گزشتہ 4 سالوں میں ہراسانی کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ

  • ہفتہ 10 / ستمبر / 2022

پاکستان میں ہراساں کرنے سے متعلق رجسٹرڈ کیسز میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔  ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ سے متعلق وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کے دفتر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 سالوں میں ہراساں کیے جانے کی 5 ہزار 8 شکایات موصول ہوئیں۔

 ایوان صدر میں ایف او ایس پی اے ایچ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں ہراساں کرنے سے متعلق کیسز کی تفصیلات بتائی گئیں، یہ رپورٹ اقوام متحدہ  خواتین کے تعاون سے جاری کی گئی ہے۔ اس موقع پر سفارتی برادری کے ارکان اور صحافی بھی موجود تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2010 اور 2013 کے درمیان 84 کیسز رجسٹر کیے گئے جبکہ سنہ 2013 سے 2018 کے درمیان 398 کیسز رجسٹر ہوئے، سنہ 2018 سے 2022 کے درمیان 5 ہزار 8 کیسز رجسٹر کیے گئے جن میں سے 3 ہزار 698 کیسز خواتین اور ایک ہزار 310 کیسز مردوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کُل 5 ہزار 8 کیسز میں ایک ہزار 689 کیسز سرکاری اداروں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین جبکہ 3 ہزار 319 کیسز نجی اداروں میں کام کرنے والے مرد اور خواتین کی جانب سے وفاقی محتسب کے دفتر میں رپورٹ کیے۔اس کے علاوہ کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے 275 کیسز رپورٹ ہوئے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 4 ہزار 733 کیسز کی انکوائری مکمل کرکے کیسز کو کامیابی سے بند کردیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں خواتین کی 50 فیصد آبادی کو کاروبار، تجارت اور خدمات کے شعبے میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے انہیں معیاری تعلیم، ہنر، صحت، غذا، مالی و معاشی طور پر بااختیار بنانے، وراثتی املاک کے حقوق کے تحفظ اور کام کرنے کی جگہ پر ہراسانی سے پاک ماحول فراہم کر کے راغب کیا جا سکتا ہے۔

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حوالے سے سماجی اور ثقافتی رویوں اور فکری تعصبات کو ختم کرنا ہے، خواتین کو معاشی اور مالیاتی بااختیارات بنانے کے لیے اُن کو روزگار فراہم کرنا اور شہریوں کو اخلاقی اقدار کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر درست کرنے کی ضرورت ہے، جس کے تحت مردوں اور عورتوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