فیصلوں پر تنقید کرنا توہین عدالت نہیں ہوتی: اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتوں کی قانونی حیثیت، ان کی عزت و وقار ان کے فیصلوں کے معیار پر منحصر ہے اور عدالتی فیصلوں پر بےجا تنقید توہین نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یہ ریمارکس پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے عدلیہ مخالف بیانات پر ان کے خلاف رواں ہفتے کے اوائل میں دائر کردہ درخواست کو مسترد کرنے کے تفصیلی فیصلے میں سامنے آئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر ایڈووکیٹ سلیم اللہ خان کی جانب سے فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
تفصیلی حکم نامے میں جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی قانونی حیثیت اور اخلاقی اختیار و عمل داری اس کے فیصلوں پر تنقید پر عدالتی پابندیاں عائد کرنے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے فیصلوں کے معیار یا میرٹ پر ہونی چاہیے۔ لہٰذا یہ عدالت نہیں سمجھتی کہ مدعا علیہ (فواد چوہدری) کی جانب سے اس عدالت کے فیصلے پر نامناسب اور غلط فہمی پر مبنی تنقید اس عدالت کی جانب سے انصاف کی فراہمی کو کوئی سنگین یا خاطر خواہ نقصان پہنچائے گی
حکم میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فواد چوہدری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف تضحیک آمیز، حقارت آمیز ریمارکس دیے اور کہا کہ جج کو پی ٹی آئی رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کے معاملے کو نظر انداز کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔عدالت کی جانب سے درخواست گزار سے استفسار پر کہ فواد چوہدری کے خلاف کس نوعیت کی توہین عدالت کی کارروائی کی جائے درخواست گزار نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف فوجداری توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
جسٹس بابر ستار نے نشاندہی کی کہ جج کو اسکینڈلائز کرنے کا جرم عام قانون کے تحت بنایا گیا تھا تاکہ انصاف کی فراہمی کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مجروح نہ کیا جا سکے۔ اس قانون کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی جج یا عدالت کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہو، کسی جج کے خلاف تعصب یا جانبداری کا جھوٹا الزام لگایا گیا ہو یا کسی جج اور عدالت پر دباؤ اور اثر و رسوخ کے تحت فیصلے کرنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا ہو۔
آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے تاہم یہ حق قانون کی جانب سے عائد کردہ کچھ معقول پابندیوں کے تحت قابل استعمال ہے۔ اس حق کے استعمال کے لیے عائدہ کردہ معقول پابندیوں میں سے ایک پابندی توہین عدالت بھی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس میں درخواست گزار نے یہ الزام نہیں لگایا کہ فواد چوہدری نے اپنے بیان میں عدالت میں زیر سماعت معاملے سے متعلق رائے کا اظہار کیا۔ اس طرح کی تقریر فوجداری توہین کے دائرے میں نہیں بلکہ جوڈیشل توہین کے دائرے میں آئے گی۔
عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر تنقید کی بنیاد پر عدالتی توہین کا سوال ہے تو آزادی اظہار کے حق اور انصاف کی فراہمی میں عوامی مفاد کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے عدالت کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کو برقرار رکھنا چاہیے۔