حضور پہلے تولو پھر بولو

ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں جو بھی قومی، سیاسی یا مذہبی قیادت پر فائز ہوتا ہے وہ خود کو اچھوتا، انوکھا، ماورائی مخلوق یا نجات دہندہ سمجھنے لگتا ہے۔ خودنمائی و خودستائی کے مرض میں مبتلا ہو کر خود کو ایسی بڑی توپ خیال کرتا ہے جیسے وہ کوئی اوتار یا قابل پرستش ہستی ہے۔

جیسے آقا کے دور میں آدمی کہیں اور ہوتا تھا اور گھر والے راہ حق قبول کر لیتے تھے، اسی طرح کا میرا بھی معاملہ ہے۔ والد پی پی یا ن لیگ میں ہوتا ہے لیکن جب وہ گھر آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ بچےسارے پی ٹی آئی میں ہیں۔ جیسے فلاں مقدس دور میں ایسے ہوتا تھا۔ اب میں بھی ویسے ہی وہی دعوت لے کر اٹھا ہوں۔ اس سلسلے میں مثالیں پیش کرتے ہوئے کہنے کو بہت کچھ ہے مگر اخباری پالیسی کو بھی سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ قوم بھوک، افلاس، بے روزگاری اور سیلاب میں ڈبکیاں کھا رہی ہے اور انہیں اپنی عظمت کی دھاک بٹانے کیلئے جلسوں کی شوق چڑھی ہے۔ یو این کے سیکرٹری جنرل پاکستان آئے ہیں، پوری دنیا یوں پتلی حالت میں ہمیں ڈبکیاں کھاتے دیکھ رہی ہے۔ مدد کیلئے دست تعاون بڑھا رہی ہے اور ہمارے انوکھے سونامی کو محفل موسیقی برپا کرتے ہوئے لمبی لمبی تقاریر کا جنون چڑھا ہے کہ میں بڑا طاقتور ہوں۔

ان تقاریر کا میٹریل کیا ہوتا ہے؟ یو این جنرل اسمبلی سے لے کر چشتیاں تک لوگو سن لو میں میں ہوں میں بہت بڑی چیز ہوں، مشرق و مغرب کو کوئی مجھ سے زیادہ نہیں جانتا۔ کوئی سنجیدہ انسان پوچھے اے اپنے منہ میاں مٹھو، اے تیس مار خاں آپ کی ساری زندگی کرکٹ یا کھیل تماشے میں گزری ہے۔ کوئی ایک علمی کتاب بتاؤ لکھنا تو دور کی بات، سنجیدگی سے ایک مرتبہ پڑھی بھی ہو ؟ مغرب آج جس مقام پر پہنچا ہے یہ صدیوں کا ارتقائی و علمی سائنٹیفک سفر ہے جو ان کے عظیم فلاسفرز، دانائوں اور مدبروں کی تحقیقی عرق ریزی اور تلخ سیاسی، مذہبی یا سماجی تجربات کا ثمر ہے ۔ آپ اپنی قوم میں موجود ایک مخصوص جنونی ذہنیت کے حامل سیکشن کو بھڑکانے یا اپنے تئیں اپنا ووٹ بنک بڑھانے کیلئے ایسی سستی گفتگو شروع کر دیتے ہیں کہ آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں ہے، آزادی اظہار کا وہ مطلب نہیں ہے یہ اسلامو فوبیا ہے وہ یہود فوبیا ہے۔ کیا آپ نے اپنے مخاطبین کو عقل و شعور سے پیدل یوتھیے یا بھیڑ بکریاں سمجھ رکھا ہے ؟ کیا ساری دنیا شعور منطق اور لاجک سے خالی ہے؟

