لاڑکانہ سیہون بند میں کٹ لگادیے گئے، سیلاب سے مزید 36 افراد جاں بحق

  • جمعہ 09 / ستمبر / 2022

منچھر جھیل اور مین نارا ویلی ڈرین میں لگائے گئے کٹ سے آنے والے سیلابی پانی کو دادو شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے لاڑکانہ سیہون بند میں 2 کٹس لگادیے گئے ہیں۔ 24 گھنٹے میں موسمیاتی تباہی سے جاں بحق ہونے افراد کی تعداد بڑھتے ہوئے 36 تک جا پہنچی ہے۔

سیہون میں کرم پور شہر کے قریب آر ڈی99 اور آری100میں 2 کٹس لگائے گئے۔ توقع ہے ان کٹس سے منچھر جھیل میں لگائے کٹ سے آنے والے پانی کا دباؤ کم ہوجائے گا۔ حکام کے مطابق، ان کٹس سے آنے والا پانی دادو شہر، بھان سید آباد اور سیہون تعلقہ کو خطرہ بنا رہا تھا جو کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا حلقہ انتخاب ہے۔

سندھ کے اسپیشل سیکریٹری جمال منگن نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ منچھر جھیل کے ڈینیسٹر واہ (چینل) سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کٹ لگایا گیا ہے۔ یہ اقدام دریائے سندھ میں پانی کے اندراج کو تیز کرنے کے لیے دستیاب واحد آپشن تھا۔ دریا سندھ کے کوٹری بیراج میں پانی کی سطح میں کچھ کمی کو نوٹ کرنے کے بعد اس اقدام کی منظوری دی گئی۔

ایل ایس بند میں کٹ لگانے سے پانی کے بہاؤ سے شہروں میں پانی کے دباؤ میں قابل ذکر کمی آئے گی۔ محکمہ آبپاشی نے بند میں ایک اور کٹ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جوسیہون کے علاقے تتی کی جانب لگایا جائے گا۔

حالیہ دنوں میں، منچھر جھیل کے حفاظتی بند میں 2 کٹس لگائے گئے تاکہ سیلابی پانی کے بہاؤ کو کم آبادی والے علاقوں کی جانب موڑ جائے اور گنجان آباد شہروں سیہون اور بھان سید آباد کو سیلاب سے محفوظ رکھا جائے۔

جامشورو کے ڈپٹی کمشنر فرید الدین مصطفیٰ کے مطابق، منچھر جھیل سے آنے والے پانی کے باعث سیہون کی 7 یونین کونسلز اور اس کا ٹول پلازہ زیرِ آب آگیا تھا جس کی وجہ سے انڈس ہائی وے کے مرکزی حصے اور شاہراہ کے ساتھ واقع باقی اضلاع سے تعلقہ کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے بدھ اور جمعرات کے روز تلتی، بھان سید آباد، ملوک شاہ اور دیگر علاقوں سے لوگوں کا بڑے پیمانے پر انخلا کیا گیا۔

دادو سے تعلق رکھنے والے ایم این اے رفیق احمد جمالی نے بتایا کہ دادو کے میہڑ اور جوہی شہروں میں سیلابی پانی کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے رنگ بند بنائے گئے ہیں۔ دوسری جانب، سکھر بیراج میں پانی کے بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جمعے کے روز بھی جاری رہا پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 99 ہزار 20 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 36 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ حکام کے اندازے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی تباہی میں سوا تین کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں، قدرتی آفت کے دوران لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے جب کہ ملک کو کم از کم 100 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں کے کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

امریکی سفارتخانے نے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ امریکا سینٹرل کمانڈ نے امریکی ایجنسی برائے عالمی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ساتھ پاکستان میں سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے لوگوں اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے امدادی سامان ہوائی جہاز کے ذریعے لے جانا شروع کیا ہے۔

امداد میں تقریباً 22 کروڑ ڈالر مالیت کے لائف سپورٹ وسائل شامل ہیں جن میں کھانا بنانے اور پناہ گاہیں بنانے کا سامان بھی شامل ہے جو ملک بھر میں تقریباً 20 مختلف شپمنٹس کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔ امریکا نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والی تباہی پر شدید غم کا اظہار کیا ہے۔