عمران خان ایسا نہ کرتے تو اچھا ہوتا
- تحریر مزمل سہروردی
- بدھ 07 / ستمبر / 2022
پاک فوج کے سربراہ کی تعیناتی پر عمران خان کے ایک متنازعہ بیان کی ویسے تو ہر طرف سے مذمت ہی ہو رہی ہے۔ عمران خان کے ساتھی بھی اس بیان کا دفاع کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔
صدر عارف علوی نے بھی خود کو اس بیان سے فاصلے پر کیا ہے اور اس سے عملاً پر اعلان لاتعلقی کی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بیان پر رائے دینے سے مکمل احتراز کیا ۔ بار بار سوال کے باوجود انہوں نے کہا کہ میں نے تو ایسا کوئی بیان سنا ہی نہیں۔ میں پہلے سنوں گا، سیاق سباق سمجھوں گا، پھر رائے دوں گا۔ یہ ممکن نہیں ہے، جس بیان پر پورے ملک میں بات ہو رہی ہو، اس کا شاہ محمود قریشی کو علم ہی نہ ہو۔ انہوں نے سنا ہی نہ ہو۔ سادہ بات ہے کہ وہ اس پر بات کرنے سے اجتناب کر رہے تھے۔
فواد چوہدری نے بھی اس کی وضاحت اور مختلف توجیہات پیش کر نے کی کوشش کی۔ لیکن ان کی وضاحت اور توجیح بیان سے مماثلت نہیں رکھ رہی۔ وہ معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ باقی ساری تحریک انصاف خاموش نظر آرہی ہے۔ تحریک انصاف میں عمران خان کے ایسے بیانات پر ایک غصہ بھی ہے۔ میری تحریک انصاف کے بہت سے رہنماؤں سے بات ہوئی ہے۔ ان سب کی رائے میں عمران خان صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ پوری جماعت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں ۔ اس لیے عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ اس قسم کے بیانات پر ان کی جماعت کے لوگ بھی پریشان ہیں۔ عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ وہ آہستہ آہستہ پاکستان کی سیاست میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین بنتے جا رہے ہیں۔ وہ بھی ایسے بیانات جاری کرنا شروع ہو گئے تھے جن کا ان کی جماعت کے لیے دفاع کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔
شروع شروع میں تو بیچاری پارٹی مشکل سے دفاع کرتی تھی۔ پھر وضاحتیں جاری کی جانے لگیں۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ ریڈ لائنز کراس کرتے کرتے وہاں پہنچ گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔ اس لیے عمران خان کوعوامی جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے سیاسی حدود کا پورا ادراک ہونا چاہیے۔ انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ سیاست کہاں ختم ہوجاتی ہے؟ آپ دیکھیں ان کی تقاریر پر پابندی کو عوامی طور پر جائز مان لیا گیا کیونکہ ایک رائے بن گئی کہ وہ تقاریر کرتے ہوئے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ آج عدلیہ کے لیے بھی عمران خان کی ایسی تقاریر کے بعد ان کو ریلیف دینا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جنہوں نے پہلے ریلیف دیا تھا، ان کے لیے بھی ایسے بیان کے بعد مشکل ہو گیا۔
عمران خان نے پہلی دفعہ ریڈ لائن کراس نہیں کی۔ انہوں نے بار بار ریڈ لائن کراس کی ہے۔ ہر دفعہ انہیں رعایت دی گئی ہے۔ اسی لیے ان کے بارے میں لاڈلے کا تاثر مضبوط ہوا ہے۔ عدلیہ نے ان کے بیانات کی سماعت کے دوران بار بار انہیں احساس دلایا ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں لہٰذا بات کرتے ہوئے انہیں ذمے داری کا احساس کرنا چاہیے۔ لیکن عدلیہ سے ریلیف لینے کے بعد عمران خان نے پھر وہی حرکت کر دی۔ جس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین نے رائے دی کہ کہ عدلیہ سے ریلیف ملتا ہے لیکن ریلیف کا پھر غلط استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے کوئی حد ہونی چاہیے۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ عمران خان نے تا دم تحریر اپنے اس بیان کی خود کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ انہوں نے اپنے الفاظ واپس نہیں لیے ہیں۔ انہوں نے اپنی زبان سے کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ بیان جلسے میں عمران خان خود دیں اور وضاحت کے لیے اسد عمر اور فواد چوہدری کو استعمال کریں۔ جب بیان وہ خود دیتے ہیں تو اس بیان کی وضاحت بھی انہیں خود ہی کرنا ہوگی۔ ایک طرح سے وہ اپنے بیانا ت پر قائم بھی ہیں اور ریلیف لینے کے لیے دوسروں سے وضاحت بھی کروادیتے ہیں۔
ویسے اس بار تو فواد چوہدری کی وضاحت بیان سے زیادہ خطرناک سامنے آئی ہے۔ انہوں نے معاملے کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ اس لیے اگر عمران خان اپنی جماعت میں لوگوں سے رائے لیں تو ان کی جماعت کی اکثریت ان کے ایسے بیانات کے خلاف ہوگی اور انہیں بیانات واپس لینے کا مشورہ دے گی۔ لیکن دوسری جماعتوں پر تنقید کرنے والے عمران خان کی جماعت میں بھی جمہوریت نہیں ہے۔ ان کی جماعت میں ان کا احتساب کرنے کا بھی کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ انھوں نے بھی ہر اختلافی آواز کو غدار کہہ کر پارٹی سے نکالا ہی ہے۔
ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ مقبولیت اور سیاسی طاقت کی بنیاد پر ریاست کو چیلنج کرنے کے نتائج اچھے نہیں آئے ہیں۔ اس بات کے بھی نتائج اچھے نہیں آئیں گے۔ ریاست اور پاکستان اتنی کمزور نہیں کہ ایسے سرنگوں ہو جائے۔ اس لیے عمران خان کو سنبھلنا ہوگا۔ ورنہ نقصان زیادہ ہو جائے گا۔ جو اب سامنے نظر بھی آرہا ہے۔