔ حتیٰ کہ ان کے اپنے خوگر حم دوثنا صدر کو بھی یوں بے تکا منہ کھولنے پر لب کشائی کرنی پڑ گئی اور کہا کہ آرمی چیف سمیت پوری فوج محب وطن ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین خود وضاحت کرے کہ اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے اس کا مقصد کیا تھا۔ میں تو پس پردہ مفاہمت کیلئے کام کر رہا تھا ۔
اب پشاور کے جلسے میں بجائے جلتی پر پانی ڈالنے کے مزید مہنگا پٹرول چھڑکا گیا ہے اور بلی ننگی ہو کر تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ ’’ہم نواز شریف ، زرداری اور چوروں کے ٹولے کو کسی صورت آرمی چیف کی تقرری نہیں کرنے دیں گے ۔ کیا یہ لوگ آرمی چیف کی تقرری کرسکتے ہیں ؟ کیا ہم اتنا اہم عہدہ ان چوروں کے ہاتھوں میں دے دیں گے؟ ہرگز نہیں‘‘۔ اتنا مغرور اور اتنا گھمنڈی شخص اور اتنی گری ہوئی زبان الامان بھرم کھل جائے ہے ظالم ترے قامت کی درازی کا اگر اس طرہ پر پیچ وخم کا پیچ وخم نکلے نظر فوراً انصاف کے ایوانوں کی طرف اٹھتی ہے۔ اس سوال کے ساتھ کہ شتر بے مہار کو مہار پوری ٹھکائی کے ساتھ ڈالی جا سکتی ہے لیکن اے کاش چرچل کے انگلینڈ والا اعتماد ہو ۔ جن معزز قومی سیاست دانوں کیلئے کرکٹر اٹھتے بیٹھتے گھناؤنے الزامات عائد کرتا ہے اس کا پورا بیانیہ جھوٹ کا پلندہ کیسے نہیں ہے؟ کون سی کرپشن کہاں ثابت ہوئی ہے ؟ خود ہی الزام لگاؤ، خود ہی اسے پھیلاؤ اور جب چاہو پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کا الزام دھوکر اسے بھی اپنے جیسا صادق و امین بنا لو۔
کوئی ہے جو ساری زندگی لہو ولعب میں گزارنے والے سے پوچھے کہ تم کس حیثیت سے کہہ رہے ہو کہ تم اس پارلیمینٹ کے منتخب کردہ وزیر اعظم کو جس نے تمہیں بھی چنا تھا، اپنا آئینی اختیار استعمال نہیں کرنے دو گے؟ کیا آئین وزیر اعظم کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ٹاپ کے جنرلز میں سے جسے مناسب سمجھے اسے آرمی چیف کی حیثیت سے تعینات کرے؟ کیا تمہیں آئین کی اہمیت کا ادراک ہے؟ کیا وزیر اعظم نے کسی حوالدار کی تعیناتی کرنی ہے جس پر تم سیخ پا ہو رہے ہو ؟ تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ جنرلز یا کسی بھی پاکستانی کیلئے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرو؟ جسے تم پسند کرو وہ محب وطن اور جسے تم ناپسند کرو وہ غدار ، جانور اور میر جعفر و صادق ۔ کیا تم کارزار سیاست کی طرح افواج پاکستان کو بھی دو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی خواہش و حسرت رکھتے ہو ؟ کیا تم اس نفرت و حقارت کے ساتھ ملک و قوم کو ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہو؟