اسی طرح اندرون ملک کیا تم بائیس کروڑ عوام کو جانور سمجھتے ہو؟ جو چاہو ہانکتے جاؤ اور وہ تمہارامطلب و مفاد سمجھے بغیر تالیاں پیٹتے جائیں ؟ میری حکومت بڑی زبردست جا رہی تھی، معیشت اوج ثریا تک پہنچی ہوئی تھی اچانک غداروں نے مجھے ہٹا کر چوروں کو مسلط کر دیا۔ میں سراج الدولہ ہوں اور یہ سب میر جعفر و صادق ہیں۔ میں ان کو نیا آرمی چیف نہیں لگانے دوں گا کیونکہ وہ بہت بڑا عہدہ ہوتا ہے، وہ ان کی کرپشن پکڑتا ہے ۔ کیا اس ملک میں کوئی عدالت کوئی قانون نہیں ہے جو شتر بے مہاروں کو مہار ڈالے ؟ کوئی اسے بتانے والا نہیں ہے کہ اس ملک کا ایک آئین بھی ہے جس میں نہ صرف سسٹم، اداروں یا اعلیٰ عہدیداران کی ذمہ داریوں کا تعین ہے۔ کوئی آرمی چیف ہو یا وزیر اعظم سب آئین اور آئینی رول کے پابند ہیں۔ ان دونوں میں تو ہرگز کوئی تقابل ہی نہیں ہے۔ ایک پبلک سرونٹ یعنی عوام کا ملازم ہے دوسرا عوام کا نمائندہ اور بائیس کروڑ عوام کی امنگوں کا امین ہے۔ اور عوامی اقتدار اعلیٰ کا بالفعل حامل و نقیب منصب یا عہدہ ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں پیہم آئین شکنیاں کرتے ہوئے ایسا ہائبرڈ نظام لاگو کر دیا گیا جس نے ہمیں پوری دنیا میں نکو اور تھرڈ کلاس قوم بنا کے رکھ دیا ہے۔ ایسے سسٹم کی وکالت کرنے سے پہلے ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے اور آپ دبے لفظوں میں اس کی حمدوثنا کئے جا رہے ہو۔ کیا ہمارا آئین کسی آرمی چیف یا اس کے محکمے کی سیاست میں مداخلت کو روا رکھتا ہے ؟ تو پھر آپ نیوٹرل کو جانور کس بنیاد پر کہہ رہے ہو؟ نواز شریف کو تو تین مرتبہ آئین پر شب خون مارتے ہوئے ہٹایا گیا۔ اس کا تڑپنا تو بنتا تھا، تمہارے ساتھ کون سی بے انصافی یا غیر آئینی حرکت ہوئی ہے؟ کس قدر باعث شرم بات ہے کہ پاکستان کی پون صدی پر محیط تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کی عین مطابقت میں ہماری نیشنل اسمبلی نے عدم اعتماد کرتے ہوئے ایک جنونی شخص کو اس کے گھر بھیجا بجائے۔ شرمندگی کے بجائے وہ طعنہ زنی پر مصر ہے، کیوں؟

کس کس کے متعلق آپ نے گندی زبان استعمال نہیں کی ہے۔ نواز شریف عصر حاضر کا مظلوم ترین انسان ہے جس کی عوام میں تمہاری طرح سطحی نہیں جینوئن جڑیں ہیں۔ کچھ اصول ہیں کچھ آدرش ہیں۔ لیکن کون سا گھناؤنا اور گھٹیا الزام ہے جو آپ نے ذہنی کیچڑ بنا کر اس پر نہیں پھینکا۔ دیگر تمام سیاسی مخالفین کو کیسے کیسے برے ناموں اور القابات سے مخاطب نہیں کیا؟ اہل صحافت و دانش کے ساتھ کون سی بدزبانی ہے جو فخریہ اختیار نہیں کی ؟ اب عدالتوں اور معزز ججز پر چڑھائی کئے ہوئے ہو۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس کے قابل احترام چیف کے متعلق جو زبان بولتے ہیں وہ کالم ہذا میں تحریر کئے جانے کے قابل نہیں ہے ۔

آئینی طور پر آرمی چیف کی تعیناتی کا پروسیجر طے شدہ ہے اور یہ وزیر اعظم کا حق ہے آپ کس حیثیت سے اس حق کو چیلنج کر رہے ہو ؟ یہ اپنی چوری چھپانے کیلئے کسی لاغر یا غیر محب وطن کو لائیں گے، آپ کو ڈر ہے کہ وہ ان کی بجائے آپ کا شکنجا کسے گا؟ سابقہ تجربہ کیا ہے ؟ ہمارے موجودہ آرمی چیف کو کون لے کر آیا تھا ؟ اس نے تو سارے لاڈ آپ کے دیکھے یہاں تک کہ ملک آپ کی نالائقی سے کھائی میں گرنے تک پہنچ گیا، اپنے لانے والے کا شکنجا کستے ہوئے وزارت عظمیٰ طشتری میں رکھ کر آپ کو دی گئی۔ جنرل راحیل اور جنرل مشرف کو کون لایا تھا؟ جن کی تسبیحات آپ شپ وروز پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور خود اندر یا راز کی باتیں سرعام بیان کرنے لگتے ہیں۔ میں نے دھرنے فلاں ایمپائر کے ایما پر دیے، میں نے مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت فلاں غرض یا عہدے کیلئے کی۔ یہ سب انہی کے متعین کردہ تھے لیکن فائدے آپ نے لئے۔ اب اگر وہ جنرل باجوہ کو مزید دو سالوں کیلئےایکسٹینشن دے دیتے ہیں یا موسٹ سینئر جنرل عاصم منیر کو لے آتے ہیں تو آپ کی پریشانی کیا ہے ؟

جنرل باجوہ کیلئے تو خود پارلیمینٹ دوتہائی اکثریت سے عمر کی حد چونسٹھ سال تک بڑھا چکی ہے اور آپ خود ان کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے ماقبل ایکسٹینشن دے چکے ہیں۔ تو پھر اب آپ کی ٹینشن کیا ہے جو یوں بوکھلائے ہوئے ہر کسی کو کاٹ رہے ہیں۔ حوصلہ رکھیں اور بولنے سے پہلے تولا کریں۔