سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے: وزیراعلیٰ سندھ
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔
تباہ کن سیلاب کے دوران سندھ اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں اور سب سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں مجموعی طور پر 578 شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح صوبے میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار 321 ہے جب کہ ملک بھر میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 728 ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبے کی موجودہ صورتحال اور تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو ایک ہونا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قدرتی آفت اور موسمیاتی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین بھی سیلاب کی زد میں آ چکی۔ سندھ میں کسانوں کو تقریباً 3 ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جب کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو 50 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ کچھ علاقوں میں کم از کم 8 سے 10 فٹ پانی ہے۔ جن علاقوں میں سیلابی پانی اتر چکا ہے وہاں بھی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔ پاکستان میں اس سال غیر معمولی بد ترین بارشیں ہوئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال صوبے میں معمول سے 10 سے 11 گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، عام طور پر گڈو اور سکھر کے مقام پر تقریباً 4 لاکھ کیوسک سیلابی ریلا ہوتا ہے۔ حکومت لوگوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے اور صوبے کے نکاسی آب اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے اخراج میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے۔
مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ صوبے کو خیموں اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کے دوران اٹھایا تھا۔
اس دوران دادو کی پیر شاہنواز اور یار محمد کلہوڑو یونین کونسلز کے 150 دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ سیلابی پانی اب دادو شہر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دادو کے ڈپٹی کمشنر سید مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا کہ رنگ بند میں پڑنے والے شگاف سے نمٹنے کے لیے بھاری مشینری طلب کرلی گئی ہے۔
گزشتہ روز دادو شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر دور، پیر شاخ پر رنگ بند میں 500 چوڑا شگاف پڑنے سے پانی دادو شہر کی جانب بڑھنا شروع ہو گیا تھا جس سے راستے میں موجود 300 کے قریب دیہات زیر آب آگئے تھے۔ دادو تعلقہ کے پیر شاہنواز، کمال خان اور یار محمد کلہوڑو کے علاقے سیلاب کے پانی سے متاثر ہوئے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکام نے گزشتہ روز دادو ڈسٹرکٹ جیل سے قیدیوں کو دیگر جیلوں میں بھی منتقل کردیا تھا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دادو کے پیر شاہنواز، یار محمد کلہوڑو کے علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں، پانی دیگر علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور شہری ان علاقوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی بے مثال حمایت پر انتونیو گوتریس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ا نتونیو گوتریس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیلاب متاثرین کے دُکھوں کی آواز بن گئے ہیں۔ پاکستان کو اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ہے
ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ انتونیو گوتریس کی سیلاب متاثرین کی مثالی حمایت پر ان کے شکر گزار ہیں۔ ان کا 2 روزہ دورہ اس انسانی سانحے کے بارے دنیا بھر میں آگاہی پھیلانے میں نہایت اہم رہا۔ ان کی ہمدردی اور قائدانہ خصوصیات نے مجھے متاثر کیا۔
اس دوران نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر نے اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا ہے کہ کشمیر، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، بالائی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ اور گلگت بلتستان میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے جب کہ بارش سے کشمیر، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلگت بلتستان، گلیات اور مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ہیں۔