قوم فکری و عملی طور پر تقسیم ہو چکی؟
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعرات 08 / ستمبر / 2022
یہ بات بڑی حد تک واضح ہوتی چلی جا رہی ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک سیاستدان، سرکاری افسر، بیورو کریسی، عدلیہ، انتظامیہ، صحافت، سماج اور اس سے جڑے تمام چھوٹے بڑے ادارے فکری اور عملی طور پر تقسیم ہو چکے ہیں۔
طرفین اپنے اپنے انداز میں مصروف عمل ہیں۔ ایک طرف پاکستان کی معیشت کو بچانے، سنبھالنے اور پٹڑی پر چڑھانے کی کاوش ہو رہی ہے، دامے، درمے اور سخنے کام کیا جا رہا ہے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ سفارتی سطح پر ٹوٹے رابطے بحال کرنے کی کاوش جاری ہے ،پاکستان کی خاطر اقوام عالم سے مدد مانگی جا رہی ہے۔ دوسری طرف سیاست بچانے اور چمکانے کی کاوشیں ہو رہی ہیں، جلسے کئے جا رہے ہیں مخالفین کو گالیاں دی جا رہی ہیں حکومت کو ناکام بنانے کا جنون اس حد تک طاری ہے کہ مملکت کی ہر شے ان کے حملوں کی زد میں آ چکی ہے۔ نفرت اور انکار کی سیاست پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ 3 کروڑ 30 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں اس گروہ کو ان سے رتی بھر ہمدردی نہیں ہے۔ وہ اپنے عزائم کی راہ میں آنے والی ہر شے کو تباہ و برباد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔
اس گروہ کا سربراہ ارض پاک پر دندناتا پھر رہا ہے۔ ہر طرح کی آئینی اور قانونی نافرمانیاں کر رہا ہے، اداروں کو جب چاہتا ہے للکارتا ہے، پکارتا ہے حسبِ ضرورت انہیں بُرا بھلا بھی کہتا ہے۔ سول نافرمانی پر اکساتا بھی ہے اسلام آباد بند کرنے اور انارکی پھیلانے کی دھمکی بھی دیتا ہے لیکن اسے کچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔ حکمران اور ذمہ داران نجانے بھنگ پئے ہوئے ہیں۔ وہ خود کہتا ہے کہ میں بہت خطرناک ہو گیا ہوں۔ وہ سچ کہہ رہا ہے وہ اپنے عزائم کی تکمیل میں یکسو ہے۔ اسے کسی آئینی اور انتظامی رکاوٹ کی پرواہ نہیں ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدالت میں توہین عدالت کے ملزم سابق وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ،وہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ عمران خان ایک عرصے سے نفرت اور انکار کی سیاست پروان چڑھانے میں مصروف ہیں ۔اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دھتکارنے اور دھمکانے کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں ۔اس لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں انہوں نے اپنے عمل سے عدلیہ کی جس طرح توہین کی وہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔ توہین عدالت کے مقدمات میں ملزم اپنے وکیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے یہاں عمران خان اسد عمر، وغیرہ کے ساتھ نہ صرف کرسیوں پر بیٹھے رہے بلکہ گپ شپ لگاتے ہوئے پائے گئے۔ عدالت نے انہیں کٹہرے میں کھڑا ہونے کے لئے نہیں کہا جس سے اس تاثر کو تقویت ملی ملزم کے لئے نہ صرف نرم گوشہ ہے بلکہ اس کی مشہوری و مقبولیت سے متاثر بھی ہیں۔ ملزم کے ساتھ ’محب‘ جیسا سلوک کیا ،عدلیہ کی توہین کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا سول سوسائٹی کو اس کے لئے آواز نہیں اٹھانی چاہئے؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا اور حکومت کا موقف سنے بغیر ہی عمران خان کی لائیو تقریر پر پابندی کو وقتی طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے تاکہ وہ ٹیلی تھون اور دیگر سرگرمیوں میں شمولیت کے ذریعے سیلاب زدگان کی امداد کر سکیں۔ عمران خان نے سیلاب زدگان کی امداد تو کیا کرنی ہے وہ جلسے ضرور کر رہے ہیں اور ان کی لائیو کوریج بھی خوب ہو رہی ہے۔ اپنے جلسوں میں وہ بلا روک ٹوک مخالفین پر حسب سابق دشنام اور نفرت انگیزی کا پرچار کر رہے ہیں۔ ان کی کوریج بھی جاری ہے حکومت کو ناکام بنانے کے لئے ان کی کاوشیں تزک و احتشام کے ساتھ جاری ہیں ان کی ایسی کاوشوں کو ٹی وی سکرین پر دکھائے جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔
