سیلاب: سیاست نہیں خدمت کو شعار بنائیں
- تحریر سید مجتبی نقوی
- ہفتہ 10 / ستمبر / 2022
اے ابرِ کرم آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں.....کبھی میں نے بھی لعل محمد کی یہ دُھن گنگنائی ہے۔ موجودہ حالات میں میرے ذہن میں بس ایک سوال جنم لے رہا ہے کہ آخر کیسے ایک اَبر اس قدر برس سکتا ہے کہ کوئی اس کی وجہ سے کہیں بھی آنے جانے سے قاصر ہو جائے۔
لیکن میں نے آج اس گیت کے بول اور سیلاب کی حالیہ تباہ کاریاں دیکھی ہیں تو یہ ماننے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ایک ابر واقعتاً غیرمعمولی تباہی مچا سکتا ہے۔ یعنی اب ’’وہ‘‘ کجا کوئی بھی ہو، آسانی کے ساتھ اس مقام پر نہیں جاسکتا جہاں اَبر کے برسنے کے نتیجے میں سیلاب نے خوب تباہی مچائی ہے۔ اس نے ملک بھر اور بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں جو تباہی مچائی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ چشمِ فلک نے 2010 میں آنے والے سیلاب کی تباہی بھی دیکھی تھی، اس بار مگر سیلاب نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ چہار جانب انسانی لاشے پانی میں بہتے نظر آرہے ہیں، اپنوں کے سامنے اپنے ہی سپردِ آب ہو رہے ہیں۔ زندگی بھر کی محنت پانی میں بہہ رہی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟
کچھ لوگ تو اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے اسے اللہ کا عذاب قرار دے ڈالا۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ حکومتی اور انتظامی عدم توجہی کا نتیجہ ہے تو کوئی بیڈ گورننس قرار دے رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ یہ واقعی بدانتظامی ہی ہے کیوںکہ جب محکمۂ موسمیات کی جانب سے کہہ دیا گیا تھا کہ اس بار غیر معمولی بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے جو سیلابی صورت اختیار کر سکتا ہے تو اربابِ اختیار نے اس جانب توجہ کیوں نہ دی؟ وہ کیوں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف رہے؟ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخری مرتبہ جب دریائے سوات نے تباہی مچائی تو اس کے کنارے کیوں غیر قانونی تعمیرات کرنے کی اجازت دی گئی؟ اور سوال تو یہ بھی اٹھے گا کہ ایسا کیوں ہوا کہ بلوچستان اور سندھ کے چھوٹے ڈیم ٹوٹ گئے؟
حالیہ قدرتی آفت حکومتی لاپرواہی واضح کرتی ہے مگر دوسری جانب بے یارو مددگار لوگوں کا المیہ بھی عیاں ہوا ہے جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب تک تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر نہیں آ جاتے، معاملات ایسے ہی رہیں گے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ دوست ممالک نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مدد کی ہے جس پر اہلیانِ وطن ان کے مشکور ہیں۔ مگر ملکی سطح پر بھی چند ہنگامی نوعیت کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہمارے پاس ریسکیو آپریشن کے باب میں مکمل آگاہی ہے اور نہ ہی سامان موجود ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو اس قدر فعال کرے کہ ہمیں بار بار مدد کے لیے فوج کی جانب نہ دیکھنا پڑے جو ہر مشکل وقت میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتی ہے۔
ایک اور باعثِ تشویش پہلو یہ ہے کہ سیلاب نے پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت کی کمر توڑ دی ہے، کیوں کہ نہ صرف انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے بلکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی سپردِ آب ہوگئی ہیں، جس کا ازالہ کرنے میں اگلے کئی برس لگ جائیں گے۔ دوسری جانب مستقبل میں اجناس اور گندم کا بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے۔ ملک بھر میں سبزی کی قیمتیں تو ابھی سے آسمان کو چھو رہی ہیں جس کو دیکھتے ہوئے افغانستان اور ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کیا گیا ہے مگر یہاں ذخیرہ اندوز مافیا سے کون لاعلم ہے۔
علاوہ ازیں، ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام ہے جس کی شدت میں جلد کمی ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ ان حالات میں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ ملک پانی اور قرض میں ڈوب رہا ہے مگر یہاں سیاست کی چاندی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں ضمناً بتاتا چلوں کہ حتمی طور پر آئی ایم ایف سے قرض کی قسط مل گئی ہے جس کی بدولت دیگر مالیاتی ادارے اور دوست ممالک بھی کچھ نہ کچھ فنڈز دے ہی دیں گے۔ ملک کی معیشت کو سہارا تو مل جائے گا مگر یہ مستقل حل نہیں ہے۔ یہ المیہ بھی کچھ کم نہیں کہ وطنِ عزیز میں سیلاب کے نام پر بھرپور سیاست کی جارہی ہے جو قابلِ افسوس ہے۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیو کلپس ایسے بھی نظر سے گزرے ہیں جن میں کچھ اربابِ اختیار متاثرین کی توہین کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جو کسی طور پر مناسب طرزِعمل نہیں۔
یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سابق وزیراعظم کی حالیہ ٹیلی تھون پر تنقید اپنے عروج پر ہے جب کہ دوسری جانب اس کی حمایت کرنے والے بھی کچھ کم نہیں اور ہر اس شخص پر بیہودہ اور نازیبا تنقید کر رہے ہیں۔ جو صرف یہ سوال کر رہا ہے کہ ٹیلی تھون میں مبینہ طور پر جو 5ارب روپے جمع ہوئے ہیں، وہ کہاں ہیں اور اس امدادی رقم کو کس طرح خرچ کیا جائے گا؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ ملک کی خاطر تمام سیاسی جماعتیں بشمول سماجی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا اور ملک بھر میں جہاں کہیں بھی سیلاب سے تباہی ہوئی ہے، ان پر توجہ دینا ہوگی۔ وہاں اچھی نیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرین کو کم سے کم وقت میں ریلیف مل سکے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج اور ابھی سے ہی ہمیں ملک کی خاطر سوچنا ہوگا، اس ملک کے عوام کے لیے سوچنا ہوگا۔ سیاست نہیں بلکہ عملی طور پر عوام کی خدمت کرنا ہوگی۔
ہندی زبان کےکلاسیکی شاعر کبیر داسؔ نے کیا خوب کہا ہے کہ کال کرے سو آج کر، آج کرے سو اب پل میں پرلے ہوئے گی، بہر کرے گا کب اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ ہندی میں پرلے کو قیامت کہتے ہیں اور جہاں سیلاب کی وجہ سے تباہی آئی ہے اور شہریوں کا سب کچھ سپردِ آب ہوگیا ہے، ان کے لئے یہی قیامت ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے پاکستانی کا نعرہ بلند کیجئے کیوں کہ پاکستانیوں کی وجہ سے ہی پاکستان قائم و دائم ہے۔ سیاست تو ہر دور میں ہوتی رہے گی مگر خدارا ملک کی خدمت کو اولین ترجیح بنائیں۔