ملکہ الزبتھ کی وفات پر برطانیہ میں سوگ
ملکہ البزبتھ کی وفات پر برطانیہ بھر میں سوگ کا عالم ہے جہاں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سر نگوں کر دیا گیا ہے۔
ہزاروں افراد عقیدت کا اظہار کرنے بکنگھم پیلس پہنچے جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں پھول رکھے اور ملکہ کی رہائش گاہ کی تصاویر لیتے رہے۔ ملکہ کی وفات کی خبرشاہی محل کے مرکزی دروازے پر چسپاں کی گئی ہے جب کہ حکومت نے ملکہ برطانیہ کی وفات پر 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایک بیان میں شاہ چارلس سوئم نے کہا ہے کہ "میری والدہ کی موت میرے اور تمام اہلخانہ کے لیے انتہائی شدید اداسی کا لمحہ ہے۔ ہم ایک محبوب حکمران اور بہت زیادہ پیار کرنے والی ماں کی وفات کا غم منا رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ان کی موت کا نقصان پورے ملک اور دولتِ مشترکہ کے علاوہ دنیا میں لاتعداد لوگ محسوس کررہے ہوں گے‘۔
شاہ چارلس کا کہنا ہے کہ غم اور تبدیلی کے اس دور میں ان کے لیے اور ان کے خاندان کے لیے یہ بات باعثِ سکون ہے کہ ملکہ کو کس احترام اور پیار سے یاد کیا جا رہا ہے۔ طویل ترین عرصے تک تخت نشین رہنے والی برطانوی فرماں رواں ملکہ الزبتھ دوم جمعرات کو 96 سال کی عمر میں بیل مورل میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ شاہی خاندان میں ایک ڈرامائی تبدیلی کے بعد 1953 میں تخت نشین ہوئی تھیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اوّل جل بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ الزبتھ ایک ملکہ سے زیادہ تھیں۔ اور یہ کہ وہ خود ایک عہد تھیں۔ انہوں نے ہمارے تعلقات اسپیشل بنانے میں مدد کی۔ سابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اپنے ملک سے وفاداری کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میلینا اور میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے
سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوباما نے ایک بیان میں انہیں خراج عقیدت پیش کرے ہوئے کہا کہ جب صدر اور خاتون اوّل کی حیثیت سے ہم نے زندگی کا آغاز کیا تو انہوں نے ورلڈ اسٹیج پر ہمارا خیر مقدم کیا۔ سابق صدور بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور جمی کارٹر نے بھی اپنے بیانات میں تعزیت کی۔
برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس نے کہا کہ ان کی موت پر ملک پریشان ہے۔ انہوں نے ملکہ کو ایسی چٹان قرار دیا جس پر جدید برطانیہ تعمیر ہوا۔
فرانس کے صدرایمونیول میکرون نے ٹویٹ کیا ستر برس تک وہ برطانیہ کے اتحاد اور تسلسل کی علامت رہیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ اور اٹلی کے وزیر اعظم نے بھی انکی موت پر تعزیت کی ہے۔
پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر شاہی خاندان سے تعزیت کی ہے۔