توہین عدالت کیس میں ان کے تحریری جواب کو عدالت نے قبول نہیں کیا بلکہ انہیں سات دن مزید دے دیے ہیں کہ وہ دوبارہ تحریری جواب داخل کرائیں اور وہ ایسا جواب ہونا چاہئے جو عدالت کو قبول ہو ۔اس حوالے سے انہیں رہنمائی اور ہدایات بھی دی جا چکی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ عمران خان کے وکیل نے عدالت سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی تھی ،عدالت نے خود ہی ازراہ ہمدردی 7 دن کی مہلت دی ہے۔ اے آر وائی نیوز پر عائد حکومتی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اظہار خیال پر پابندی بلا شبہ آئین میں درج انسانی حقوق کے منافی ہے لیکن اظہار خیال شتر بے مہار تو نہیں ہو سکتا ۔آئین میں اس بارے میں بھی کچھ فرائض درج ہیں۔ اے آر وائی پر پیمرا پابندی بارے موقف اپنایا گیا کہ قصور اے آر وائی کا ہے جس نے تقریر چلائی جبکہ عمران خان بے قصور ہے۔ پابندی اٹھاتے ہوئے کہا گیا ، اگر نیازی غلط تقریر کرے تو اس میں اے آر وائی کا کیا قصور ہے؟
عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکالنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے کیس کو ختم کرنے کے لئے درخواست سماعت کے لئے منظور ہو گئی ہے۔ بیان کردہ پانچ فیصلے تین دنوں میں سامنے آئے ہیں۔ اگر 10 اپریل 2022عمران خان حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے عدالت کا عمران خان اور تحریک انصاف کو ریلیف بہم پہنچانے کے احوال واقعی کا مطالعہ کریں تو ممکنہ حد تک تحریک انصاف کو ہر کیس میں ریلیف دیا گیاہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
جہاں تک توہین عدالت کا تعلق ہے کیس یا جرم بڑا سادہ ہے یہ بات عدالت نے ہی طے کرنا ہوتی ہے کہ توہین ہوئی ہے یا نہیں۔ نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عدالت نے بادی النظر میں اپنی توہین محسوس کی ہے اس لئے نوٹس جاری کیا گیا ہے کیس کا فیصلہ فوری ہوتا ہے ملزم اگر غیر مشروط معافی مانگ لے تو عدالت اسے قبول کر کے معافی بھی دے دیتی ہے۔ لیکن عمران ہاشمی و طلال احمد اور دانیال عزیز کے کیسز میں عدالت نے معافی تسلیم نہیں کی اور انہیں سزا ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ پانچ پانچ سال کے لئے نا اہل قرار پائے۔ یہ سب حضرات مسلم لیگ (ن) سے متعلق تھے ۔ اب معاملہ ایک لاڈلے کا ہے جو گزرے 25 سالوں سے اداروں کا لاڈلہ رہا ہے۔
ادارے اس کے لاڈ لڈاتے رہے ہیں۔ 10 اپریل کی رات جب اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو عمران خان نے جس انداز میں ری ایکٹ کیا اس سے تاثر پیدا ہوا کہ شاید اب لاڈ ختم ہوا چاہتا ہے ۔ یہیں کہا گیا کہ اب انہیں 2/3 اکثریت دلا کر اقتدار میں لانے کی کاوش ہے۔ ملی جلی باتیں سننے میں آئیں لیکن اپریل کے بعد پیش آئند حالات و واقعات اسی سمت میں اشارہ کر رہے ہیں۔ (ن) لیگی اتحادی عمران خان پر مختلف مقدمے قائم کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس اب عمران خان نااہل ہوا چاہتا ہے۔ فارن فنڈنگ کیس ہو یا توشہ خانہ کیس یہ ایسے کیسز ہیں جن سے عمران خان کا بچ نکلنا کسی طور بھی ممکن نظر نہیں آتا لیکن حقیقت ابھی تک اس کے برعکس ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے ایسی صورتحال سے متعلق بہت خوبصورت بیان دیا ہے کہ ’مسلم لیگ نے عمران خان پر مقدمات کے حوالے سے امیدیں لگا رکھی ہیں جبکہ تاریخی اعتبار سے ریکارڈ بنتا ہے کہ عمران خان کو کچھ نہیں ہونے والا۔ میں بذات خود بھی اس نقطہ نظر کا حامی ہوں کہ ابھی تک عمران خان جس طرح دندناتے پھر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انہیں کچھ بھی ہونے والا نہیں ہے۔ ان پر سایہ فگن دشت شفقت کسی بھی آئینی اور قانونی پابندیوں سے زیادہ بھاری اور متبرک ہے۔ باقی رہا پاکستان تو اس کا اللہ ہی حافظ ہے‘۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)